Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۷

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بے دیکھے ہوئے کوئی خواب گھڑ کر بیان کرے گا تو قیامت کے دن اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ دو جَو کے درمیان گانٹھ لگائے او ر وہ ہر گز اس کو نہ کر سکے گا اور جو کسی ایسی قوم کی بات کو کان لگا کرسنے گا جو قوم اس کو اپنی بات سنانا ناپسند کرتی ہے تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں پگھلایا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا تو اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اور اس سے کہا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونکو اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہ پھونک سکے گا۔(صحیح البخاری، کتاب التعبیر، باب من کذب فی حلمہ، الحدیث۷۰۴۲، ج۴، ص۴۲۲)

حدیث : ۸

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب پانچ شخصوں کو دیا جائے گا۔

(۱)جس نے کسی نبی کو قتل کر دیا ، یا  (۲)جس کو نبی نے قتل کیا  (۳) جس نے اپنے والدین میں سے کسی کو قتل کر دیا  (۴) تصویر بنانے والا  (۵) وہ عالم جس نے اپنے علم سے کوئی نفع نہیں اٹھایا۔

 (شعب الایمان للبیھقی، باب فی برالوالدین، فصل فی عقوق الوالدین، الحدیث : ۷۸۸۸، ج۶، ص۱۹۷) 

مسائل و فوائد

        جاندار کی تصویروں کو خواہ قلم سے بنائیں یا کیمرے سے فوٹو لیں ، یا پتھر، یا لکڑی پر کھود کر بنائیں ، بہر صورت حرام و ناجائز ہے۔ اسی طرح ان تصویروں کو بیچنا اور خریدنا، یا عزت کے ساتھ اپنے پاس رکھنا بھی حرام و گناہ ہے۔ بعض لوگ اپنے پیروں کی تصویروں کو تعظیم کے ساتھ چوکٹھے میں لگا کر مکانوں میں رکھتے ہیں اوراس پر پھول کی مالائیں چڑھاتے ہیں اور اگر بتی سلگاتے ہیں یہ اور بھی شدید حرام اور سخت گناہ ہے بلکہ یہ بت پرستی کے مثل مشرکانہ عمل ہے جس کی سزا آخرت میں جہنم کا درد ناک عذاب ہے۔ و  اللہ  تَعَالٰی اعلم۔   

(۴۷)  کہنا کچھ اور، کرنا کچھ اور

        دوسروں کو اچھی اچھی باتوں کا حکم دینا اور خود اس پر عمل نہ کرنا یہ بھی گناہ کا کام ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی آیتوں اور حدیثوں میں اس کی مذمت اور ممانعت  بکثرت مذکور ہے۔ خدا وندکریم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۳) (پ۲۸، الصف : ۲۔۳)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جونہیں کرتے کتنی سخت ناپسند ہے   اللہ  کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔

   دوسری آیت میں جھوٹے شاعروں کی مذمت کرتے ہوئے   اللہ  تَعَالٰی نے فرمایاکہ

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ(۲۲۴) اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ(۲۲۵) وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ(۲۲۶) (پ۱۹، الشعراء : ۲۲۴۔۲۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہرنالے میں سرگرداں پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے۔

        اس بارے میں مندرجہ ذیل حدیثوں کو بھی پڑھئے جن سے ہدایت کے چشمے ابل رہے ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ شب معراج میں نے چند آدمیوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں ۔ تو میں نے کہا کہ اے جبرائیل!علیہ السلام  یہ کون لوگ ہیں ؟تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ آپکی امت کے وہ واعظین ہیں جو لوگوں کو نیکو کاری کا حکم دیتے ہیں اور اپنی ذاتوں کو بھول جاتے ہیں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ یہ لوگ آپ     صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کی امت کے واعظین ہیں جو، وہ بات کہتے ہیں جس کو خود نہیں کرتے اور قرآن پڑھتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے ۔

(شرح السنۃ للبغوی، کتاب الرقاق، باب وعید من یامر بالمعروف ولایأتیہ، الحدیث۴۰۵۴، ج۷، ص۳۶۲۔شعب الایمان للبیہقی، باب  فی نشر العلم، الحدیث : ۱۷۷۳، ج۲، ص۲۸۳)

حدیث : ۲

         حضرت اسامہ بن زید  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تو اس کی انتڑیاں جہنم میں نکل پڑیں گی تو وہ اپنی انتڑیوں کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا اپنی چکی کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے۔ تو تمام دوزخی اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ اے فلاں !تیرا کیا حال ہے؟ کیا تو ہم لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے منع نہیں کرتا تھا۔ تو وہ کہے گا کہ میں تم لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اور میں تم لوگوں کو بری باتوں سے منع کرتا تھا مگر خود ان کو کیا کرتا تھا۔         

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب الأمربالمعروف، الفصل الاول، الحدیث :  ۵۱۳۹، ج۳، ص۹۸، صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وانھا مخلوقۃ، الحدیث : ۳۲۶۷، ج۲، ص۳۹۶)

مسائل و فوائد

        مذکورہ بالا آیتوں اورحدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسروں کو امر بالمعروف (اچھی باتوں کا حکم دینا) اور نہی عن المنکر (بری باتوں سے روکنا) اور خود اس پر عمل نہ کرنا گناہ اور عذاب جہنم کا سبب ہے لہٰذا تمام مسلمانوں کو عموما اور واعظین و مقررین کوخصوصاً یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ وہ جو کچھ دوسروں سے کہتے ہیں خود بھی اس پر عمل کریں ’’کہنا کچھ اور کرنا کچھ اور‘‘ یہ گناہ کا کام اور



Total Pages: 57

Go To