Book Name:Jahannam Kay Khatrat

        روزہ شریعت کی اصطلاح میں مسلمان کا بہ نیت ِ عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے، جماع سے باز رکھنے کا نام ہے۔ عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ بلا عذرِ شرعی روزہ چھوڑ دینا گناہ عظیم اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

(۳۰) حج چھوڑ دینا

        جس شخص پر حج فرض ہے اس کو لازم ہے کہ فوراً ہی حج کو جائے۔ حج پر قادر ہوتے ہوئے حج کو چھوڑ دینا گناہ کبیرہ ہے۔   اللہ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ

وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ-وَ  مَنْ  كَفَرَ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  غَنِیٌّ  عَنِ  الْعٰلَمِیْنَ(۹۷)(پ۴، اٰل عمران : ۹۷)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور   اللہ  کیلئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو   اللہ  سارے جہان سے بے پرواہ ہے۔   

        دوسری آیت میں ارشاد ہوا :

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ    (پ۲، البقرۃ : ۱۹۶)

ترجمۂ کنزالایمان : اورحج اور عمرہ   اللہ  کیلئے پورا کرو۔

حدیث :

        امیرالمومنین حضرت علی  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جو شخص سُواری اور اتنے توشہ کا مالک ہو گیاکہ وہ اسے بیت   اللہ  تک پہنچا دے پھر اس نے حج نہیں کیا توکچھ فرق نہیں ہے کہ وہ یہودی ہوتے ہوئے مرے یانصرانی ہوتے ہوئے اور یہ اس لئے ہے کہ   اللہ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ   اللہ  ہی کیلئے لوگوں پر بیت ُ   اللہ  کا حج ہے جو بیت ُ   اللہ  تک راستہ کی طاقت رکھے۔(سنن الترمذی، کتاب الحج، باب ماجاء من التغلیظ فی ترک الحج، الحدیث :  ۸۱۲، ج۲، ص۲۱۹)

مسائل و فوائد

        حج اسلام کا پانچواں رکن اور بہت اہم فریضہ ہے اور جب حج فرض ہو جائے تو فوراً حج کر لینا لازم ہے جس قدر دیر کرے گا ہر لمحہ گنہگار ہوتا رہے گا۔

(۳۱)حقوق العباد نہ اد ا کرنا

        بندوں کے حقوق کا ادا کرنا بھی ہر مسلمان پر فرض ہے اور بندوں کے حقوقِ واجبہ نہ ادا کرنا گناہ کبیرہ ہے جو صرف توبہ کرنے سے معاف نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ضروری ہے کہ توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ یا تو حقوق ادا کر دے یا صاحبان حقوق سے حقوق معاف کرا لے کیوں کہ جب تک بندے نہ معاف کر دیں ۔   اللہ  تَعَالٰی اس کو معاف نہیں فرمائے گا۔

   حدیث شریف میں ہے کہ’’ فاتوا کل ذی حق حقہ ‘‘  یعنی ہر حق والے کا حق ادا کرو۔(صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب من اقسم علی اخیہ...الخ، الحدیث : ۱۹۶۸، ج۱، ص۶۴۷)

        آج کل بہت سے مسلمان دوسروں کے مال و سامان اور زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں اور دوسروں کا حق غصب کر لیتے ہیں ۔ بہت سے لوگ قرض لے کر اس کو ادا نہیں کرتے بعض لوگ مزدوروں کی مزدوری ملازموں کی تنخواہ دبا کر بیٹھ رہتے ہیں یہ سب حقوق العباد ہیں ۔ جو ان حقوق کو ادا نہ کرے گا یا نہ معاف کرائے گا۔ آخرت میں اس کا ٹھکانا جہنم میں ہو گا۔

        اسی طرح مسلمان پر اس کے ماں باپ، بھائیوں بہنوں ، بیوی بچوں ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں وغیرہ کے حقوق ہیں کہ سب کے ساتھ نیک سلوک کرے اگر ان لوگوں کے حقوق کو نہ ادا کرے گا تو قیامت کے دن حقوق العباد میں ماخوذ اور عذاب جہنم میں گرفتار ہو گا۔  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

نوٹ :   حقوق کا مفصل بیان ہماری کتاب ’’ جنتی زیور‘‘  میں پڑھئے جو بہت ہی جامع اور ایمان افروز کتاب ہے اور اس میں مسلم معاشرہ کی اصلاح کیلئے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔

(۳۲) رشتہ داریوں کو کاٹ د ینا

          اللہ  تَعَالٰی نے خاندانی و سسرالی رشتہ داریوں کو اپنی نعمت بتایا ہے جس سے انسانوں کو نوازا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ تم رشتہ داریوں کو جانو پہچانو اور ان رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک اور نیک برتاؤ کرتے رہو اور  اللہ  تَعَالٰی  نے ان رشتہ داروں سے بگاڑ اور قطع تعلق کو حرام فرمایا ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ ان رشتہ داریوں کو نہ کاٹو۔ یعنی ایسا مت کروکہ بھائیوں اوربہنوں ، چچاؤں ، پھوپھیوں ، بھتیجوں ، بھانجوں اورنواسوں وغیرہ سے اس طرح کا بگاڑ کر لو کہ یہ کہہ دو کہ تم میری بہن نہیں اور میں تمہارا بھائی نہیں اور یہ کہہ کر بالکل رشتہ داری کا تعلق ختم کر لو۔ ایسا کرنے کو ’’قطع رحم‘‘ اور ’’رشتہ کاٹنا‘‘ کہتے ہیں ۔ یہ شریعت میں حرام اور بڑاسخت گناہ کا کام ہے اور اس کی سزا جہنم کا درد ناک عذاب ہے۔ چنانچہ   اللہ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳) (پ۲۶، محمد : ۲۲۔۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان :  تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر   اللہ  نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔

        اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :

حدیث : ۱

        حضرت عبد  اللہ  بن ابی او فیٰ نے کہا کہ میں نے  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اُس قوم پر رحمت نہیں نازل ہوتی جس قوم میں کوئی  رشتہ داریوں کوکاٹنے والا موجود ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلۃ، الفصل الثانی، الحدیث :  ۴۹۳۱، ج۳، ص۶۱۔شعب الایمان للبیھقی، باب فی صلۃ الارحام، الحدیث ۷۹۶۲، ج۶، ص۲۲۳)   

حدیث : ۲

         حضرت عبد  اللہ  بن عمر و رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ تین شخص جنت میں نہیں داخل ہوں گے۔ (۱) احسان کرکے احسان جتانے والا (۲) اپنی ماں کی نافرمانی اور ا یذا رسانی کرنے والا  (۳) ہمیشہ شراب پینے والا۔    (سنن النسائی، کتاب الاشربۃ، باب الروایۃ فی المدمنین فی الخمر،

Total Pages: 57

Go To