Book Name:Pur Asrar Bhikari

خبیث حاصِل ہو جاتی ہے اور یہ وہ مال ہے جو کسی عقد فاسد کے ذَرِیعہ حاصِل ہوا ہو جیسے سُودیا داڑھی مُونڈنے یا خشخشی کرنے کی اُجرت وغیرہ ۔ اِس کا بھی وُہی حکم ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس کو مالِک یا اِس کے وُرثا ہی کو لوٹا نا فرض نہیں اوّلاً فقیر کو بھی بِلا نیّتِ ثواب خیرات میں دے سکتا ہے ۔ البتّہ افضل یِہی ہے کہ مالِک یا وُرثا کو لوٹا دے  ۔ ( ماخوذ ازـ : فتاویٰ رضویہ ج۲۳ ص۵۵۱، ۵۵۲ وغیرہ)  

کر لے توبہ ربّ کی رحمت ہے بڑی

قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی                    

ایثار کی مَدَ نی بہار

          ایک اسلامی بہن کے ساتھ پیش آنے والی ایک مَدَنی بہار مختصراً عرضِ خدمت ہے  :   بمبئی کے ایک عَلاقے میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی طرف سے اسلامی بہنوں کے ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع ( پیر شریف۲۲ صفرُالمظفَّر ۱۴۲۸ھ بمطابق 12.3.2007 ) کے اختِتام پر ایک ذمّہ دار اسلامی بہن کے پاس کسی نئی اسلامی بہن نے اپنی چپّل کی گمشدگی کی شکایت کی ۔  ذمّہ دار اسلامی بہن نے انفِرادی کوشش کرتے ہوئے اُسے اپنی چپّل کی پیش کش کی وہاں موجود ایک دوسری اسلامی بہن جن کو مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوئے تقریباً سات ماہ ہوئے تھے اُس نے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہوئے کہ’’ کیا دعوتِ اسلامی کی خاطِر میں اتنی قربانی بھی نہیں دے سکتی!‘‘ باصرار اپنی چپّلیں پیش کر کے اُس نئی اسلامی بہن کوقَبول کرنے پر مجبور کر دیا اور خودپابَرَہْنہ (یعنی ننگے پاؤں ) گھر چلی گئی ۔  رات جب سوئی تو اُس کی قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ! کیا دیکھتی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنا چاند سا چِہرہ چمکاتے ہوئے جلوہ فرما ہیں نیز ایک مُعَمَّر(مُ ۔ عَمْ ۔ مَر) مبلِّغ دعوتِ اسلامی سر پر سبز سبزعمامہ شریف سجائے قدموں میں حاضِر ہیں ۔ سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لبہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی رَحمت کے پھول جَھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے  : چَپَّل ایثار کرتے وَقت تمہاری زَبان سے نکلے ہوئے الفاظ’’ کیا دعوتِ اسلامی کی خاطِر میں اِتنی قربانی بھی نہیں دے سکتی! ‘‘ ہمیں بَہُت پسند آئے  ۔ (علاوہ ازیں بھی حوصلہ افزائی فرمائی )

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں ایثار کی بھی کیا خوب مَدَنی بہار ہے !نیز ایثار کی فضیلت کے بھی کیا  ہی انوار ہیں !دوجہاں کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کافرمانِ پُر بہارہے  :  جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اس خواہش کو روک کر (دوسروں کو) اپنے اوپر ترجیح دے ، تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اِسے بخش دیتا ہے  ۔ (اتحاف السادۃ المتقین ج۹ ص ۷۷۹دارالکتب العلمیۃ بیروت)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کیا آپ اپنی آخِرت کی بہتری کی خاطِر مَدَنی قافلے میں سفر کیلئے ہر ماہ صرف تین دن کی قربانی نہیں دے سکتے !!!مقامِ غور ہے ! کیا دعوتِ اسلامی کی خاطر اتنی قربانی بھی نہیں دے سکتے ؟

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں

اے دعوتِ اسلامی تری دھوم مچی ہو

          یاربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! ہمیں خوش دلی اور اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ خوب خوب ایثار کرنے



Total Pages: 10

Go To