Book Name:Jahannam Kay Khatrat

      واضح رہے کہ جس طرح روپیوں ، پیسوں اور مال و سامان کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اسی طرح باتوں ، کاموں اور عہدوں کی امانتوں میں بھی خیانت حرام ہے۔ مثلاً کسی نے آپ سے اپنے راز کی بات کہہ دی اور آپ سے یہ کہہ دیا کہ یہ بات امانت ہے کسی سے مت کہیے گا اور وہ بات آپ نے کسی سے کہہ دی تو یہ امانت میں خیانت ہو گئی۔ اسی طرح کسی نے آپ کو مزدور رکھ کر کوئی کام سِپُرد کر دیا مگرآپ نے قصداً اس کام کو بگاڑ دیا، یا کم کام کیا تو آپ نے امانت میں خیانت کی ۔اِسی طرح حاکم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ا پنی رعایا کی نگرانی رکھے اور ان کی خبر گیری کرتا رہے اور عدل و انصاف قائم رکھے۔ اگر اس نے اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا تو یہ امانت میں خیانت ہو گئی۔ اسی طرح رات میں میا ں بیوی جو کچھ کہتے یا کرتے ہیں اس میں میاں بیوی ایک دوسرے کے امین ہیں ۔ اگر ان دونوں میں سے کسی نے ان باتوں کو دوسرے لوگوں سے کہہ دیا تویہ بھی امانت میں خیانت ہو گئی۔ غرض مزدور، کاریگر، ملازم وغیرہ جو کام ان لوگوں کو سونپا گیا ہے وہ ان کاموں کے امین ہیں ۔ اگریہ لوگ اپنے کام اور ڈیوٹی کے پوری کرنے میں کمی یا کو تاہی کریں گے تو امانت میں خیانت کے مرتکب ہوں گے۔ یاد رکھو کہ ہر قسم کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اور ہر خیانت جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ہر مسلمان کو ہر قسم کی خیانتوں سے بچنا ایمان کی سلامتی، اور جہنم سے نجات پانے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔   

 (۱۹) کم نا پ تول

        سامان اور سودا لیتے دیتے وقت ناپ تول میں کمی کرنا ایک قسم کی چوری اور خیانت ہے جو حرام اور سخت گناہ ہے جس کی سزا جہنم کا عذاب ہے۔ قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے فرمایا کہ

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا(۳۵) (پ۱۵، بنی اسرآء یل : ۳۵)

ترجمۂ کنزلایمان :  اور ماپو تو پورا ماپو اور برابر ترازو سے تولو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا۔

        دو سری آیت میں فرمایا کہ

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ۳۰، المطففین : ۱۔۶)

ترجمۂ کنزالایمان :  کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں اور جب انہیں ماپ یا تول کر دیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کیلئے جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔

        ایک دوسری آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ(۱۸۱) وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ(۱۸۲) وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ(۱۸۳)

(پ۱۹، الشعراء  : ۱۸۱۔۱۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان : ناپ پوراکرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہواور سیدھی ترازو سے تولو اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فسادپھیلاتے نہ پھرو۔   

        اسی طرح احادیث میں حضور ا قدس  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کم ناپ تول کی ممانعت اور مذمت بار بار فرمائی ہے اور ناپ تول پورا پورا دینے کی تاکید فرمائی ہے۔

حدیث : ۱

        حضرت ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   و   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ناپ تول کرنے والوں سے فرمایا کہ بیشک تم لوگ ایسے کام پر لگائے گئے ہو کہ ا س کام میں تم سے پہلے کچھ امتیں ہلاک ہو گئیں ۔        (سنن الترمذی ، کتاب البیوع ، باب ماجاء فی المکیال والمیزان، الحدیث : ۱۲۲۱، ج۳، ص۹)

         مطلب یہ ہے کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو کیوں کہ تم سے پہلے کچھ ا متوں نے ناپ تول میں کمی کی تھی۔ تو ان پر خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کا عذاب آگیا اور ان کو عذاب الٰہی   عَزَّ وَجَلَّ    نے ہلاک کر ڈالا لہٰذا تم لوگ ناپ تول کرنے میں ہر گز ہر گز کبھی کمی نہ کرنا ورنہ تمہارے لئے بھی عذاب ِالٰہی سے ہلاکت کا خطرہ ہے۔

حدیث : ۲

         حضرت سُوید بن قیس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    سے روایت ہے کہ رسول   اللہ    عَزَّ وَجَلَّ    و    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک آدمی سے جو مزدوری لے کر تولتا تھا۔ فرمایا کہ ’’زن وارجح ‘‘ یعنی وزن کرو اور کچھ بڑھا کر تولو، کم نہ تولو۔ ( سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی الرجحان فی الوزن، الحدیث : ۱۳۰۹، ج۳، ص۵۲)

مسائل و فوائد

        خلاصہ یہ ہے کہ ناپ تول میں ہر گز ہر گز کمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ چوری اور بدترین خیانت اور دھوکا بازی ہے۔ جو حرام و گناہ ہے اور تجارت کی برکت کو برباد کرنے والا کام ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اس سے بچنا ضروری ہے تاکہ وہ جہنم کے خطرات سے محفوظ رہے۔  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۲۰) رشوت

        رشوت لینا دینا، اور دونوں کے درمیان دلالی کرنا حرام و گناہ ہے قرآن میں رشوت کو ’’ سُحت ‘‘  یعنی مال حرام کہا گیا ہے اور حدیثوں میں اس کی شدید ممانعت آئی ہے۔

حدیث : ۱

        حضرت ابن عمرورَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے رشوت دینے والے، اور رشوت لینے والے اور ا ِن دونوں کے درمیان دلالی کرنے والے پر لعنت فرمائی۔ (سنن الترمذی، کتاب الاحکام، باب ماجاء فی الراشی...الخ، الحدیث ۱۳۴۲، ج۳، ص۶۶۔کنزالعمال، کتاب الامارۃ، باب الرشوۃ، الحدیث۳۵۰۷۶، ج۲، ص۴۵، عن ثوبان)

حدیث : ۲

 



Total Pages: 57

Go To