Book Name:Madani Kamon Ki Taqseem

تقسیم کاری کی اہمیت وافادیت پر مشتمل تألیف  

 

 

 

 

 

 

مدنی کاموں کی تقسیم

 

 

 

 

اس رسالے میں ہے :

            ٭شہد کی تیاری اور تقسیم کاری

            ٭تقسیمِ کار کی بہترین تصویر

            ٭اخلاص کی پہچان کا طریقہ

            ٭نگرانوں کے لئے 10فکر انگیز فرامینِ مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

د رود شریف کی فضیلت

       اللّٰہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ پُر نُور ہے : ’’مجھ پر درود شریف پڑھ کر اپنی مجالس آراستہ کرو کہ تمہارا دُرود پاک پڑھنا بروز قیامت تمہارے لئے نور ہوگا ۔‘‘(فردوس الاخبار ، الحدیث ۳۱۴۸ ، ج۳ ، ص۴۱۷ )

صلّوا علی الحبیب!        صلی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمّد

 کام کی مبارک تقسیم

ایک مرتبہ کسی سفر میں صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے بکری ذَ بح کرنے کا ارادہ کیا اور کام تقسیم کرلیا ۔کسی نے اپنے ذِمہ ذَبح کاکام لیا تو کسی نے کھال اُدھیڑنے کا ، نیز کوئی پکانے کا ذمہ دار ہوگیا ۔سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، لکڑیاں جمع کرنا میرے ذِمے ہے ۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان عرض گزار ہوئے ، آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! یہ بھی ہم ہی کرلیں گے ۔فرمایا، یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ آپ حضرات بخوشی کرلیں گے ۔مگر مجھے یہ پسند نہیں کہ آپ لوگوں میں نمایاں رہوں اوراللّٰہ عزوجل بھی اِس کو پسند نہیں فرماتا ۔ (اتحاف السادۃ المتقین، ج۸، ص۲۱۰ )

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے پیارے آقا ، مدنی مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جانثار صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے کتنے پیارے انداز میں کام تقسیم کرلیا کہ جہاں بھرکے لو گ ایسی مثال پیش نہیں کر سکتے اور یہ سب مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مبارک تربیت کا اثر تھا کہ یہ انداز ان (صحابۂ کرام علیہم الرضوان )کی مستقل طبیعت بن گیا تھا ۔ہجرت کا سفر ہو یا حج کا موقع، غزوات و سرایا ہوں یادعوتِ اسلام عام کر نے کے لئے راہِ خدا عزوجل میں سفر کرنے والے مدنی قافلے ، وہ ہمیشہ اپنے امور بحسبِ صلاحیت آپس میں تقسیم فرمالیا کر تے اور ہر ایک اسلام کی پُر خلوص و بے لوث خدمت کیلئے خود کو پیش کر کے اپنی ذمہ داری باحسن وجوہ سر انجام دینے کی بھر پور سعی کر تا ۔ پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بھی عاجزی اختیار فرماتے ہو ئے اپنے غلاموں کی حوصلہ افزائی کے لئے عملی طور پر ان امور میں شرکت فرمالیا کر تے جیسا کہ حدیثِ بالا میں بھی مذکور ہے ۔ اس طرح رہتی دنیا تک کیلئے ہمیں کیسا عمدہ لائحہ عمل عطا فرمادیا گیا کہ حتی الامکان ہر کام تقسیم کاری کے ذریعے کیا جائے ۔ جو جس کام کی صلاحیت و لیاقت رکھتا ہو اس میں خدمات سر انجام دے اور یہی طریقۂ کار فطری نظام سے زیادہ قریب ہے ۔مثلاً جسمانی نظامہائے انسان ہی کو لے لیجئے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت ِ بالغہ اور قدرتِ کاملہ سے انسانی جسم میں بیک وقت نظامِ انہضام، نظامِ تنفُّس، نظامِ اعصاب، اور نظامِ اخراج وغیرہ کے تحت بہت سے تخریبی و تعمیری معاملات ہو تے رہتے ہیں ۔ان میں سے ہر نظام مخصوص اعضاء کی مخصوص کار کردگیوں پر مشتمل تقسیمِ کار کا ایک لا جواب نمونہ ہے ۔ 

 

 



Total Pages: 7

Go To