Book Name:Jahannam Kay Khatrat

ڈھیلا لیتے ہیں نہ پانی سے دھوتے ہیں اور پیشاب کو اپنے بدن اور کپڑوں میں خشک کر لیتے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت سے پہلے ہی ان کو قبروں میں ضرور عذاب سے پالا پڑے گا۔

(۲)  اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں پر پھول پتی یا ہری گھاس ڈالنے سے مُردوں کو نفع پہنچتا ہے کہ اگر وہ عذاب کے قابل ہوں گے تو ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے گی اور اگر وہ عذاب کے لائق نہ ہوں گے تو انہیں ہری شاخوں کی تسبیح سے انس اور فرحت حاصل ہو گی۔ و  اللہ  تَعَالٰی اعلم

(۴۲) حیض میں ہم بستری

        حیض و نفاس کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری حرام ہے اور عورت کی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک بدن کے کسی حصہ پر بھی ہاتھ لگانا یا اپنے بدن کے کسی حصہ سے اس کو چھونا حرام ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ   (پ۲، البقرۃ : ۲۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان :  اورتم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرما ؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہوحیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہو لیں ۔

        اسی طرح حدیثوں میں بھی بکثرت اس کی حرمت و ممانعت آئی ہے ۔

حدیث : ۱

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو شخص حیض والی عورت سے جماع کرے یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے یا کاہن (نجومی وغیرہ) کے پاس جائے تو اس نے نبی  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر نازل کی ہوئی شریعت کے ساتھ کفر کیا۔(سنن الترمذی، أبواب الطہارۃ، باب ماجاء فی کراہیۃاتیان .....الخ، الحدیث :  ۱۳۵، ج۱، ص۱۸۵)

         مطلب یہ ہے کہ اگر ان کاموں کو حلال جان کر کیا تو وہ یقینا کافر ہو گیا کیونکہ   اللہ     عَزَّ وَجَلَّ    کے حرام کو حلال جاننا کفر ہے اور اگر ان کاموں کو حرام مانتے ہوئے کر لیا تو سخت گنہگار ہو ا اورمسلمان ہوتے ہوئے کفر کا کام کیا۔ و  اللہ  تَعَالٰی اعلم

حدیث : ۲

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ نبی کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو حیض کی حالت میں عورت سے مجامعت کرے تو وہ ایک دینار یا آدھا دینار کفارہ کے طور پر صدقہ دے۔         (سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارۃوسننھا، باب فی کفارۃ من اٰتی حائضاً، الحدیث :  ۶۴۰، ج۱، ص۳۵۴)

حدیث : ۳

         حضرت ام المومنین ام حبیبہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے حضرت سالم نے پوچھا کہ آپ سب امہات المومنین حیض کی حالت میں  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ کیا کرتی تھیں ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم سب حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بیبیاں تہہ بند باندھ کر حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ سویا کرتی تھیں ۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارۃ...الخ، باب ماللرجل من امرأتہ...الخ، الحدیث :  ۶۳۸، ج۱، ص۳۵۳)

مسائل و فوائد

      حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے ساتھ کھانا، پینا اور سونا جائز ہے صرف صحبت کرنا اور ناف سے لے کر گھٹنے تک کے بدن کو چھونا حرام و ناجائز ہے۔ (فقط و  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۴۳) غسل جنابت نہ کرنا

        عورت کے ساتھ ہم بستری کی ہو یا کسی اور طریقے سے شہوت کے ساتھ منی نکل گئی ہو تو غسل کرنا واجب ہے اور اس کو ’’غسل جنابت‘‘ کہتے ہیں ۔غسل جنابت نہ کرنا گناہ ہے۔ اس بارے میں مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھ لیجئے۔

حدیث : ۱

         امیر المومنین حضرت علی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا کہ اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس گھر میں تصویر یا کتایا جنبی (جس پر غسل واجب ہے) موجود ہو۔      (سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ، باب فی الجنب یؤخر الغسل، الحدیث : ۲۲۷، ج۱، ص۱۰۹)

حدیث : ۲

         حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ رحمت کے فرشتے ان کے قریب نہیں ہوتے۔

           (۱) کافر کامردہ       

          (۲) خلوق( عورتوں کی خوشبو لگانے والا)      

           (۳) جنب (بے غسل شخص)(سنن ابی داود، کتاب الترجل، باب فی الخلوق للرجال، الحدیث :  ۴۱۸۰، ج۴، ص۱۰۹)

مسائل و فوائد

        جنب جب تک غسل نہ کر لے اس کیلئے مسجد میں داخل ہونا اور قرآن شریف کا چھونا اور پڑھنا حرام ہے۔ جنابت کی حالت میں بغیر غسل کئے ہوئے کھانا پینا لوگوں سے مصافحہ کرنا جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے غسل نہ کر سکا تو کھانے پینے سے پہلے کم از کم وضو کر لے۔

 



Total Pages: 57

Go To