Book Name:Jahannam Kay Khatrat

        دشمنان اسلام یعنی کافروں ، مشرکوں ، مرتدوں اور بدمذہبوں سے دوستی کرنا اور ان سے میل جول اور محبت رکھنا حرام و گناہ اور جہنم میں جانے کا کام ہے۔ ا س بارے میں قرآن مجید کی بہت سی آیتیں نازل ہوئیں اور  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنی مقدس حدیثوں میں بڑی سختی کے ساتھ اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل چند آیتوں کو بغور پڑھیے اور ان سے ہدایت کا نور حاصل کیجئے

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ (پ۳، اٰل عمران : ۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان : مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اسے   اللہ  سے کچھ علاقہ نہ رہا۔   

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَتَّخِذُوْا  بِطَانَةً  مِّنْ  دُوْنِكُمْ  لَا  یَاْلُوْنَكُمْ  خَبَالًاؕ-وَدُّوْا  مَا  عَنِتُّمْۚ-قَدْ  بَدَتِ  الْبَغْضَآءُ  مِنْ  اَفْوَاهِهِمْ ﭕ وَ  مَا  تُخْفِیْ  صُدُوْرُهُمْ  اَكْبَرُؕ

(پ۴، اٰل عمرٰن : ۱۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمہاری برائی میں گئی(کمی) نہیں کرتے انکی آرزو ہے جتنی ایذا تمہیں پہنچے بیران کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا  ہے۔

 ایک دوسری آیت میں یوں ارشاد فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَۚ    (پ۶، المآئدہ : ۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو جنہوں  نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا لیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور کافر ان میں کسی کو اپنادوست نہ بناؤ۔

 ایک دوسری آیت میں یہ فرمایا :

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ﳲ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ

(پ۵، النسآء : ۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور بیشک   اللہ  تم پر کتاب میں اتار چکا کہ جب تم   اللہ  کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو۔

        ان آیتوں کے بعد اس مضمون کی چند حدیثیں بھی پڑھ لیجئے ۔

حدیث : ۱

         حضرت ابو سعیدرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم مسلمان کے سوا کسی اور کو ساتھی نہ بناؤاور    پرہیز گار کے سوا کوئی تمہارا کھانا نہ کھائے۔(سنن ابی داود، کتاب الآداب، باب من یؤمران یجالس، الحدیث۴۸۳۲، ج۴، ص۳۴۱)

حدیث : ۲

         حضرت ابوہریرہ رضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا ہے کہ آخری زمانے میں کچھ ایسے جھوٹے مکار لوگ ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی باتیں لائیں گے کہ ان باتوں کونہ تم نے سنا ہو گا نہ تمہارے باپ دادوں نے تو ایسے لوگوں سے تم اپنے کو اور ان کو اپنے سے بچاؤتاکہ وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔  (صحیح مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء ...الخ، الحدیث۷، ص۹)

حدیث : ۳

         حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ’’فرقہ قدریہ‘‘ اس امت کے مجوسی ہیں اگر وہ بیمار ہو جائیں تو تم لوگ ان کی بیمار پرسی نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو تم لوگ ان کے جنازہ پر مت حاضر ہوا کرو۔  (سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث۴۶۹۱، ج۴، ص۲۹۴)

حدیث : ۴

         امیر المومنین حضرت عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      نے فرمایا کہ تم لوگ فرقہ قدریہ کی صحبت میں نہ بیٹھو اور ان سے سلام و کلام کی ابتدا نہ کرو۔  (سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث :  ۴۷۱۰، ج۴، ص۳۰۲)

حدیث : ۵

        حضرت عائشہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ اسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ چھ آدمیوں پر میں نے لعنت کی ہے اور   اللہ  نے لعنت کی ہے اور ہر نبی  علیہ السلام نے لعنت کی ہے۔وہ چھ آدمی یہ ہیں

(۱)  اللہ    عَزَّ وَجَلَّ    کی کتاب میں کچھ بڑھا دینے والا (۲)    اللہ     عَزَّ وَجَلَّ    کی تقدیر کو جھٹلانے والا (۳)زبردستی غلبہ حاصل کرنے والا تا کہ وہ ان لوگوں کو عزت دے جنہیں خدا   عَزَّ وَجَلَّ   نے ذلیل کر دیا ہے اور ان لوگوں کو ذلیل کرے جنہیں خدا   عَزَّ وَجَلَّ   نے عزت دی ہے (۴)خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کے حرام کو حلال ٹھہرانے والا (۵) میری اولاد سے وہ سلوک حلال سمجھنے والا جو  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   نے حرام کیا ہے  (۶)میری سنت کو چھوڑ دینے والا۔           (سنن الترمذی، کتاب القدر، باب۱۷، الحدیث۲۱۶۱، ج۴، ص۶۱)

 



Total Pages: 57

Go To