Book Name:Pur Asrar Bhikari

          میں نے جلدہی اپنے آپ پر قابو پالیا اور اس کے سینے وغیرہ سے اور نیچے سے بھی نوٹ اکٹھے کر کے اس بوری میں واپس ڈال دیئے ۔ بوری کا مُنہ اچھّی طرح بند کر کے چاروں بوریاں حسبِ سابِق چیتھڑوں میں چُھپا دِیں ۔ پھر چند  آدمیوں کو ساتھ لے کر اس کی تکفین کی اور کسی بھی حِیلے سے بڑی سی قَبْر کُھدوا کر حسب ِوصیَّت وہ چاروں بوریاں اُس کے ساتھ ہی دَفْن کردیں ۔

          کچھ عَرصے بعد مجھے کاروبار میں خَسارہ شروع ہوگیا اور نوبت یہاں تک آگئی کہ میں اچھّا خاصا مَقروض ہوگیا ۔  قرض خواہوں کے تقاضوں نے میرے ناک میں دم کردیا، ادائے قرض کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی تھی ۔ ایک دن اچانک مجھے اپنا وُہی پُرانا یار پُر اَسرار بھکاری یادآگیا ۔  اور مجھے اپنی نادانی پر رَہ رَہ کر افسوس ہونے لگا کہ میں نے اُس کی وصیَّت پر عمل کر کے اتنی ساری رقم اس کے ساتھ کیوں دَفن کردی ۔  یقینامرنے کے بعد اُسے قَبْر میں اس کے مال نے کوئی نَفع نہ دینا تھا، اگر میں اُس مال کو رکھ لیتا توآج ضَرور مالدار ہوتا ۔  مزید شیطان نے مجھے مشورے دینے شروع کیے کہ اب بھی کیا گیا ہے ۔ وہاں قَبْر میں اب بھی وہ دولت سلامت ہوگی ۔  میں نے کسی پر ابھی تک یہ راز ظاہِر کیا ہی نہیں ہے ، حِیلہ کر کے میں نے تو بوریاں دَفن کی ہیں ، وہ اب بھی قَبْر میں موجود ہوں گی ۔  شیطان کے اِس مشورے نے مجھ میں کچھ ڈھارس پیدا کی اورمیں نے عزْ م کرلیا کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے میں وہ نوٹوں کی بوریاں ضَرور حاصِل کر کے رہوں گا ۔  

           ایک رات کُدال وغیرہ لے کر میں قَبْرِستان پہنچ ہی گیا ۔  میں اب اُس کی قَبْر کے پاس کھڑا تھا، ہر طرف ہولناک سنّاٹا اور خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی، میرا دل کسی نامعلوم خوف کے سبب زور زور سے دَھڑک رہا تھا اور میں پسینے میں شرابُور ہورہا تھا ۔  آخرِ کار ساری ہمّت جَمْعْْ کر کے میں نے اُس کی قَبْر پر کُدال چلا ہی دی ۔  دو۲  تین  ۳  کُدال چلانے کے بعد میرا خوف تقریباً جاتا رہا، تھوڑی دیر کی محنت کے بعد میں اُس میں ایک مُناسِب سا شِگاف کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔  اب بس ہاتھ اندر بڑھانے ہی کی دیر تھی لیکن پھر میری ہمّت جواب دینے لگی، خوف و دَہشت کے سبب میرا سارا وُجود تَھرتَھر کانپنے لگا ، طرح طرح کے ڈراؤنے خیالات نے مجھ پر غَلَبہ پانا شُروع کیا، ضمیربھی چِلّا چِلّا کر کہہ رہا تھا کہ لَوٹ چلو اور مالِ حرام سے اپنی عاقِبت کو برباد مَت کرو لیکن بِالآخِر حِرص و طمع غالِب آئی اور مالدار ہوجانے کے سُنہرے خواب نے ایک بار پھر ڈھارس بندھائی کہ اب تھوڑی سی ہمّت کرلو منزلِ مُراد ہاتھ میں ہے ۔ آہ! دولت کے نشے نے مجھے انجام سے بالکل غافِل کردیا اور میں نے اپنا سیدھا ہاتھ قَبْر کے شِگاف میں داخل کردیا! ابھی بوری ٹَٹَول ہی رہا تھا کہ میرے ہاتھ میں اَنگارا آگیا ۔  دَرْد وکَرْب سے میرے مُنہ سے ایک زوردار چیخ نکل گئی اور قبرِستان کے بھیانک سنّاٹے میں گم ہوگئی، میں نے ایک دَم اپنا ہاتھقَبْر سے باہَر نکالا اور سرپر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔  میرا ہاتھ بُری طرح جُھلَس چکا تھا اور مجھے سخت جَلن ہورہی تھی، میں نے خوب رو رو کر بارگاہِ خُداوندی عَزَّ وَجَلَّ  میں توبہ کی میرے ہاتھ کی جلن نہ گئی ۔  اب تک بے شُمار ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج بھی کراچکا ہوں لیکن ہاتھ کی جلن نہیں جاتی ۔  ہاں اُنگلیاں پانی میں ڈَبونے سے کچھ آرام ملتا ہے ۔ اسی لیے ہر وَقت اپنا دایاں ہاتھ پانی میں رکھتا ہوں ۔

          اُس شخص کی یہ رِقّت انگیز داستان سُن کر میرا دل ایک دم دُنیا سے اُچاٹ ہوگیا ۔  دنیاکی دولت سے مجھے نفرت ہوگئی اور بے ساختہ قرآن عظیم کی یہ آیات مجھے یاد آگئیں  :

 



Total Pages: 10

Go To