Book Name:Jahannam Kay Khatrat

         حضرت ابو ذر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ (شدت ِغضب سے)   اللہ  تَعَالٰی تین آدمیوں سے نہ کلام فرمائے گا نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا۔نہ ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کو بہت ہی سخت اور درد ناک عذاب دے گا۔   

(۱) ٹخنوں سے نیچے تہبند یا پاجامہ لٹکانے والا ۔

(۲) احسان جتانے والا ۔

(۳)جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے والا۔  (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم ...الخ، الحدیث : ۱۰۶، ص۶۸)

مسائل و فوائد

        حرام ذریعوں سے کمائے ہوئے مالوں کو کھانا، پینا ، پہننا، یا کسی اور کام میں استعمال کرنا حرام و گناہ ہے اور اس کی سزا دنیا میں مال کی قلت و ذلت اور بے برکتی ہے اور آخرت میں اس کی سزا جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب ِعظیم ہے۔       (والعیاذ ب  اللہ  تَعَالٰی منہ)   

 (۲۲) نما زکا چھوڑ د ینا

        نمازوں کو چھوڑ دینا بہت ہی شدید گناہ کبیرہ، اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ قیامت کے دن جب جہنمیوں سے جنتی لوگ پوچھیں گے کہ تم لوگوں کو کون سا عمل جہنم میں لے گیا؟ تو جہنمی لوگ نہایت افسوس اور حسرت کے ساتھ یہ جواب دیں گے کہ

لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳) وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴) وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَۙ(۴۵) وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ(۴۶) حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ(۴۷) (پ۲۹، المدثر : ۴۳۔۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان :  ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بیہودہ فکروالوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ ہمیں موت آئی۔

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا گیا :

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴) الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) (پ۳۰، الماعون : ۴، ۵)

ترجمۂ کنزالایمان :  تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں ۔

        اِن کے علاوہ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں اور حدیثوں میں آیا ہے کہ نماز چھوڑ دینا شدید معصیت اور گناہ کبیرہ ہے۔ چنانچہ حضور سیِّد ِ عَالم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ

حدیث : ۱

         حضرت بریدہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ وہ عہد جو ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان ہے وہ نماز ہے تو جس نے نماز کو چھوڑ دیا اُس نے کفر کا کام کیا۔      ( سنن الترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ، الحدیث۲۶۳۰، ج۴، ص۲۸۱)

حدیث : ۲

        حضرت عبد  اللہ  بن عمرو  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے ایک دن یہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز کو پابندی کے ساتھ پڑھے گا ، یہ نماز اس کیلئے نور اوربُرہان اور نجات ہو گی، اور جو پابندی کے ساتھ نماز نہ پڑھے گانہ اُس کیلئے نور ہو گا نہ بُرہان ہو گی نہ نجات ہو گی اوروہ قیامت کے دن قارون وفرعون وہامان وابی بن خَلَف(کافروں ) کے ساتھ ہو گا۔  (المسندلامام احمد بن حنبل، مسند عبد  اللہ  بن عمروبن العاص، الحدیث : ۶۵۸۷، الجزء الثانی، ص۵۷۴)

حدیث : ۳

        حضرت عبد  اللہ  بن شقیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے سوا نماز کے۔ (کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نماز چھوڑ دینے کو کفر سمجھتے تھے)(سنن الترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ، الحدیث۲۶۳۱، ج۴، ص۲۸۲)

حدیث : ۴

        حضرت ابو الدرداء  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ مجھ کو میرے خلیل (نبی کریم   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    )نے یہ وصیت کی ہے کہ تم شرک نہ کرنا۔ اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کاٹ ڈالے جاؤ، اگرچہ تم جلا دیئے جاؤ اور جان بوجھ کر فرض نماز کو نہ چھوڑنا کیوں کہ جو نماز کو قصداً چھوڑ دے گا اس کیلئے ا مان ختم ہو جائے گی اور تم شراب نہ پینا اس لئے کہ وہ  برائی کی کنجی ہے۔   

(سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب الصبر علی البلائ، الحدیث۴۰۳۴، ج۴، ص۳۷۶)

مسائل و فوائد

(۱)  مذکورہ بالا حدیثوں میں سے حدیث نمبر۲ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح قارون و فرعون و ہامان و ابی بن خلف وغیرہ کفار جہنم میں جائیں گے، اسی طرح نماز چھوڑ دینے والا مسلمان بھی جہنم میں جائے گا یہ اور بات ہے کہ کفار تو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان لوگوں کو بہت سخت عذاب دیا جائے گا اور بے نمازی مسلمان ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا بلکہ اپنے گناہوں کے برابر عذاب پا کر پھر جہنم سے نکال کر جنت میں بھیج دیا جائے گا اور بے نمازی کو بہ نسبت کفار کے کچھ ہلکا عذاب دیا جائے گا۔

(۲)  بہت سی ایسی حدیثیں آئی ہیں جن کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ قصداً نماز چھوڑ دینا کفر ہے اور بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم مثلاً امیر المومنین حضرت فاروق اعظم و عبدالرحمن بن عوف و عبد   اللہ   بن مسعود، و عبد   اللہ   بن عباس، و جابر بن عبد   اللہ   و معاذ بن جبل، و ابوہریرہ و ابو الدرداء  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا یہی مذہب تھا۔ اور بعض فقہ کے اماموں مثلاً امام احمد بن حنبل، و اسحاق بن راہویہ و عبد