Book Name:Jahannam Kay Khatrat

(۱۸) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہے۔

(۱۹) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے۔

(۲۰) مریض کی تیمارداری کہ وہ اکیلا گھبرائے گا ۔ یہ سب ترک جماعت کیلئے عذر ہیں ۔ (بہارشریعت، ترک جماعت کے اعذار، ج۱، حصہ ۳، ص۱۳۱)

(۲۵) نمازی کے آگے سے گزرنا 

        کسی نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنا گناہ ہے۔ حدیثوں میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔

 حدیث : ۱

        حضرت ابو جہیم  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ اگر نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر  کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کیلئے چالیس تک کھڑا رہنا اس سے بہتر ہوتا کہ نمازی کے آگے سے گزرے۔ اس حدیث کے راوی ا بو النضر نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن فرمایا، یا چالیس مہینے، یا چالیس برس فرمایا۔

(صحیح البخاری، کتاب الصلوۃ، باب اثم الماربین...الخ، الحدیث :  ۵۱۰، ج۱، ص۱۸۹)   

حدیث : ۲

        حضرت ابو سعید  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو سُترہ نہ بنا کر نماز پڑھے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کا اِرادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ اس کو دفع کرے۔ پھر بھی اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑائی کرے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔           

(صحیح البخاری، کتاب الصلوۃ، باب یرد المصلی من مربین یدیہ، الحدیث :  ۵۰۹، ج۱، ص۱۸۹)

مسائل و فوائد 

        نمازی کو چاہیے کہ اگر میدان میں نماز پڑھے تو اپنے آگے کسی چیز کو سُترہ بنا کر نماز پڑھے اور گزرنے والے کو چاہیے کہ سُترہ کے باہر سے گزرے۔ اور اگر میدان یا مسجد میں بلاسُترہ کے نماز پڑھ رہا ہو۔ اور کوئی آگے سے گزرنے لگے تو اشارہ سے اس کو منع کرے۔ اور منع کرنے سے بھی وہ نہ مانے تو سختی کے ساتھ اس کو دھکا دے کر دفع کرے۔ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کو شیطان اس لئے فرمایا کہ وہ اگرچہ مسلمان ہے مگر شیطان کا کام کر رہا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزر کر نمازی کی توجہ میں  پراگندگی اور انتشار پیدا کر رہا ہے۔( و  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۲۶) نماز میں آسمان کی طرف دیکھنا

        نماز میں آسمان کی طرف سر اُٹھا کر دیکھنا  ناجائز اور گناہ ہے۔ حدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔   

حدیث :  

        حضرت ا نس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو اپنی نماز میں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں ۔(راوی کہتے ہیں ) حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے اس بارے میں بہت ہی سخت بات فرمائی ۔یہاں تک کہ فرمایا :  لوگ ایسا کرنے سے باز رہیں ورنہ ضرور ان کی نگاہیں اُچک لی جائیں گی ۔ ( صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب رفع البصر الی السماء فی الصلوۃ، الحدیث :  ۷۵۰، ج۱، ص۲۶۵)

مسائل و فوائد

        نماز میں قیام کی حالت میں نگاہ سجدہ گاہ پر جمی ر ہنی چاہیے اور رکوع میں نظر پاؤں کے دونوں انگوٹھوں پر اور سجدہ میں نظر ناک پر اور بیٹھنے میں نظر سینے پر اور سلام پھیرنے میں دونوں کندھوں پر ر ہنی چاہیے۔  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۲۷) امام سے پہلے سر اٹھا نا

        نماز میں امام سے پہلے سر اٹھانا منع اور گناہ ہے۔ حدیث میں اس کی سخت ممانعت اور وعید شدید آئی ہے۔

حدیث :

        حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا ہے کہ وہ شخص جو امام سے پہلے سر اٹھا لیتا ہے کیا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ   اللہ  

 تَعَالٰی اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اُس کی صورت کو گدھے کی صورت بنا دے۔ (صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب اثم من رفع رأسہ قبل الامام، الحدیث :  ۶۹۱، ج۱، ص۲۴۹)

(۲۸) زکوٰۃ نہ ادا کرنا

        نماز کی طرح زکوٰۃ بھی فرض ہے اور جس طرح نماز چھوڑ دینا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح زکوٰۃنہ دینا بھی گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔ قرآن مجید اور حدیثوں میں زکوٰۃ چھوڑنے والے کیلئے بکثرت جہنم کی وعیدیں آئی ہیں ۔چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ

 وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵) (پ۱۰، التوبۃ : ۳۴۔۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ کہ جوڑکر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے   اللہ  کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزااس جوڑنے کا ۔

 



Total Pages: 57

Go To