Book Name:Jahannam Kay Khatrat

کرنے والے کو کافر نہیں کہتے۔ پھر بھی یہ کیا تھوڑی بات ہے کہ ان جلیل القدر حضرات کے نزدیک قصداً نماز چھوڑدینے والا کافر ہے۔ (بہارشریعت، ج۱، حصہ۳، ص۱۰)

(۳)نماز فرضِ عین ہے۔ اِس کی فرضیت کامُنکر کافر ہے اور جو قصداً نماز چھوڑ دے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسق ہے۔ اور جو بالکل نماز نہ پڑھتا ہو قاضی ٔ اسلام اس کو قید کر دے گا۔ یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ حضرت امام مالک و شافعی و احمد رضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہم کے نزدیک سلطانِ اسلام کو یہ حکم ہے کہ وہ بالکل نماز نہ  پڑھنے والے کو قتل کرا دے۔   (بہارشریعت، ج۱، حصہ۳، ص۱۰)

(۲۳) جمعہ چھوڑنا

        یوں تو ہر فرض نماز کو چھوڑنا گناہ کبیرہ ہے اور جہنم میں جانے کا سبب ہے لیکن جمعہ کے چھوڑ دینے پرخصوصیت کے ساتھ چند خاص وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں ۔ قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے حکم فرمایا کہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ   (پ۲۸، الجمعۃ : ۹)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو   اللہ  کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو ۔

   حدیثوں میں بھی اس کی بہت تاکید اور اس کے چھوڑنے پر وعید ِشدید آئی ہے چنانچہ مندرجہ ذیل حدیثیں اس پرگوا ہ ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت ابن عمرو ابوہریرہ رضی  اﷲ  تَعَالٰی  عنہماسے روایت ہے کہ ہم دونوں نےمنبر پر رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ جمعوں کو چھوڑنے سے باز رہیں ورنہ  اللہ  تَعَالٰی  ان کے دلوں پر ضرور ایسی مہر لگا دے گا کہ وہ یقینا ’’غافلین‘‘ میں سے ہو جائیں گے۔(صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، باب التغلیظ فی ترک الجمعۃ، الحدیث :  ۸۶۵، ص۴۳۰)

 حدیث : ۲

        حضرت ابو جَعد ضمری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ     صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا ہے کہ جو شخص سستی سے تین جمعوں کو چھوڑ دے گا  اللہ  تَعَالٰی  اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۔ (سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب التشدید فی ترک الجمعۃ، الحدیث۱۰۵۲، ج۱، ص۳۹۳)

حدیث : ۳

        حضرت طارق بن شہاب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے کہ جمعہ جماعت کے ساتھ پڑھنا ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ چار شخصوں کے سوا کہ ان لوگوں پر جمعہ پڑھنا ضروری نہیں

     (۱) غلام   (۲) عورت    (۳) بچہ    (۴) بیمار۔

 (مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلوۃ، باب وجوبھا، الفصل الثانی، الحدیث :  ۱۳۷۷، ج۱، ص۳۹۵۔۳۹۶، سنن ابی داود، کتاب الصلوۃ، باب الجمعۃللمملوک والمرأۃ، الحدیث : ۱۰۶۷، ج۱، ص۳۹۷)

حدیث : ۴

        حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔ کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا ہے کہ جو شخص بلا کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے  اللہ  تَعَالٰی  اُس کو ایسی کتاب میں منافق لکھ دے گا جو نہ مٹائی جائے گی نہ بدلی جائیگی۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلوۃ، باب وجوبھا، الفصل الثالث، الحدیث :  ۱۳۷۹، ج۱، ص۳۹۶)          

حدیث : ۵

         حضرت ابن مسعود  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے کہ میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ ایک آدمی کو جمعہ پڑھانے کا حکم دوں ۔ پھر میں ان لوگوں کے اُوپر اُن کے گھروں کو جلا دوں جو جمعہ میں نہیں آئے ہیں ۔ ( صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب فضل صلوۃ الجماعۃ...الخ، الحدیث : ۶۵۲، ص۳۲۷)

حدیث : ۶

        حضرت ابنِ عباس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا ہے کہ جس نے چار جمعوں کو بلا کسی عذر کے چھوڑ دیا تو اُس نے اسلام کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔(کنزالعمال، کتاب الصلاۃ، قسم الاقوال، الترھیب عن ترک الجمعۃ، الحدیث :  ۲۱۱۴۴، ج۷، ص