Book Name:Jahannam Kay Khatrat

(۵۰)  ڈاڑھی کٹانا 

        ڈاڑھی منڈانا یا ڈاڑھی کاٹ کر ایک مشت سے کم چھوٹی کرنا حرام و گناہ ہے اور جو ایسا کرے وہ فاسق، اور جہنم کا سزاوار ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔   

حدیث : ۱

         حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا مونچھوں کو جڑ سے کاٹو اور ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ ۔

(سنن الترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی اعفاء اللحیۃ، الحدیث : ۲۷۷۲، ج۴، ص۳۵۰)

حدیث : ۲

         حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مونچھوں کو جڑ سے کاٹنے اور ڈاڑھیوں کے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔

(سنن الترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی اعفاء اللحیۃ، الحدیث : ۲۷۷۳، ج۴، ص۳۵۰)

حدیث : ۳

     حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو ڈاڑھیوں کو بڑھاؤاورمونچھوں کو جڑ سے کاٹو۔

        (صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث۲۵۹، ص۱۵۳)

حدیث : ۴

         حضرت زید بن ارقم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا جو مونچھوں میں سے کچھ بھی نہ کٹائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

          (سنن الترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی قص الشارب، الحدیث : ۲۷۷۰، ج۴، ص۳۴۹)

مسائل و فوائد

        ڈاڑھی ایک مشت سے بڑی ہونے پر اگر بری لگتی ہو اور چہرے کے حسن و جمال کو بگاڑتی ہو تو چہرے کو حسین بنانے کیلئے یا ڈاڑھی کو برابر کرنے کیلئے ڈاڑھی کا کچھ حصہ کاٹنا جائز ہے۔ بشرطیکہ ایک مشت سے کم نہ ہونے پائے (و  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۵۱) مرد انی عورتیں زنانے مرد 

        عورتوں کو مردوں کا لباس پہن کر مردوں جیسی شکل و صورت بنانا اور مردوں کو عورتوں کا لباس پہن کرعورتوں کی شکل میں اپنے کو ظاہر کرنا حرام اورگناہ ہے ان دونوں پر رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے لعنت فرمائی ہے۔

حدیث : ۱

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں ۔ (سنن الترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی المتشبھات بالرجال.....الخ، الحدیث : ۲۷۹۳، ج۴، ص۳۶۰)

حدیث : ۲

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مخنث مردوں پر لعنت فرمائی اور ان عورتوں پر بھی لعنت فرمائی جو عورتیں اپنی صورت مردوں جیسی بنائے رکھتی ہیں ۔ (سنن الترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی المتشبھات بالرجال.....الخ، الحدیث : ۲۷۹۴، ج۴، ص۳۶۰)   

مسائل و فوائد

        آج کل لڑکوں پر جو ہپی کٹ بال کی وبا پھوٹ پڑی ہے اور لڑکے عموماً ہپی کٹ بال کے ساتھ رنگین چھینٹ کے بوشرٹ اور قمیصیں پہن کر نکلتے ہیں تو ان پر لڑکی ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے اسی طرح بہت سی لڑکیاں مردوں کی طرح سوٹ اور کوٹ پہن کر نکلتی ہیں تو ان پر لڑکاہونے کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ اس لئے اس قسم کا لباس پہننا عورتوں اور مردوں دونوں کیلئے ممنوع و باعث لعنت ہے۔ مردوں کو مردوں کا لباس پہننا چاہیے اوران کی وضع قطع مردوں جیسی ہونی چاہیے اور عورتوں کو عورتوں کا لباس پہننا چاہیے اور ان کو اپنی وضع قطع عورتوں جیسی رکھنی چاہیے۔ (و  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۵۲)  ممنوع لباس پہننا 

        جن کپڑوں کو پہننا اور اوڑھنا شریعت میں منع ہے، ان کو استعمال کرنا حرام اور گناہ کا کام ہے لہٰذا ان کو استعمال نہیں کرنا چاہیے اس بار ے میں مندرجہ ذیل حدیثوں کو بغور پڑھئے اور ہدایت کا نور حاصل کیجئے۔

حدیث : ۱

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ   اللہ  تَعَالٰی اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا جو تکبر سے اپنے تہبند کو ٹخنے کے نیچے گھسیٹے ۔(صحیح البخاری، کتاب اللباس ، باب من جرثوبہ من الخیلائ، الحدیث :  ۵۷۸۸، ج۴، ص۴۶)   

حدیث : ۲

 



Total Pages: 57

Go To