Book Name:Jahannam Kay Khatrat

ایک ساتھ لپٹ کر سونا یا عورت کا ننگے بدن ہو کر کسی عورت سے معانقہ کرنا۔ یا ایک ساتھ لپٹ کرسونا منع ہے۔ اسی طرح لوٹ مار کرنا حرام ہے اور چیتے، شیر وغیرہ درندوں کی کھال پر بیٹھنااور سوار ہونا ممنوع ہے کیوں کہ درندوں کی کھال پر بیٹھنا متکبرین کا طریقہ ہے اور اس سے دل میں بے رحمی بھی پیدا ہوتی ہے۔

(۶) جو لباس کسی قوم کا مذہبی لباس ہو مسلمان کیلئے اس لباس کو پہننا ممنوع اور ناجائز ہے۔ و  اللہ  تَعَالٰی اعلم۔   

 (۵۳)  قبروں پر پیشاب ، پاخانہ کرنا 

        قبروں پرپیشاب، پاخانہ کرنا، یاکوئی گندگی ڈالناحرام اورگناہ ہے۔ حدیثوں میں رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس کی مذمت فرمائی ہے۔

حدیث : ۱

         حضرت ابو امامہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ جو شخص قبر پر پیشاب، پاخانہ کرنے کیلئے بیٹھا توگویا وہ جہنم کے انگارا پر بیٹھا۔

 (کنزالعمال، کتاب الطہارۃ، من قسم الاقوال، التخلی علی القبر، من الاکمال، الحدیث : ۲۶۴۷۹، الجزء التاسع، ص۱۵۹)

حدیث : ۲

         حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ تم لوگ قبروں پر پیشاب کرنے سے بچو کیونکہ یہ سفید داغ (کوڑھ) کی بیماری پیدا کرتا ہے۔

(کنزالعمال، کتاب الطہارۃ، من قسم الاقوال، التخلی علی القبر، من الاکمال، الحدیث :  ۲۶۴۷۸، الجزء التاسع، ص۱۵۹)

حدیث : ۳

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ تم میں سے کوئی آگ کے انگارہ پر بیٹھے اور وہ تمہارے کپڑوں کو جلا کر تمہاری کھال تک پہنچ جائے یہ اس سے بہت اچھا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی قبر پر بیٹھے ۔  (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب النھی عن الجلوس...الخ، الحدیث : ۹۷۱، ص۴۸۳)   

حدیث : ۴

         حضرت ابو مرثد غنوی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا کہ قبروں پر مت بیٹھو اور قبروں کی طرف منہ کرکے نماز مت پڑھو۔

(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب النھی عن الجلوس...الخ، الحدیث : ۹۷۲، ص۴۸۳)

حدیث : ۵

         حضرت عائشہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ مردہ کی ہڈی کو توڑنا ایسا ہی گناہ ہے۔ جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی کو توڑ دینا گناہ ہے۔        

(سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب فی النھی عن کسر عظام المیت، الحدیث۱۶۱۶، ج۲، س۲۷۸)

حدیث : ۶

         حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ میں انگارایا تلوار پر چلوں یا اپنے پاؤں کے چمڑے کو کاٹ کر اس کا جوتا بناؤں یہ مجھے اس بات سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر کے اوپر چلوں اور میں اس بات میں کوئی فرق نہیں سمجھتا کہ میں قبروں کے بیچ میں پیشاب پاخانہ کروں یا بیچ بازار میں ۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی النھی عن المشی.....الخ، الحدیث :  ۱۵۶۷، ج۲، ص۲۴۹) 

حدیث : ۷

         عمارہ بن حزم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ     صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مجھے ایک قبر کے اوپر بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ تم قبر سے اتر جاؤ اور قبر والے کوایذا مت دو اور وہ تم کو ایذا نہ دے۔(الترغیب والترہیب، کتاب الجنائزوما یتقدمھا، الترہیب من الجلوس...الخ، الحدیث : ۴، ج۴، ص۲۰۲)

مسائل و فوائد

        یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ جن جن چیزوں سے زندوں کو تکلیف اور ایذاء پہنچتی ہے ان ان چیزوں سے مردوں کو بھی تکلیف اور ایذا پہنچتی ہے لہٰذا قبروں پر پیشاب، پاخانہ کرنا یا کوئی گندی چیز ڈالنا یا قبروں کو توڑ پھوڑ کر مسمار کر دینا یا قبروں کو روندنا یا قبروں پر مکان بنانا یا قبروں پر بیٹھنا یا لیٹنا چونکہ ان باتوں سے مردوں کو تکلیف اور ایذا پہنچتی ہے اس لئے یہ سب کام ممنوع و ناجائز ہیں ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسلمانوں کے قبرستانوں کا احترام کریں اور ہر ان باتوں سے پرہیز رکھیں جن سے قبروں کی توہین اور قبروں کو ایذا پہنچتی ہے۔

(۵۴)  کالا خضاب

        بالوں میں کالا خضاب لگانا گناہ اور ناجائز ہے۔ اس بارے میں نیچے لکھی ہوئی چند حدیثیں شاہد عدل ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت جابررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے والد حضرت ابو قحافہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو بارگاہ نبوت میں لایا گیا۔ تو ان کی داڑھی اور سر کے بال ثغامہ گھاس کی طرح بالکل سفید تھے تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ بالوں کی اس سفیدی کو کسی رنگ سے بدل ڈالو اور سیاہی سے بچو( یعنی بالوں کو کالا نہ کرو )۔

(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب استحباب خضاب الشیب