Book Name:Jahannam Kay Khatrat

   

        یہ بھی روایت ہے کہ جہنم میں ایک تنور ہے جو اندر سے بہت چوڑا اور اُوپر سے بہت کم چوڑا ہے اُس میں زنا کار عورتوں اور مردوں کو ڈال دیا جائے گا تو آگ کے شعلوں میں وہ سب جلتے ہوئے تنور کے منہ تک اوپر آ جائیں گے پھر ایک دم وہ شعلے بجھ جائیں گے تو وہ سب اوپر سے نیچے تنور کی گہرائی میں گر پڑیں گے۔(صحیح البخاری، کتاب الجنائز، ۹۳۔باب ، الحدیث۱۳۸۶، ج۱، ص۴۶۷ ملخصاً)

خونیں د ریا کا عذ ا ب

        کچھ دوزخیوں کو خون کے دریا میں ڈال دیا جائے گاتو وہ تیرتے ہوئے کنارہ کی طرف آئیں گے تو ایک فرشتہ ایک پتھر کی چٹان اُن کے منہ پر اِس زور سے مارے گا کہ وہ پھر بیچ دریا میں پلٹ کر چلے جائیں گے ۔ بار بار یہی عذاب اُن کو دیا جاتا رہے گا۔ یہ سود خوروں کا گروہ ہو گا۔(صحیح البخاری، کتاب الجنائز، ۹۳۔باب، الحدیث ۱۳۸۶، ج۱، ص۴۶۷)

گلپھڑے چیرنے کا عذ ا ب

        کچھ لوگوں کو جہنم میں اس طرح عذاب دیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اُن کو لٹا کر ایک سنسی اُن کے منہ میں ڈالے گا اور ایک گلپھڑ ے کو اس قدرپھاڑ دے گا کہ اُس کا شگاف اُس کے سر کے پچھلے حصہ تک پہنچ جائے گا، پھر اِسی طرح دوسرے گلپھڑے کو پھاڑ دے گا جب تک پہلاگلپھڑا درست ہو جائے گا پھر اِس کو پھاڑ دے گااِسی طرح گلپھڑے درست ہوتے رہیں گے اور وہ فرشتہ اُن کو سنسی کی پکڑ سے چیرتا اور پھاڑتا رہے گا۔ یہ جھوٹ بولنے والوں کا گروہ ہو گا۔     (المرجع السابق)   

پتھراؤ کا عذاب

        کچھ جہنمیوں کو اِس طرح کا عذاب دیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اُن کو لٹا کر اُن کے سروں پر ایک پتھر اِس زور سے مارے گا کہ اُن کا سر کچل جائے گا اور وہ پتھر لڑھک کر کچھ دور چلا جائے گا پھر وہ فرشتہ جب تک اُس پتھر کو اُٹھا کر لائے گا اُس کے سر کا زخم اچھا ہو چکا ہو گا پھر وہ پتھر مارے گا تو سر کچل جائے گا اور پتھر پھر لڑھک کر دور چلا جائے گا پھر فرشتہ پتھر اُٹھا کر لائے گا اور پھروہ پتھر مار کراُس کا سر کچل دے گا اِسی طرح لگا تار یہی عذاب ہوتا رہے گا۔(المرجع السابق)

مُنہ نوچنے کا عذ ا ب

         یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ رسول   اللہ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    شب معراج میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو (جہنم میں ) تانبے کے ناخنوں سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ تو آپ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے پوچھا کہ اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جوآدمیوں کا گوشت کھاتے تھے( یعنی لوگوں کی غیبت کرتے تھے )اور لوگوں کی آبروریزی کرتے تھے۔            (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ، الحدیث۴۸۷۸، ج۴، ص۳۵۳)

سانپ بچھو کا عذ ا ب

        حدیث میں ہے کہ عجمی اُونٹوں کے مثل بڑے بڑے سانپ ہوں گے جو جہنمیوں کو ڈستے ہوں گے وہ ایسے زہریلے ہوں گے کہ اگر ایک مرتبہ کاٹ لیں گے تو چالیس برس تک اُن کے زہر کا درد نہیں جائے گا اور لگام لگائے ہوئے خچروں کے برابر بڑے بڑے بچھو دوزخیوں کو ڈنک مارتے رہیں گے کہ ایک مرتبہ اُن کے ڈنک مارنے کی تکلیف چالیس برس تک باقی رہے گی ۔   

