Book Name:Sunnatain aur Adaab

مگر اصل مصافحہ کا جواز حدیث سے ثابت ہے تو اس کو بھی جائز ہی سمجھا جائے گا۔(بہار شریعت، حصہ ۱۶، ص۹۸)

        (۱۰) فقط انگلیوں کے چھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو۔

( بہار شریعت، حصہ۱۶، ص۹۸)

        (۱۱)مصافحہ کرتے وقت سنت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہئے۔(بہار شریعت، سلام کا بیان، حصہ ۱۶، ص۹۸)

        (۱۲) مسکراکرگرم جوشی سے مصافحہ کریں ۔ درود شریف پڑھیں اور ہوسکے تو یہ دعا بھی پڑھیں ’’ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَنَا وَلَکُمْ‘‘ (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے)۔

        (۱۳)ہر نماز کے بعدلوگ آپس میں مصافحہ کرتے ہیں یہ جائز ہے ۔(ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع ، ج۹، ص۶۸۲)

        (۱۴)گلے ملنے کو معانقہ کہتے ہیں او ریہ بھی سر کار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہے۔(بہار شریعت، سلام کا بیان، حصہ ۱۶، ص۹۸)

        (۱۵)صرف تہبند باندھ کر یا پاجامہ پہنے ہوں اس وقت معانقہ نہ کریں بلکہ کُرتا   پہنا ہوا ہویاکم از کم چادر لپٹی ہوئی ہونی چاہیے ۔(بہار شریعت، سلام کا بیان، حصہ ۱۶، ص۹۸)

        (۱۶)عیدین میں معانقہ کرنا جائز ہے ۔(بہار شریعت، سلام کا بیان، حصہ ۱۶، ص۹۰)

        (۱۷)عالمِ دین کے ہاتھ پاؤں چومنا جائز ہے ۔(بہارشریعت ، حصہ ۱۶، ص۹۹)

        (۱۸)مصافحہ کے بعد اپنا ہی ہاتھ چوم لینا مکروہ ہے ۔(بہارشریعت ، حصہ ۱۶، ص۹۹)

        (۱۹)ہاتھ پاؤں وغیرہ چومنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ محل فتنہ نہ ہو ، اگر معاذ اللّٰہشہوت کے لئے کسی اسلامی بھائی سے مصافحہ یامعانقہ کیا ، ہاتھ پاؤں چومے یا نعوذباللّٰہ پیشانی کابو سہ لیا تو یہ ناجائزہے ۔( ملخصاًبہارشریعت ، حصہ ۱۶، ص۹۸)

        (۲۰) والدین کے ہاتھ پاؤں بھی چوم سکتے ہیں ۔

        (۲۱) عالم باعمل اور نیک اسلامی بھائی کی آمد پر تعظیم کیلئے کھڑا ہوجانا جائز بلکہ مستحب ہے مگر وہ عالم یا نیک شخص بذات خود اپنے آپ کو تعظیم کا اہل تصور نہ کرے اور یہ تمنا نہ کرے کہ لوگ میرے لئے کھڑے ہوجایا کریں ۔ اور اگر کوئی تعظیما کھڑا نہ ہو تو ہر گز ہرگز دل میں کدورت (میل) نہ لائیں ۔(ماخوذازفتاویٰ رضویہ ، ج۲۳، ص۷۱۹)

                اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اخلاص او رخوش دلی کے ساتھ ہر مسلمان کو سلام کرنے اور ان کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ مصافحہ کرنے کی تو فیق رفیق مرحمت فرما ۔‘‘

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭٭   

بات چیت کرنے کی سنتیں اور آداب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        اس زندگی میں ہمیں ہر وقت بات چیت کرنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے ۔ بلکہ ہم لوگ بلا ضرور ت بھی ہر وقت بولتے رہتے ہیں حالانکہ یہ بلا ضرو رت بولنا بہت بہت ہی نقصا ن دہ ہے غیر ضروری گفتگو کرنے سے خاموش رہنا افضل ہے ۔لہذا ہمارے پیارے مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بات چیت کے سلسلے میں سنتیں اور آداب اور خاموشی کے فضائل وغیرہ یہاں پر بیان کئے جاتے ہیں ۔

     (۱)سر کارمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گفتگو اس طر ح دلنشین انداز میں ٹھہرٹھہر کر فرماتے کہ سننے والا آسانی سے یاد کرلیتا چنانچہاُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُافرماتی ہیں کہ سرکار دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صاف صاف اورجدا جدا کلام فرماتے تھے، ہر سننے والا اس کو یا دکرلیتا تھا۔(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عائشہ،  الحدیث  ۲۶۲۶۹، ج۱۰، ص۱۱۵)

         (۲)مسکرا کر اور خندہ پیشانی سے بات چیت کیجئے ۔چھوٹوں کے ساتھ مشفقانہ اور بڑو ں کے ساتھ مؤد با نہ لہجہ رکھئے اِنْ شَآءَ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ دو نوں کے نزدیک آپ معزّز رہیں گے ۔

        (۳)چلاّ چلاّ کر بات کرنا جیسا کہ آجکل بے تکلفی میں دوست آپس میں کرتے ہیں ، معیوب ہے۔

        (۴)دوران گفتگو ایک دوسرے کے ہاتھ پرتالی دینا ٹھیک نہیں کیونکہ تالی ، سیٹی بجانامحض کھیل کود، تماشہ اور طریقۂ کفار ہے۔ (تفسیر نعیمی، ج۹، ص۵۴۹)

        (۵) بات چیت کرتے وقت دوسرے کے سامنے با ربار ناک یا کان میں انگلی ڈالنا ، تھوکتے رہنا اچھی بات نہیں ۔ اس سے دو سرو ں کو گھن آتی ہے ۔

        (۶)جب تک دوسرا بات کر رہا ہو ، اطمینان سے سنیں ۔ اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع نہ کردیں ۔

        (۷)کوئی ہکلا کر بات کرتا ہو تو اس کی نقل نہ اُتا ریں کہ اس سے اس کی دل آزاری ہوسکتی ہے ۔

        (۸) بات چیت کرتے ہوئے قہقہہ نہ لگائیں کہ سر کار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا (قہقہہ یعنی اتنی آواز سے ہنسنا کہ دوسرو ں تک آواز پہنچے ۔)(ماخوذ از مراٰۃالمناجیح، ج۶، ص۴۰۲)

        (۹)زیادہ باتیں کرنے اور بار بار قہقہہ لگانے سے وقار بھی مجرو ح ہوتا ہے ۔

        (۱۰)سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمان عالیشان ہے :  ’’ جب تم کسی دنیا سے بے رغبت شخص کو دیکھو اور اُسے کم گو پاؤتو اس کے پاس ضرور بیٹھو کیونکہ اس پر حکمت کا نزول ہوتا ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد ، باب الزہد فی الدنیا،  الحدیث  ۴۱۰۱، ج۴، ص۱۲۲)

 



Total Pages: 33

Go To