Book Name:Pur Asrar Bhikari

جہنّم میں پَھینکا جائے گا

          حضرتِ سَیِّدُنا عبداﷲ ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے ، اللّٰہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کافرمانِ عالی شان ہے  :  جو شخص دس افراد کا حاکم بنا پھر ان کے درمِیان فیصلے کرتا رہا ، لوگوں نے اس کے فیصلے پسند کئے ہوں یا ناپسند ۔ قِیامت کے دن اُسے اِس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اُس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوں گے ۔ اب اگر (دنیا میں )اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کے نازِل فرمائے ہوئے اَحکام کے مطابِق فیصلہ کیا ہو گا اور رشو ت بھی نہ لی ہوگی اور نہ ہی ظُلم کیا ہوگاتو اﷲ تعالٰی اس کو آزاد فرمادے گا اور اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کے نازِل فَرمُودہ اَحکام کیخلاف فیصلہ کیا ہو گا، رشوت بھی لی ہو گی اور نا انصافی کی ہو گی تو اس کا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ کے ساتھ باندھا جائے گاپھر اسے جہنَّم میں پھینک دیا جائے گا تو یہ جہنَّم کی تِہ تک پانچ سو سال میں بھی نہ پہنچ سکے گا ۔  (المستدرک للحاکم  ج۵ ص۱۴۰ حدیث ۷۱۵۱ دار المعرفۃ بیروت )

(۴)مُردہ اُٹھ بیٹھا

          جوہر آباد (ٹنڈوآدم) کے ایک کپڑے کے تاجِر کی لرزہ خیز داستان سنئے اور کانپئے  : اخباری اِطّلاع کے مطابِق قبرِسْتان میں ایک جنازہ لایا گیا ۔  امام صاحِب نے جُوں ہی نمازِ جنازہ کی نیَّت باندھی مُردہ اُٹھ کر بیٹھ گیا! لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی ۔  امام صاحِب نے بھی نیَّت توڑ دی اورکچھ لوگوں کی مدد سے اس کو پھرلٹا دیا ۔  تین مرتبہ مُردہ اُٹھ کر بیٹھا ۔  امام صاحِب نے مرحوم کے رشتہ داروں سے پوچھا  : کیا مرنے والا سود خور تھا؟ انہوں نے اِثبات (یعنی تصدیقاً ہاں ) میں جواب دیا ۔  اِس پرامام صاحِب نے نَمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا! لوگوں نے جب لاش قَبْر میں رکھی تو قَبْر زمین کے اندر دھنس گئی ۔  اس پر لوگوں نے لاش کو مِٹّی وغیرہ سے دباکر بِغیر فاتِحہ ہی گھر کی راہ لی ۔ ہم قَہرِ قَھّار اور غَضَبِ جبّار سے اُسی کی پناہ کے طلبگار ہیں ۔    ؎

سُود و رِشوت میں نحوست ہے بڑی

اور دوزخ میں سزا ہوگی کڑی

        سُود کی مذمّت پرچار روایات

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس طرح کے لرزہ خیز واقِعات بندوں کو گناہوں کے انجام سے ڈرانے اور سنّتوں بھرے رَستے پر چلنے کی ترغیب کیلئے  دکھائے جاتے ہیں ۔ عبرت کیلئے کبھی کبھی ظاہرکی جانے والی سزاؤں کے مناظِر کے علاوہ مزید خوفناک عذاب کا سلسلہ بھی اُن گنہگاروں کیلئے ہو سکتا ہے ۔ اِس لرزہ خیز واقِعہ میں مرنے والے کو ’’ سود خور‘‘ ظاہِر کیا گیا ہے ۔ واقِعی  سُود کی بھی بَہُت زیادہ نُحُوست ہوتی ہے ۔ اِس کو سمجھنے کیلئے چار احادیثِ مبارکہ مُلاحَظہ فرمایئے  : {۱}صحیح مسلم شریف کی حدیث ہے  :  رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے لعنت فرمائی سُود لینے والے اور دینے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہی کرنیوالوں پر اور فرمایا :  وہ سب برابر ہیں  ۔ (صحیح مُسلِم  ص ۸۶۲، حدیث ۱۵۹۸ دار ابن حزم بیروت){۲} سنن ابن ماجہ میں ہے  :  نبی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  :  سُود تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے ، ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زِنا کرے ۔ (سنن ابن ماجہ ج۳ ص۷۲ حدیث ۲۲۷۴، ۲۲۷۵ مُلْتَقَطاً مِنَ الْحَدِیْثَیْن){۳}مُسْنَدِ امام احمد بن حَنبل میں ہے  :    جو شخص جان بوجھ کر  سُود  کا ایک درہم کھائے ، تو چھتیس دفعہ زنا کرنے سے



Total Pages: 10

Go To