(مشکوۃ المصابیح، کتاب صفۃ القیامۃ.....الخ، باب صفۃ النار.....الخ، الفصل الثالث، الحدیث : ۵۶۹۱، ج۳، ص۲۴۰۔ المسند للامام احمدبن حنبل، مسند الشامیین، حدیث عبد   اللہ  بن الحارث، الحدیث۱۷۷۲۹، ج۶، ص۲۱۶)

        بعض دوزخیوں کے گلے میں سانپوں کا طوق پہنا دیا جائے گا جو نہایت ہی زہریلے ہوں گے اور وہ لگاتار کاٹتے رہیں گے۔

حلق میں پھنسنے والے کھا نو ں کا عذ ا ب

        دوزخیوں کو حلق میں پھنسنے والا کھانا کھلایا جائے گا جو اُن کے حلق میں پھنس جائے گا اور اُن کا دم گھٹنے لگے گاتو وہ پانی مانگیں گے اُس وقت اُن کے سامنے اِتنا گرم پانی پیش کیا جائے گا جس کی گرمی کا یہ عالم ہو گا کہ برتن منہ کے سامنے لاتے ہی چہرہ کی پوری کھال جل بھن کر اور پگھل کر برتن میں گر جائے گی اور جب یہ پانی پیٹ میں جائے گا تو پیٹ کے اندر کے تمام اعضاء آنتوں وغیرہ کو جلا کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُن کے پیروں پر گرا دے گا۔ (سنن الترمذی، کتاب صفۃ جہنم ، باب ماجاء فی صفۃ طعام اہل النار، الحدیث۲۵۹۵، ج۴، ص۲۶۳)

          قرآن مجید میں ہے کہ زقوم ( تھوہڑ) کادرخت جہنمیوں کو کھلایا جائے گا۔ (پ۲۵، الدخان : ۴۳، ۴۴)اور حدیث میں ہے کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ زمین پر گر پڑے تو دنیا والوں کے کھانے پینے کی تمام چیزوں کو تلخ اور بدبودار بنا کر خراب کر دے ۔ (سنن الترمذی، کتاب صفۃجہنم، باب ماجاء فی صفۃشراب اہل النار، الحدیث۲۵۹۴، ج۴، ص۲۶۳)       

گرم پا نی ا و ر پیپ کا عذ ا ب

        دوزخیوں کو گرم پانی جو روغن زیتون کے تلچھٹ کی طرح گندہ ہو گا پینا پڑے گاجو منہ کے قریب لاتے ہی چہرے کی پوری کھال کو پگھلا کر گرا دے گا اور یہی گرم پانی اُن کے سروں پر ڈالا جائے گا تویہ پانی پیٹ میں داخل ہو کر پیٹ کے اندر کے تمام اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے قدموں پرگرا دے گا۔

(سنن الترمذی، کتاب صفۃ جہنم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار، الحدیث۲۵۹۰، ۲۵۹۱ج۴، ص۲۶۱)

        اِسی طرح دوزخیوں کو جہنمیوں کے بدن کا پیپ اور پنچھابھی پلایا جائے گا۔ جس کو ’’غساق‘‘ کہتے ہیں ۔ اُس کی بدبو کا یہ حال ہو گا کہ اگر ایک ڈول ’’غساق‘‘ دنیا میں گرا دیا جائے تو تمام دنیا بدبو سے بھر جائے ۔(سنن الترمذی، کتاب صفۃ جہنم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار، الحدیث۲۵۹۳، ج۴، ص۲۶۳)

        الحاصل جہنم میں طرح طرح کے عذابوں کے ساتھ دوزخیوں کو عذاب دیا جائے گا اور جس طرح جنت کی نعمتوں کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اُس کا خیال گزرا ہے اِسی طرح جہنم کے عذابوں کو بھی نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اُس کا خیال گزرا ہے۔ غرض جہنم میں قسم قسم کے ایسے ایسے بے مثل و بے مثال عذابوں کی بھرمار ہو گی کہ دنیا میں اُس کی مثال تو کہاں ، کوئی اُن کو سوچ بھی نہیں سکتا۔ اُوپر جو کچھ ہم نے تحریر کیا ہے وہ صرف سمجھانے کیلئے چند مثالیں لکھ دی ہیں ، ورنہ جو کچھ لکھا گیاہے وہ جہنم کے



Total Pages: 57

Go To