Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۶

         حضرت نافع رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  کے پاس آیا اور کہا کہ فلاں آدمی نے آپ کو سلام کہا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ بے شک مجھے خبر پہنچی ہے کہ وہ بدعتی (یعنی قدریہ) ہو گیا ہے۔ تو اگر یہ خبر درست ہو کہ وہ بدعتی ہو گیا ہے تو تم اس سے میرا سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں زمین میں دھنس جانا اور صورتوں کا مسخ ہو جانا، پتھراؤ ہو نا ’’ فرقہ قدریہ ‘‘ والوں میں ہو گا۔        (سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب الخسوف، الحدیث۴۰۶۱، ج۴، ص۳۹۱)

مسائل و فوائد

        مذکورہ بالاآیتوں اورحدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کفارو مشرکین وبددینوں ، بدمذہبوں سے میل و ملاپ و محبت و دوستی کرنا، اور ان لوگوں کو اپنا راز دار بنانا ناجائز و حرام، سخت گناہ کبیرہ اور جہنم کا کام ہے۔ واضح رہے کہ دنیاوی معاملات مثلاً سودا بیچنا خریدنا، مال کا لین دین اور معاملات کی بات چیت کفار و مشرکین اور بددینوں ، بد مذہبوں سے شریعت میں منع نہیں ۔ مگر موالات اور ایسی محبت و دوستی کہ ان کے کفر اور بد مذہبیت سے نفرت ختم ہو جائے یہ یقینا حرام و گناہ اور جہنم کا کام ہے۔ اس زمانے میں بہت سے مسلمان اس بلا میں گرفتار ہیں ۔ انہیں اس گناہ کے کام سے توبہ کرکے اپنی اصلاح کر لینی چاہیے خدا و ند کریم سب کو خیر کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

(۳۷)  بہتان

        کسی بے قصور شخص پر اپنی طرف سے گھڑ کر کسی عیب کا الزام لگانا یہ بہتان ہے۔ جو سخت حرام اور گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے خداو ند قدو س نے قرآن مجید میں اپنے حبیب  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو حکم فرمایا کہ مسلمان عورتوں سے چند باتوں کی بیعت لیں ۔ انہی باتوں میں یہ بھی ہے کہ وہ بہتان نہ لگائیں ۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے :     

وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ  (پ۲۸، الممتحنۃ : ۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں ۔

         حدیث شریف میں اس کو گناہ کبیرہ فرمایا گیا ہے چنانچہ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے گناہ کبیرہ کی فہرست بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

         ’’وقذف المحصنات المومنات الغافلات‘‘ یعنی پاک دامن مومن انجان عورتوں کو تہمت لگانا۔(صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول   اللہ  ان الذین یاکلون...الخ، الحدیث۲۷۶۶، ج۲، ص۲۴۲، ۲۴۳) 

حدیث : ۱

         امیر المومنین حضرت علی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ کسی بے قصور پر بہتان لگانا یہ آسمانوں سے بھی زیادہ بھاری گناہ ہے۔           

(کنز العمال، کتاب الاخلاق، باب البہتان، الحدیث۸۸۰۶، ج۳، ص۳۲۲)

حدیث : ۲

         حضرت حذیفہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ کسی پاک دامن عورت پر زِنا کا بہتان لگانا ایک سو برس کے اعمال صالحہ کو غارت و برباد کر دیتا ہے۔

مسائل و فوائد

        زِنا کے علاوہ کسی دوسرے عیب کا مثلاً کسی پر چوری یا ڈاکہ یا قتل وغیرہ کا اپنی طرف سے گھڑ کر الزام لگا دینا یہ بھی بہتان ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔ لہٰذا ہر طرح کے بہتانوں سے بچنا ضروری ہے۔

   اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۳۸)   وعدہ خلافی

        وعدہ خلافی اور عہد شکنی بھی حرام اور گناہ کبیرہ ہے کیوں کہ اپنے عہد اور وعدہ کو پورا کرنا مسلمان پر شرعاً واجب و لازم ہے۔    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   نے قرآن مجید میں فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ    (پ۶، المائدۃ : ۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والواپنے قول پورے کرو۔

  دوسری آیت میں یوں ارشاد فرمایا :

اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان : بیشک عہد سے سوال ہونا ہے ۔

حدیث : ۱

         حضرت عبد  اللہ  بن عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے اس پر   اللہ  اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا نہ نفل۔ (صحیح البخاری، کتاب الجزیۃ والموادعۃ، باب اثم من عاھدثم غدر، الحدیث۳۱۷۹، ج۲، ص۳۷۰)

حدیث : ۲

         حضرت عبد  اللہ  بن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ چار باتیں جس شخص میں ہوں وہ خالص منافق ہو گا :

(۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۔   

(۲)اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔    

 



Total Pages: 57

Go To