Book Name:Jahannam Kay Khatrat

        عورتوں کا بے پردہ باہر آنا جانا، اور غیر محرم مردوں سے ملنا جلنا حرام و گناہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ   اللہ  تَعَالٰی نے اپنے مقدس نبی    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کی ازواج مطہرات کو مخاطب بنا کر ارشاد فرمایا :

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى                     (پ۲۲، الاحزاب : ۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان : اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی ۔

        اس بارے میں حدیثوں کے اندر بھی بڑی سخت ممانعت آئی ہے اور وعیدیں بھی دی گئی ہیں ۔   

حدیث : ۱

         حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے کہ عورتوں کے پاس جانے سے اپنے کو بچاؤ۔ تو ایک شخص نے کہا کہ یا رسول  اللہ !   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ       دیور کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟ تو فرمایا کہ دیور تو موت ہے ۔(یعنی دیور بھاوج کے حق میں موت کی طرح خطرناک ہے۔)

 (صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحریم الخلوۃ...الخ، الحدیث : ۲۱۷۲، ص۱۱۹۶)

حدیث : ۲

         حضرت جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ عورت شیطان کی صورت میں آگے آتی ہے اور شیطان کی صورت میں پیچھے جاتی ہے۔ جب تم میں سے کسی کو کوئی عورت اچھی لگ جائے اور دل میں گڑ جائے تو اس کو چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس جا کر اس سے جماع کرلے تو ایسا کرنے سے اس کے دل کا خیال دفع ہو جائے گا۔         

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب النکاح، باب النظر...الخ، الفصل الاول، الحدیث :  ۳۱۰۵، ج۲، ص۲۰۶  صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب ندب من رأی...الخ، الحدیث : ۱۴۰۳، ص۷۲۶)

حدیث : ۳

         حضرت ابن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ عورت چھپانے کے لائق ہے( لہذا اس کو پردہ میں رہنا چاہیے)جب کوئی عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے۔   (سنن الترمذی، کتاب الرضاع، باب۱۸، الحدیث : ۱۱۷۶، ج۲، ص۳۹۲)   

حدیث : ۴

         حضرت امیر المومنین عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے نبی   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   سے روایت کیا ہے کہ جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو ان دونوں کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(سنن الترمذی، کتاب الفتن ، باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ، الحدیث۲۱۷۲، ج۴، ص۶۷)

حدیث : ۵

         حضرت ام سلمہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں اور حضرت میمونہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  دونوں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر تھیں کہ ناگہاں ابن ام مکتوم آ گئے، یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ پردہ کی آیت نازل ہو چکی تھی تو حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ہم دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں ان سے پردہ کرو۔ تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول  اللہ !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کیا وہ اندھے نہیں ہیں ؟ وہ تو ہم کو دیکھتے ہی نہیں پھر ان سے پردہ کیوں کریں ؟ تو حضور   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ کیا تم دونوں اندھی ہو۔ کیا تم دونوں انہیں دیکھ نہیں رہی ہو؟(سنن الترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی احتجاب النسائ...الخ، الحدیث۲۷۸۷، ج۴، ص۳۵۶)

        مطلب یہ ہے کہ مرد اجنبیہ عورت کو دیکھے یہ بھی حرام ہے اور عورتیں مردوں کو دیکھیں یہ بھی حرام ہے اور ہر حرام کام سے بچنا فرض ہے اور حرام کام کو کرنا جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

(۴۱)  پیشاب سے نہ بچنا

        ہر مسلمان مرد اور عورت پر شرعاً لازم ہے کہ وہ اپنے بدن اور کپڑوں کو  پیشاب سے بچائے اور جو اپنے بدن اور کپڑوں کو پیشاب سے نہ بچائے وہ گنہگار اور عذاب کے لائق ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ

حدیث :

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ ان دونوں مُردوں کو عذاب دیا جا رہا ہے۔ اور کسی ایسے گناہ میں ان دونوں کو عذاب نہیں دیا جا رہا ہے جس سے بچنا بہت دشوار رہا ہو۔ ایک تو چھپ کر پیشاب نہیں کرتا تھا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا تھا ۔پھر حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کھجور کی ایک ہری شاخ لی اور اس کو چیر کر دو ٹکڑے کرکے ایک ایک ٹکڑا دونوں قبروں میں گاڑ دیا تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول  اللہ !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  آپ نے ایسا کیوں کیا ؟تو آپ نے فرمایا کہ اس لئے کہ جب تک یہ دونوں ٹہنیاں ہری رہیں گی امید ہے کہ ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے گی۔     

(صحیح البخاری، کتاب الوضو ء ، باب ۵۹، الحدیث :  ۲۱۸، ج۱، ص۹۶۔صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب الدلیل علی نجاسۃ البول...الخ، الحدیث۲۹۲، ص۱۶۷)

مسائل و فوائد                                                           

(۱) اس حدیث سے ان مسلمانوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیے جو عموماً کھڑے کھڑے پیشاب کرتے ہیں اور بوٹ، سوٹ اور خود اپنے آپ پیشاب سے لت پت ہو جاتے ہیں ۔اور پیشاب کے بعد نہ



Total Pages: 57

Go To