Book Name:Jahannam Kay Khatrat

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَاۚ-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠(۴۸)  (پ۱۷، الحج : ۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور کتنی بستیاں کہ ہم نے ان کو ڈھیل دی اس حال پر کہ وہ ستم گار تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا اور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔

         اس مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن مجید میں ہیں جو اعلان کر رہی ہیں کہ ظلم کرنے والوں کیلئے دنیا میں بھی ہلاکت و بربادی ہے اور آخرت میں بھی ان کیلئے   درد ناک عذاب ہے۔ چنانچہ بہت سی آیتوں میں بار بار ارشاد فرمایا :

وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۲۱)  (پ۲۵، الشورٰی : ۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور بے شک ظالموں کیلئے درد ناک عذاب ہے۔

      اور ایک آیت میں یوں فرمایا :

اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ(۴۵) (پ۲۵، الشورٰی : ۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان :  سنتے ہو بیشک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں ہیں ۔

        اِسی طرح حدیثوں میں بھی ظلم کی مذمت و ممانعت بکثرت بیان کی گئی ہے۔   

حدیث : ۱

    حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ بے شک  اللہ  تَعَالٰی  ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے تو پھر اس کو چھٹکارا نہیں دیتا ہے۔ پھر حضور   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے یہ آیت پڑھی :

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ      (پ۱۲ ، ھود : ۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر۔

(صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب وکذلک أخذ ...الخ، الحدیث : ۴۶۸۶، ج۳، ص۲۴۷)

حدیث : ۲

         حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ جب حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مَقامِ حجر یعنی قوم عاد وثمود کی بستیوں میں سے گزرے تو فرمایا کہ اے لوگو! اِن ظالموں کے گھروں میں روتے ہوئے داخل ہونا۔ کیونکہ یہ خوف ہے کہ کہیں تم کو بھی وہی عذاب نہ پہنچ جائے جو اِن ظالموں کو پہنچا تھا یہ فرمایا پھر اپنے سر پر کپڑا ڈال کر بڑی تیزی کے ساتھ چلے اور اُس وادی سے گزر گئے۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب نزول النبی الحجر، الحدیث :  ۴۴۱۹، ج۳، ص۱۴۹)

حدیث : ۳

         حضرت جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ تم لوگ ظلم کرنے سے بچتے رہو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیرے میں رہنے کا سبب ہے اور بخیلی سے بھی بچتے رہو اس لئے کہ بخیلی نے تم سے پہلوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ان کی بخیلی ہی نے اُن کو اِس بات پر اُبھارا تھا کہ انہوں نے اپنے خونوں کو بہایا اور حرام چیزوں کو حلال ٹھہرا یا ۔     

 (صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ...الخ، باب تحریم الظلم، الحدیث : ۲۵۷۸، ص۱۳۹۴)

حدیث : ۴

         امیر المومنین حضرت علی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول    اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      نے فرمایا کہ تم اپنے کو مظلوم کی بددُعا سے بچاؤ۔ اس لئے کہ وہ   اللہ  تَعَالٰی سے اپنے حق کا سُوال کرے گا اور   اللہ  تَعَالٰی کسی حق والے کے حق کو روکتا نہیں ہے۔ (شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ اولی الامر، فصل فی ذکرماورد من التشدید فی الظلم، الحدیث۷۴۶۴، ج۶، ص۴۹)

حدیث : ۵

         حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ جو شخص کسی مقدمہ میں کسی ظالم کی مدد کرے تو وہ ہمیشہ   اللہ     عَزَّ وَجَلَّ   کے غضب میں رہے گایہاں تک کہ اس سے الگ ہو جائے ۔    

(کنزالعمال، کتاب الأخلاق من قسم الأقوال، الظلم والغضب، الحدیث :  ۷۵۹۱، ج۲، الجزء الثالث، ص۲۰۰)

حدیث : ۶

         حضرت اوس بن شرحبیل رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جو شخص ظالم کے ساتھ اس کو ظالم جانتے ہوئے اس کی مدد کیلئے نکلا تو وہ اسلام (کامل) سے نکل گیا۔

(کنزالعمال، کتاب الأخلاق من قسم الأقوال، الظلم والغضب، الحدیث : ۷۵۹۳، ج۲، الجزء الثالث، ص۲۰۰)

مسائل و فوائد

        کسی شخص کے ساتھ ظلم کرنا، اور کسی بھی قسم کا ظلم کرنا بہت شدید گناہ کبیرہ اور عذاب جہنم میں مبتلا کرنے والا کام ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو لازم ہے کہ جہنم کے اس خطرہ کو اپنے قریب نہ آنے دے ورنہ دنیا و آخرت میں ہلاکت و بربادی اتنی ہی یقینی ہے جتنا کہ آگ کا انگارہ ہاتھ میں لینے کے بعد جلنا یقینی ہے۔( و  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۳۶)  دُ شمنا نِ اِسلام سے د وستی 

 



Total Pages: 57

Go To