Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۵

         حضرت بہز بن حکیم  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول    اللہ    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اس شخص کیلئے خرابی ہے جو بات کرتے ہوئے لوگوں کو ہنسانے کیلئے جھوٹ بولتا ہے۔ اس کیلئے خرابی ہے۔اس کیلئے خرابی ہے۔

(مشکوٰۃالمصابیح، کتاب الآداب باب حفظ اللسان...الخ، الفصل الثانی، الحدیث ۴۸۳۵، ج۳، ص۴۱۔ سنن الترمذی، کتاب الزہد، باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ...الخ، الحدیث۲۳۲۲، ج۴، ص۱۴۲) 

حدیث : ۶

        حضرت ابن عمر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے اُنہوں نے کہا کہ  رَسُولَ  اللہ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اُس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے اُس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ۔     (سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی الصدق والکذب...الخ، الحدیث۱۹۷۹، ج۳، ص۳۹۲)

حدیث : ۷

        حضرت سفیان بن اسد حضرمی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول   اللہ      صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کو کہتے سنا ہے کہ یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور تیرا بھائی تجھے سچا سمجھتا رہے حالانکہ تو جھوٹا ہے۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی المعاریض، الحدیث۴۹۷۱، ج۴، ص۳۸۱)

مسائل و فوائد

        یوں تو ہر جھوٹی بات حرام و گناہ ہے۔ مگر جھوٹی گواہی خاص طور سے بہت ہی سخت گناہ کبیرہ اور جہنم میں گرا دینے والا جرمِ عظیم ہے۔ کیوں کہ قرآن و حدیث میں خصوصیت کے ساتھ جھوٹی گواہی پر بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری قسموں کے جھوٹ سے تو صرف جھوٹ بولنے والے ہی کی دنیا و آخرت خراب ہوتی ہے۔ مگر جھوٹی گوا ہی سے تو گوا ہی دینے والے کی دنیا و آخرت خرا ب ہونے کے علاوہ کسی دوسرے مسلمان کا حق مارا جاتا ہے یا بلا قصور کوئی مسلمان سزا پا جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں شرعاً کتنے بڑے گناہ کے کام ہیں ۔لہٰذا بہت ہی ضروری ہے کہ مسلمان جھوٹی گوا ہی کو جہنم کی آگ سمجھ کر ہمیشہ اس سے دور بھاگیں ۔  اللہ  تَعَالٰی ا علم)

(۱۶)غیبت

        غیبت بھی گناہ کبیرہ اور سخت حرام ہے اور یہ دوزخ میں لے جانے والی بدترین خصلت ہے۔ قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے اِس بری عادت کی ممانعت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (پ۲۶، الحجرات : ۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان :  اورایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا اور   اللہ  سے ڈرو بیشک   اللہ  بہت توبہ قبول کرنیوالا مہربان ہے۔

        اِسی طرح حدیثوں میں بھی بکثرت اِس کی ممانعت ا ور مذمت آئی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے۔

حدیث : ۱

        حضرت ابو سعید و جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ غیبت زنا سے سخت گناہ ہے۔ تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول    اللہ   !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  غیبت زنا سے زیادہ سخت گناہ کیونکر اور کیسے ہے؟ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا آدمی زنا کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے تو  اللہ  تَعَالٰی  اُس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ اور غیبت کرنے والے کو اللہ  تَعَالٰی  اس وقت تک نہیں بخشے گا جب تک کہ وہ نہ معاف کردے جس کی غیبت کی ہے۔  (شعب الایمان للبیھقی، باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث۶۷۴۱، ج۵، ص۳۰۶)

حدیث : ۲

        حضرت ابن عباس رضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہماسے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ظہر وعصر کی نماز پڑھی اوریہ دونوں روزہ دار تھے۔ پھر جب نبی ٔ کریم   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اپنی نماز پوری فرما چکے تو ان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں پھرسے وضو کرکے اپنی نمازوں  کو  لو ٹاؤ اور روزہ پورا کرو۔ لیکن کسی دوسرے دن اس کی قضا کر لو۔ تو ان دونوں آدمیوں نے پوچھا کہ کیوں ہم نمازوں کو لوٹائیں ؟ اور روزہ کی قضا کریں ؟ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ اس لئے کہ تم دونوں نے فُلاں آدمی کی غیبت کی ہے۔ (شعب الایمان للبیھی، باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث۶۷۲۹، ج۵، ص۳۰۳)

غیبت کیا ہے : کسی کا کوئی غائبانہ عیب بیان کرنا یا پیٹھ پیچھے اُس کو برا کہنا یہی غیبت ہے۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں ایک حدیث ہے کہ خود حضور نبی ٔ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ منے عرض کیا کہ    اللہ   اور اس کا رسول     عَزَّ وَجَلَّ    و  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  زیادہ جاننے والے ہیں ۔ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ تمہارا اپنے (دینی) بھائی کی ان باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ ناپسند سمجھتا ہے (یہی غیبت ہے)۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ بتائیے اگر میرے (دینی) بھائی میں واقعی وہ باتیں موجود ہوں تو کیا ان باتوں کا کہنا بھی غیبت ہو گی۔ تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر وہ باتیں ہوں گی جبھی تو تم اس کی غیبت کرنے والے کہلاؤ گے اور اگر اس میں وہ باتیں نہ ہوں جب تو تم اس پر بہتان لگانے والے کہلاؤ گے۔ (جو ایک دوسرا گناہ کبیرہ ہے)

(مشکوۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب حفظ اللسان ...الخ، الفصل الاول، الحدیث :  ۴۸۲۹، ج، ۳، ص۴۰۔صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ وال



Total Pages: 57

Go To