Book Name:Jahannam Kay Khatrat

فلاں حاضر ہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ ’’نہیں ‘‘ پھر فرمایا کیا فلاں حاضر ہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ ’’نہیں ‘‘تو ارشاد فرمایا کہ یہ دو نمازیں (فجر و عشائ) منافقین پر بہت بھاری ہیں ۔ اگر تم لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ ان دونوں نمازوں کا کیا اور کتنا ثواب ہے۔تو تم لوگ اپنے گھٹنوں پر گھسٹتے ہوئے ان دونوں نمازوں میں آتے۔ پہلی صف فرشتوں کی صف کے مثل ہے اگر تم لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ اس کی کیا فضیلت        ہے۔ تو تم لوگ جھپٹ کر جلدسے جلد اس میں آتے اور یقین رکھو کہ ایک آدمی کی نماز ایک آدمی کے ساتھ اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بہت اچھی ہے اور دو آدمیوں کے ساتھ، ایک کے ساتھ پڑھنے سے بہت اچھی ہے۔ اور جماعت میں جس قدر زیادہ آدمی ہوں یہ   اللہ  تَعَالٰی کو بہت زیادہ پسند ہے ۔

 (مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلوۃ، باب الجماعۃوفضلھا، الفصل الثانی، الحدیث :  ۱۰۶۶، ج۱، ص۳۱۳۔سنن ابی داود، کتاب الصلوۃ، باب فی فضل صلوۃ الجماعۃ، الحدیث : ۵۵۴، ج۱، ص۲۳۰)

حدیث : ۳

        حضرت عبد  اللہ  بن مسعود  رضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہماسے روایت ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے کو اس حال میں دیکھا ہے کہ جماعت سے بچھڑنے والا یا تو منافق ہوتا تھا یا مریض، اوربے شک مریض کا یہ حال ہوتا تھا کہ دو آدمیوں کے درمیان چل کر نماز میں آتاتھا اور رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ہم لوگوں کو ہدایت کی سنتوں کی تعلیم دی ہے اور ہدایت کی سنتوں میں سے یہ بھی ہے کہ نماز اُس مسجد میں پڑھی جائے جس میں اذان دی گئی ہو اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جو اس بات سے خوش ہو کہ وہ کل قیامت کے دن مسلمان ہونے کی حالت میں  اللہ  تَعَالٰی  سے ملاقات کرے تو اس کو لازم ہے کہ وہ نمازوں کو وہاں پڑھے جہاں اذان دی گئی ہوکیو نکہ   اللہ  تَعَالٰی نے تمہارے نبی کیلئے ہدایت کی سنتیں شریعت میں رکھی ہیں اور نماز با جماعت ہدایت کی  سنتوں میں سے ہے۔ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو گے جس طرح سے جماعت سے بچھڑنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے۔ تو تم لوگ اپنے نبی کی سنت کو چھوڑنے والے ہو جاؤ گے ۔ اوراگر تم لوگوں نے اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دیا۔ تو یقینا تم لوگ گمراہی میں پڑ جاؤ گے۔ جو آدمی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کا قصد کرتا ہے تو   اللہ  تَعَالٰی اس کیلئے ہر قدم پر ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور ہر قدم کے بدلے ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اورتم لوگ یقین مانو کہ ہم نے اپنے کو اس حال میں دیکھا ہے کہ جماعت سے وہی آدمی بچھڑتا تھا جو ایسا منافق ہوتا تھا کہ اُس کا نفاق سب کو معلوم تھا ۔ بعض لوگ تودو آدمیوں کے بیچ میں چلا کر لائے جاتے تھے یہاں تک کہ وہ صف میں کھڑے کر دیئے جاتے تھے۔               

 (مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلوۃ، باب الجماعۃوفضلھا، الفصل الثالث، الحدیث :  ۱۰۷۲، ج۱، ص۳۱۴۔۳۱۵، صحیح  مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب صلاۃ الجماعۃ من سنن الھدیٰ، الحدیث : ۶۵۴، ص۳۲۸)

حدیث : ۴

        حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں عشاء کی نماز قائم کرتا اور جوانوں کو حکم دیتا کہ جماعت سے بچھڑنے والوں کے گھروں کو جلا ڈالیں ۔ (المسندلامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ہریرۃ ، الحدیث :  ۸۸۰۴، الجزء الثالث، ص۲۹۶)

حدیث : ۵

        امیرالمومنین حضرت عثمان  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جواذان مسجد میں پالے، پھر وہ مسجد سے نکل گیا حالانکہ وہ کسی حاجت سے بھی نہیں نکلا ہے اور پھر مسجد میں لوٹ کر آنے کا اِرادہ بھی نہیں رکھتا ہے تو وہ شخص منافق ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الاذان والسنۃ فیھا ، باب اذا اذن وانت فی المسجد.....الخ،  الحدیث ۷۳۴، الجزء الاول، ص۴۰۴)   

حدیث : ۶

        حضرت ابوبکر بن سلیمان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سلیمان  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو صبح کی نماز میں مسجد کے اندر نہیں پایا اور آپ صبح ہی کو بازار گئے۔ حضرت سلیمان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کا مکان مسجد اور بازار کے درمیان میں تھا، تو امیر المومنین نے حضرت سلیمان  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کی ماں حضرت شفاء   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا کہ میں نے صبح کی نماز میں سلیمان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو نہیں دیکھا تو اُنہوں نے کہا کہ وہ رات بھر نماز پڑھتا رہا ہے پھر اس کی آنکھیں اس پر غالب ہو گئیں اور وہ سو گیا۔ تو ا میر المومنین حضرت عمر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں صبح کی نماز جماعت سے پڑھوں یہ مجھے ساری رات نماز نفل پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے۔

(مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلوۃ، باب الجماعۃوفضلھا، الفصل الثالث، الحدیث :  ۱۰۸۰، ج۱، ص۳۱۶۔الموطا للامام مالک ، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب ماجاء فی العتمۃ والصبح، الحدیث : ۳۰۰، الجزء الاول، ص۱۳۴)

جماعت چھوڑنے کے اعذار

مندرجہ ذیل عذروں کی وجہ سے اگر کوئی جماعت چھوڑ دے تو گنہگار نہ ہو گا۔

(۱) مریض جسے مسجد تک جانے میں مشقت ہو ۔    (۲) اپاہج

(۳)وہ جس کا پاؤں کٹ گیا ہو ۔    (۴) جس پر فالج گرا ہواہو۔

(۵) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہو۔  

(۶) اندھا اگرچہ اندھے کیلئے کوئی ایسا ہو کہ جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے۔

(۷)سخت بارش     (۸) شدید کیچڑ کا حائل ہونا ۔   

(۹) سخت سردی     (۱۰) سخت



Total Pages: 57

Go To