Book Name:Jahannam Kay Khatrat

        حضرت عبد   اللہ   بن مسعود  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ انہوں نے کہاکہ بیشک سود   اگرچہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر اُس کا انجام مال کی کمی ہے۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الربا، الفصل الثالث، الحدیث :  ۲۸۲۷، ج۲، ص۵۲۴۔المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد  اللہ  بن مسعود، الحدیث۳۷۵۴، ج۲، ص۵۰)

مسائل و فوائد

      سود کی حرمت قطعی و یقینی ہے جو سود کو حلال بتائے یا حلال جانے وہ کافر ہے۔وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گاکیونکہ ہر حرام قطعی کا حلال جاننے والا کافر ہے۔     (تفسیرخزائن العرفان، پ۳، البقرۃ : ۲۷۵)

( ۱۰) جا د و

        جادو کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اگر جادو کے منتروں سے شریعت کی تکذیب یا توہین ہوتی ہو تو ایسا جادو کفر ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔

وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَۗ    (پ۱، البقرۃ : ۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان : ہاں شیطان کافر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں ۔

حدیث : ۱

        حدیث شریف میں حضور اکرم     صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے آیات بَیِّنَاتاور کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ’’ لا تسحروا ‘‘  یعنی جاد و نہ کرو ۔

(سنن الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب، باب ماجاء فی قبلۃ الیدوالرجل، الحدیث ۲۷۴۲، ج۴، ص۳۳۵)

حدیث : ۲

       حضرت ابن ا لمسیّب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ     نے ایک جادو گر کو پکڑا اور اسکے سینہ کو کچل کر چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔

(کنزالعمال، کتاب السحر...الخ، من قسم الافعال، الحدیث۱۷۶۷۸، ج۳، الجزء السادس، ص۳۱۹)

مسائل و فوائد

        اگر جادو کفر کی حد کو پہنچا ہو تو دنیا میں اس کی یہ سزا ہے کہ بادشاہِ اسلام اس کو قتل کرا دے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ ’’حد الساحر ضربۃ بالسیف ‘‘  یعنی جادو گر کی سزا اُس کو تلوار سے قتل کر دینا ہے۔ (سنن الترمذی، کتاب الحدود، باب ماجاء فی حد الساحر، الحدیث۱۴۶۵، ج۳، ص۱۳۹)

        اور آخر ت میں اُس کی سزا جہنم کا عذاب عظیم ہے جس کی ہولناکیوں اور خوف ناکیوں کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔   اللہ  تَعَالٰی ہر مسلمان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور جہنم کے درد ناک عذاب سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

(۱۱) یتیم کا مال کھا نا 

        یتیم کا مال کھانا بہت سخت حرام اورگناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے اس کی قباحت کا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا۠(۱۰)(پ۴، النسآء : ۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان :  وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اورکوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے(بھڑکتی آگ)میں جائیں گے

        اور دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ

وَ  اٰتُوا  الْیَتٰمٰۤى  اَمْوَالَهُمْ  وَ  لَا  تَتَبَدَّلُوا  الْخَبِیْثَ  بِالطَّیِّبِ   ۪-  وَ  لَا  تَاْكُلُوْۤا  اَمْوَالَهُمْ  اِلٰۤى  اَمْوَالِكُمْؕ-اِنَّهٗ  كَانَ  حُوْبًا  كَبِیْرًا(۲) (پ۴، النساء : ۲)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور یتیموں کو ان کے مال دواور ستھرے کے بدلے گندا نہ لواور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر نہ کھاجاؤ بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔

حدیث : ۱

       حدیث شریف میں حضور    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے ان بڑے بڑے گناہوں کو جو مسلمان کو ہلاک کر ڈالنے والے ہیں بیان کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ’’ واکل مال الیتیم ‘‘یعنی یتیم کا مال کھا ڈالنا وہ گناہ کبیرہ ہے جو مومن کو ہلاکت میں ڈال دینے والا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب المحاربین...الخ، باب رمی المحصنات، الحدیث۶۸۵۷، ج۴، ص۳۵۴)

حدیث : ۲

        حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بہترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم رہتا ہو اوراس کے ساتھ بہترین سلوک کیا جاتا ہو۔ اور مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بدترین گھر وہ ہے کہ جس میں کوئی یتیم رہتا ہو اور اس کے ساتھ برا برتاؤ کیا جاتا ہو۔

      (سنن ابن ماجہ، کتاب الاد



Total Pages: 57

Go To