Book Name:Jahannam Kay Khatrat

قرآن کنزالایمان کے مطابق اور(8)آخر میں مآخذ و مراجع کی فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔

        ان تمام امور کو ممکن بنانے کے لیے ’’مجلس المدینۃ العلمیۃ‘‘ کے مَدَنی علماء  دامت فیوضھم   نے بڑی محنت ولگن سے کام کیا اور حتی المقدور اس کتاب کو احسن انداز میں پیش کرنے کی سعی کی ۔   اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   ان کی یہ محنت اور سعی قبول فرمائے، انہیں جزائے جزیل عطا فرمائے اور اخلاص واستقامت کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق مرحمت فرمائے۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

                                              شعبہ تخریج (مجلس المدینۃ العلمیۃ)

 بِسْمِ   اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

جہنم کیا ہے

          اللہ  تَعَالٰی نے کافروں ، مشرکوں ، منافقوں اور دوسرے مجرموں اور گناہ گاروں کو عذاب اور سزا دینے کیلئے آخرت میں جو ایک نہایت ہی خوفناک اور بھیانک مَقام تیار کر رکھا ہے اُس کا نام ’’ جہنم‘‘ ہے اور اُسی کو اُردو میں ’’دوزخ‘‘ بھی کہتے ہیں ۔

جہنم کہاں ہے

       ایک قول یہ ہے کہ ’’دوزخ‘‘ ساتویں زمین کے نیچے ہے۔  (شرح العقائد النسفیۃ، قولہ والجنۃ حق...الخ، حاشیہ۹، ص۱۰۵)

جہنم کے طبقا ت

  قرآن مجید کی آیت مبارکہ ہے :

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍؕ-لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠(۴۴)                      (پ۱۴، الحجر : ۴۴)

ترجمۂ کنز الایمان :  اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لئے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہواہے۔

        ا س آیت کی تفسیر میں مفسرین کا قول ہے کہ جہنم کے سات طبقات ہیں جن کے نام یہ ہیں :

            (۱) جَہَنَّم   (۲) لَظٰی   (۳) حُطَمَہ   (۴) سَعِیْر   (۵) سَقَر         (۶) جَحِیْم   (۷) ہَاوِیَہ       

        پوری آیت کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ شیطان کی پیروی کرنے والے بھی سات حصوں میں منقسم ہیں ان میں سے ہر ایک کیلئے جہنم کا ایک طبقہ معین ہے۔  

        (حاشیۃ الصاوی علی الجلالین، ج۳، ص۱۰۴۳، پ۱۴، الحجر : ۴۴)

جہنم کی خوفناک شکل

        حدیث شریف میں ہے کہ جہنم جب قیامت کے دن اپنی جگہ لائی جائے گی تو اس کو ستر ہزار لگامیں لگائی جائیں گی اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے کھینچتے ہوں گے۔  

(صحیح مسلم، کتاب الجنۃوصفۃ...الخ، باب فی شد ۃحر جہنم ، الحدیث ۲۸۴۲، ص۱۵۲۳)

جہنم کا داروغہ

          جہنم کے داروغہ کا نام ’’مالک‘‘علیہ السلام ہے ۔یہ ایک فرشتہ ہیں اِ ن ہی کے زیر اہتمام دوزخیوں کو ہر قسم کا عذاب دیا جائے گا۔

عذاب جہنم کی چند صورتیں

        جہنم میں دوزخیوں کو طرح طرح کے خوفناک اور بھیانک عذا ب میں مبتلا کیا جائے گا۔ اُن عذابوں کی قسموں اور اُن کی کیفیتوں کو خداو ند ِ علامُ الغیوب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جہنم میں دی جانیوالی سزاؤں کو دنیا میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ عذاب کی چندصورتیں ہیں جن کا حدیثوں میں تذکرہ آیا ہے اُن میں سے بعض یہ ہیں ۔  

 آگ کا عذ ا ب

           دوزخیوں کو جہنم کی آگ میں بار بار جلایا جائے گا جب وہ جل بھن کر کوئلہ ہو جائیں گے تو پھر دوبارہ ان کو نئے گوشت اور نئے چمڑے کے ساتھ زندہ کیا جائے گا  اور پھر اُن کو آگ میں جلایا جائے گا یہ عذاب بار بار ہوتا رہے گا۔جہنم کی آگ کی گرمی کا یہ عالم ہے کہ حضور اکرم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ فرشتوں نے ایک ہزار برس تک جہنم کی آگ کو بھڑکایا تو وہ سرخ ہو گئی، پھر دوبا رہ ایک ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو وہ سفید ہو گئی، پھر تیسری بار جب ایک ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو وہ کالے رنگ کی ہو گئی تو وہ نہایت ہی خوفناک سیاہ رنگ کی ہے۔          

 (سنن الترمذی، کتاب صفۃ جہنم، باب منہ، الحدیث۲۶۰۰، ج۴، ص۲۶۶) 

        ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جہنم کی آگ کی گرمی دُنیا کی آگ کی گرمی سے اُ نہتر درجے زیادہ ہے۔  (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃالنار...الخ، الحدیث۳۲۶۵، ج۲، ص۳۹۶)  

        ایک دوسری حدیث میں یہ بھی ہے کہ جہنم میں آگ کا ایک پہاڑ ہے جس کی بلندی ستر برس کا راستہ ہے، اس پہاڑ کا نام صعود ہے۔ دوزخیوں کو اس کے اُوپر چڑھایا جائے گا توستر برس میں وہ اُس کی بلندی پر پہنچیں گے پھراُن کو اُوپر سے گرایا جائے گا تو ستر برس میں نیچے پہنچیں گے۔ اِسی طرح ہمیشہ عذاب دیا جاتا رہے گا۔

(مشکوۃ المصابیح، کتاب صفۃ القیامۃ...الخ، باب صفۃالنار...الخ، الفصل الثانی، الحدیث : ۵۶۷۷، ج۳، ص۲۳۶۔سنن الترمذی، کتاب صفۃ جہنم، باب فی صفۃ قعر جہنم، الحدیث۲۵۸۵، ج۴، ص۲۶۰)         

        یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ دوزخی جہنم کی آگ میں جھلس کر ایسے مسخ ہو جائیں گے کہ اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچ جائے گا اوراسی طرح نچلا ہونٹ لٹک کر ناف تک پہنچ جائے گا۔

( سنن الترمذی، کتاب صفۃ جہنم، باب ما جاء فی صفۃ طعام  اہل النار، الحدیث۲۵۹۶، ج۴، ص۲۶۴)

 



Total Pages: 57

Go To