Book Name:Jahannam Kay Khatrat

(۳) اور جب کوئی معاہدہ کرے تو عہد شکنی کرے۔       

(۴) اور جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔   (صحیح البخاری، کتاب الجزیۃ والموادعۃ، باب اثم من عاھد ثم غدر، الحدیث۳۱۷۸، ج۲، ص۳۷۰)

حدیث : ۳

         حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ     سے مروی ہے کہ ہر عہد شکنی کرنے والے کی سرین کے پاس قیامت میں اس کی عہد شکنی کا ایک جھنڈا ہو گا۔

(صحیح مسلم، کتاب الجہادوالسیر، باب تحریم الغدر، الحدیث۱۷۳۸، ص۹۵۶)

حدیث : ۴

         حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ جب اولین و آخرین کو   اللہ  تَعَالٰی (قیامت کے دن) جمع فرمائے گا تو ہر عہد توڑنے والے کیلئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الجہادوالسیر، باب تحریم الغدر، الحدیث۱۷۳۵، ص۹۵۵)      

حدیث : ۵

         ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ لوگ اس وقت تک ہلاک نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے لوگوں سے عہد شکنی نہ کریں گے۔

(سنن ابی داود، کتاب الملاحم، باب الامروالنھی، الحدیث۴۳۴۷، ج۴، ص۱۶۶) 

مسائل و فوائد

        ہر عہد اور وعدے کو پورا کرنا مسلمان کیلئے لازم و ضروری ہے اور عہد کو توڑ دینا اور وعدہ خلافی کرنا اگر بغیر کسی عذر شرعی کے ہو تو حرام و گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ و  اللہ  تَعَالٰی اعلم۔

     (۳۹)  اجنبی عورتوں کے ساتھ تنہائی

        اجنبی عورتوں کے ساتھ خلوت اور ان کے ساتھ تنہائی میں ملنا جلنا حرام و گناہ ہے۔ اس مسئلہ میں چند حدیثیں تحریر کی جاتی ہیں تا کہ لوگوں کو ان سے ہدایت نصیب ہو۔

حدیث : ۱

         حضرت امیر المومنین عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ان عورتوں کے گھر جن کے شوہر غائب ہوں سوا ان کے محرموں کے کوئی دوسرا داخل نہ ہو اور اگر کوئی کہے کہ عورت کا دیور، تو سن لو کہ دیور تو موت ہے۔ (یعنی اس سے تو بہت زیادہ خطرہ ہے ) لہٰذا عورت کو دیور سے اس طرح بھاگنا چاہیے جیسے موت سے۔                          

(کنزالعمال، کتاب الحدودمن قسم الأفعال، الخلوۃبالأجنبیۃ، الحدیث : ۱۳۶۱۴، ج۳، الجزء الخامس، ص۱۸۳)

حدیث : ۲

         حضرت ابو عبدالرحمن سلمیرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ جن عورتوں کے شوہر غائب ہوں کوئی شخص ان کے گھروں میں نہ داخل ہو تو عبدالرحمان سلمی نے کہا کہ میرا ایک بھائی یا ایک بھتیجہ جہاد میں چلا گیا ہے اور اس نے مجھے یہ وصیت کر دی ہے کہ میں اس کے گھر میں آیا جایا کروں تو امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کو درہ مارا اور فرمایا کہ گھر میں داخل مت ہوا کروبلکہ دروازے پر کھڑے ہو کر پوچھ لیا کرو کہ کیا تم لوگوں کو کوئی ضرورت ہے؟ کیاتم لوگوں کو کچھ چاہیے؟   

(کنزالعمال، کتاب الحدودمن قسم الأفعال، الخلوۃبالأجنبیۃ، الحدیث : ۱۳۶۱۵، ج۳، الجزء الخامس، ص۱۸۳)

حدیث : ۳

         حضرت عطاء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کا گزر ایک ایسے آدمی کے پاس سے ہوا کہ وہ اپنی عورت سے بات چیت کر رہا تھا تو حضرت امیر المومنین عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ اس کو درہ مارتے ہوئے اس کے اوپر چڑھ بیٹھے۔ تو اس نے گڑ گڑاتے ہوئے کہا کہ اے امیر المومنین! یہ عورت تو میری بیوی ہے توامیر المومنین شرمندہ ہو گئے اور فرمایا کہ( مجھ کو غلط فہمی ہو گئی اور تم کو میں نے غلط سزا دی) لو تم یہ درہ مجھ کو مار کر اپنا قصاص مجھ سے لو۔ تو اس نے کہا کہ اے امیر المومنین!میں نے آپ کو بخش دیا۔   امیر المومنین نے فرمایا کہ اس کی مغفرت تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ لیکن اگر تم چاہو تو معاف کر دو تو اس نے کہا کہ اے امیر المومنین!میں نے آپ کو معاف کر دیا ۔

(کنزالعمال، کتاب الحدودمن قسم الأفعال، الخلوۃبالأجنبیۃ، الحدیث : ۱۳۶۱۹، ج۳، الجزء الخامس، ص۱۸۳)

مسائل و فوائد

        تنہائی میں کسی اجنبی عورت سے بات چیت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ امیر المومنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو یہی خیال ہوا اس لئے آپ نے اس کو درہ مار کر سزا دی۔ لیکن امیرالمومنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے جب اس نے اپنی صفائی پیش کر دی تو امیر المومنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کا اخلاص دیکھو کہ آپ نے ایک معمولی انسان کے سامنے اپنے آپ کو قصاص لینے کیلئے پیش کر دیا۔ وہ تو خیریت ہو گئی کہ اس نے آپ کو معاف کر دیا ورنہ امیر المومنین  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ تو اس کے ہاتھ سے درہ کی مار کھانے کیلئے تیار ہو گئے۔

        اللہُ اَکْبَرْ   ! یہ ہے جانشین پیغمبر حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے عدل و انصاف کا وہ اعلیٰ شاہکار کہ آج اس جمہوریت کے دور میں بھی کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا۔   سُبحٰنَ اللہ! سُبحٰنَ اللہ!صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اخلاص و للہیت کی مثال نہیں مل سکتی۔ و  اللہ  تَعَالٰی اعلم۔

(۴۰)  بے پردگی

 



Total Pages: 57

Go To