Book Name:Pur Asrar Bhikari

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲) (پ۳۰، التکاثر ۱، ۲)

ترجَمۂ کنزالایمان :  اللّٰہ (عَزَّ وَجَلَّ  ) کے نام سے شُروع جو نہایت مہربان رحم والا ۔  تمہیں غافِل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا ۔  

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟مال کی مَحبت نے کس قدر تباہی مچا ئی ۔  بھکاری اپنے مالِ حرام کو چُومتے چُومتے مرااور اُس کا دوست اس مالِ حرام کو حاصل کرنے گیا تواِس مصیبت میں پڑا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس پُراسرار بھکاری اور اُس کے دوست کے گناہوں کو معاف فرمائے اور ان دونوں کی بے حساب مغفِرت کرے اور یہ دعائیں ہم گنہگاروں کے حق میں بھی قبول فرمائے  ۔      اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نُمونے                   مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے

کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے                      جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سُونے

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

دولت سے دوا مل سکتی ہے شفا نہیں

        پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہمارے لیے ان کی لرزہ خیز  داستان میں عبرت کے بیشمار مَدَنی پھول ہیں ۔ ہر وقت مال ودولت کی حِرص وطمع میں رَچے بسے رہنے والوں کے لیے ، جمعِ مال کی ہوَس میں حلال وحرام کی تمیزاُٹھا دینے والوں کیلئے ، کاروباری مشغولیات کے سبَب نَماز کی جماعت  بلکہ مَعاذَاللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   نَماز ہی برباد کردینے والوں کے لیے اور زندَگی کاسُکون صِرف اورصِرف مال ودولت میں تلاش کرنے والوں کے لیے عِبرت ہی عِبرت ہے ۔ یاد رکھئے !دولت سے دوا تو خریدی جاسکتی ہے ، شِفا نہیں خریدی جاسکتی ۔  دولت سے دوست تو مل سکتے ہیں مگر وفا نہیں مِل سکتی ۔  دولت سببِ ہلاکت تو ہوسکتی ہے مگر اسکے ذَرِیعے موت نہیں ٹالی جاسکتی ۔  دولت سے شُہرت توحاصِل ہوسکتی ہے مگر عزّت حاصِل نہیں ہوسکتی ۔  

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!’’ پُراسرار بھکاری‘‘ کی لرزہ خیز داستان میں پیشہ وَر بھکاریوں کیلئے بھی عبرت کے مَدَنی پھول ہیں ۔ یاد رکھئے ! بطورِ پیشہ بھیک مانگنا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ، جو بِلا اجازت شَرعی سُوال کرتا ہے وہ جہنَّم کی آگ اپنے لئے طلب کرتا ہے اور اِس طرح جتنی رقم زِیادہ حاصِل کر یگا اُتنا ہی نار (یعنی آگ) کا زیادہ حقدار ہو گا ۔ اِ س ضِمن میں چار احادیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ فرمایئے  ۔

چار فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  :  {۱} جو شخص لوگوں سے سُوال کرے ، حالانکہ نہ اُسے فاقہ پہنچا، نہ اتنے بال بچّے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قِیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اُس کے منہ پر گوشت نہ ہو گا ۔ ‘‘ (شعب الایمان ج۳ ص ۲۷۴ حدیث ۳۵۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت){۲} ’’ جو شخص بغیر حاجت سُوال کرتا ہے ، گویا وہ انگارا کھاتا ہے (المعجم الکبیر، ج۴ ص۱۵ حدیث ۳۵۰۶ دار احیاء التراث العربی بیروت){۳} ’’ جو مال بڑھانے کے لیے سُوال کرتا ہے ، وہ انگارے کا سُوال کرتا ہے تو چاہے زیادہ مانگے یا کم



Total Pages: 10

Go To