Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۳

        حضرت عبدالرحمن بن عوف  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے رسول    اللہ      صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ  اللہ  تَعَالٰی  فرماتا ہے کہ میں    اللہ   ہوں اور میں رحمن ہوں ، میں نے رشتوں کو پیدا کیا ہے۔ اور اپنے نام سے اس کے نام کو مشتق کیا ہے۔ تو جو شخص رشتہ کو ملائے گا میں اس کو ملاؤں گا اور جواس کو کاٹ دے گا۔ میں اس کو کاٹ دوں گا۔

(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی قطیعۃ الرحم، الحدیث۱۹۱۴، ج۳، ص۳۶۳)

حدیث : ۴

        حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا ہے کہ تم لوگ اپنے نسب ناموں کو جان لو۔ تا کہ اس کی وجہ سے تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ یقین جانو کہ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا یہ گھر والوں میں محبت اور مال میں زیادتی، اور عمر میں درازی کا سبب ہے۔

                   (سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی تعلیم النسب، الحدیث۱۹۸۶، ج۳، ص۳۹۴) 

 (۳۳)  پڑوسیوں کے ساتھ بد سلوکی

          اللہ  تَعَالٰی نے رشتہ داروں کے علاوہ پڑوسیوں ، ساتھیوں ، اور دوستوں کے ساتھ بھی نیک اور اچھے برتاؤ کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا یہ جنت میں لے جانے والا عمل ہے اور ان لوگوں کے ساتھ بدسلوکی و ایذا رسانی کرنا حرام و گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا کہ

وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶) (پ۵، النساء : ۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک   اللہ  کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا۔

        اسی طرح احادیث میں ہے کہ

حدیث : ۱

        حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا کہ خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کی قسم! وہ مومن نہیں ہو گا خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کی قسم! وہ مومن نہیں ہوگا خدا    عَزَّوَجَلَّ   کی قسم! وہ مومن نہیں ہوگا تو کسی نے کہا کہ کون؟ یا رسول  اللہ !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    تو فرمایا کہ وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے بے خوف نہ ہو۔      

(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب اثم من لایأمن جارہ...الخ، الحدیث :  ۶۰۱۶، ج۴، ص۱۰۴)

     مطلب یہ ہے کہ کامل درجے کا مسلمان اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی شرارتوں سے بے خوف نہ ہو جائیں ۔

حدیث : ۲

       حضرت عائشہ و حضرت ابن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا حضرت جبرائیل  علیہ السلام   ہمیشہ پڑوسی کے متعلق مجھے وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب یہ پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے۔(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب الوصاۃ بالجار، الحدیث : ۶۰۱۴و۶۰۱۵، ج۴، ص۱۰۴)

حدیث : ۳

        حضرت ابن عمرو  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ رسو ل   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا تمام ساتھیوں میں    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے نزدیک سب سے بہتر وہ ساتھی ہے جو اپنے ساتھیوں کیلئے بہترین ہو، اور تمام پڑوسیوں میں    اللہ     عَزَّ وَجَلَّ   کے نزدیک وہ پڑوسی بہتر ہے جو اپنے پڑوسیوں کیلئے بہترین ہو۔ ( سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی حق الجوار، الحدیث۱۹۵۱، ج۳، ص۳۷۹)

حدیث : ۴

         حضرت ابن عباس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے کہا کہ میں نے  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ مومن نہیں جو خودپیٹ بھر کر کھا لے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہ جائے۔   (شعب الایمان للبیھقی، باب فی المطاعم والمشارب، فصل فی ذم کثرۃ الاکل، الحدیث۵۶۶۰، ج۵، ص۳۱)   

حدیث : ۵

        حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول  اللہ !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فُلانی عورت کی نماز و روزہ اور صدقہ کا بڑا چرچا ہوتا رہتا ہے مگر وہ اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ا یذا دیتی رہتی ہے۔ تو ارشاد فرمایا کہ یہ عورت جہنمی ہے تو اس آدمی نے کہا کہ فُلانی عورت کے روزہ و نماز اور صدقہ میں کمی کا چرچا ہے۔ وہ صرف پنیر کی ٹکیوں کو صدقہ میں دیا کرتی ہے مگر وہ اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی ہے۔ تو حضور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے ارشاد فرمایا کہ وہ عورت جنتی ہے۔

  (المسندلامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث۹۶۸۱، ج۳، ص۴۴۱)

(۳۴) جانوروں کو ستا نا

       

Total Pages: 57

Go To