Book Name:Aqeeqay kay baray main sawal jawab

 

رضویہ ج۲۰ص۵۸۵)  مثلاً محمد رضا بن محمد علی ۔

کیا دعا پڑھنا ضَروری ہے ؟

سُوال29 :  کیادُعا پڑھے بِغیر عقیقہ نہیں ہوگا؟

جواب :  بِغیردُعاپڑھے ذَبْح کرنے سے بھی عقیقہ ہوجائیگا ۔     (بہارِشریعت ج۳ص۳۵۷)

عقیقہ کے گوشت کی ہڈیاں توڑنا کیسا؟

سُوال30 :  کیا یہ دُرُست ہے کہ عقیقے کے جانور کی ہڈّیاں نہ توڑی جائیں !

جواب :  بہتر یہ ہے کہ اس کی ہڈّی نہ توڑی جائے بلکہ ہڈّیوں پر سے گوشت اتارلیا جائے یہ بچّے کی سلامَتی کی نیک فال ہے اور ہڈّی توڑ کر گوشت بنایا جائے اس میں بھی حَرَج نہیں ۔ (ایضاً)

 میٹھا گوشت

سُوال31 :  کیا عقیقے کا گوشت پکانے کا بھی کوئی مخصوص طریقہ ہے ؟

جواب :  صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ، حضرتِ  علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : گوشت کو جس طرح چاہیں پکا سکتے ہیں میٹھاپکا یا جائے تو بچّے کے اَخلاق اچّھے ہونے کی فال ہے ۔ ( ایضاً ) میٹھا گوشت بنانے کے دو طریقے  : {۱} ایک کلو گوشت ، آدھا کلو میٹھا دَہی، سات دانے چھوٹی اِلائچی، 50گرام بادام، حسبِ ضَرورت گھی یا تیل سب ملا کر پکا لیجئے ، پکنے کے بعد ضَرورت کے مطابِق چاشنی ڈالئے ۔ زینت (یعنی خوبصورتی) کیلئے گاجَر کے باریک ریشے بنا کر نیز کِشمِش وغیرہ بھی ڈالے جا سکتے ہیں {۲} ایک کلو گوشت میں آدھا کلو چُقَندر ڈال کر حسبِ معمول پکا لیجئے  ۔

سُوال32 :  عقیقے کے موقع پر جو تحائف دیئے جاتے ہیں یہ کیسا ہے ؟

جواب : آج کل عُمُوماً عقیقے کے لیے طعام(یعنی کھانے ) کا اِہتِما م کر کے عزیز واَقارِب دعوت دی جاتی ہے جو کہ اچّھا کام ہے اوردعوت پر آنے والے مہمان، بچّے کے لیے تحفے لاتے ہیں یہ بھی خوب ہے ۔ البتّہ یہاں کچھ تفصیل ہے : اگر مِہمان کچھ تحفہ نہ لائے تو بعض اوقات میزبان یا اُس کے گھر والے مِہمان کی بُرائی کرنے کے گناہوں میں پڑتے ہیں ، تو جہاں یقینی طور پر یا ظنِّ غالِب سے ایسی صورتِ حال ہو وہاں مہمان کو چاہئے کہ بِغیر مجبوری کے نہ جائے ، ضَرورتاً جائے اور تحفہ لے جائے تو حَرَج نہیں ، البتّہ میزبان نے اِس نیّت سے لیا کہ اگر مہمان تحفہ نہ لاتا تو یہ یعنی میزبان اِس (مہمان) کی بُرائیاں کرتا ، یابطورِ خاص نیّت تو نہیں مگر اِس(میزبان) کا ایسا بُرامعمول ہے تو جہاں اِسے (یعنی میزبان کو) غالِب گمان ہو کہ لانے والا اِسی طور پر یعنی(میزبان کے ) شَرسے بچنے کیلئے لایا ہے تو اب لینے والا میزبان گنہگار اور عذابِ نارکا حقدار ہے اور یہ تحفہ اِ س کے حق میں رشوت ہے ۔ ہاں اگر بُرائی بیان کرنے کی نیّت نہ ہواور نہ اِس کا ایسا بُرا معمول ہو تو تحفہ قَبول کرنے میں حَرَج نہیں  ۔

نوٹ : یہ رسالہ پہلی بارماہ شیخ عبدالقادر ۷ ربیع الآخِر ۱۴۲۸ھبمطابق2007-4-25 کو ترتیب پایا اور کئی بار شائع کیا گیا پھر۵ذُوالقعدۃِ الحرام  ۱۴۳۳ھ؁ بمطابق2012-9-23 میں اِس

 

پر نظرِ ثانی کی ۔

ایک چُپ سو۱۰۰ سُکھ

طالب غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و

بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب

 



Total Pages: 9

Go To