Book Name:Sunnatain aur Adaab

(جامع الترمذی ، کتاب الاستیذان والادب، باب ماجآء فی المصافحہ ،  الحدیث  ، ۲۷۴۰، ج۴، ص۳۳۴ )

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا حسن اخلاق میں سے ہے، سرکار مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں ، ’’ لوگوں کو تم اپنے اموال سے خوش نہیں کرسکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اورخوش اخلاقی انہیں خوش کرسکتی ہیں ۔‘‘ (شعب الایمان ، باب حسن الخلق ، فصل فی طلاقۃ الوجہ ،  الحدیث  ۸۰۵۴، ج۶، ص۲۵۳)

         (۶)خوشی میں کسی سے گلے ملنا سنت ہے ۔(مراٰۃ المناجیح، ج۶، ص۳۵۹)حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :  زید بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمدینہ آئے اور حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے گھر میں تھے ، زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوہاں آئے اوردروازہ کھٹکھٹا یا ۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اٹھ کر کپڑاکھینچتے ہوئے ان کی طر ف تشریف لے گئے ۔ ان سے معانقہ کیا اور ان کو بوسہ دیا۔(جامع الترمذی، کتاب الاستئذان ، باب ماجآء فی المعانقۃ والقبلۃ،  الحدیث ۲۷۴۱، ج۴، ص۳۳۵)

        سرکا ر مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو طلب فرمایا ، جب وہ حاضر ہوئے تو سرکا رصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرط ِشفقت سے حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوگلے لگا لیا ۔ چنا نچہ حضرت ایوب بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک صاحب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا ، میں نے ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا ، جس وقت تم رسول  اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ملتے تھے کیا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہارے ساتھ مصافحہ فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا :  میں کبھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نہیں ملا مگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے ساتھ مصا فحہ کرتے (یعنی میں نے جب بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا ، سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مصا فحہ ضرور فرمایا)ایک دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میری طر ف پیغام بھیجا ۔میں اپنے گھر موجود نہیں تھا ۔ جب میں آیا مجھے خبر دی گئی ۔ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تخت پر رونق افرو ز تھے ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے گلے لگالیا۔یہ بہت بہتر ہوا اور بہتر ۔(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب فی المعانقہ ،  الحدیث ۵۲۱۴، ج۴، ص۴۵۳)

         حضرت سیدنا جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسرکا ر ابد قرارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو ان کو بھی گلے سے لگایا چنانچہ حضرت شعبی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریم ، روف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ملے تو گلے سے لگالیا او ران کی آنکھوں کے درمیان بو سہ دیا ۔

(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب فی قبلہ مابین العینین ،  الحدیث ۵۲۲۰، ج۴، ص۴۵۵)

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        خوش نصیب صحابہ کرام علیہم الرضوان سرکار ذی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے رحمت بھرے ہاتھوں کو چومنے کی سعادت بھی حاصل کرتے تھے ۔ حضرت ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ایک واقعہ مروی ہے جس میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ہم حضور تاجدار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب ہوئے اور ہم نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب فی قبلۃ الید،  الحدیث ۵۲۲۳، ج۴، ص۴۵۶)

   ؎ جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھردیئے 

 صدقہ ان ہاتھوں کاپیارے ہم کو بھی درکار ہے 

  صحابہ کرام سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقد س ہاتھ پاؤں چومتے تھے

        حضرت زارع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبد القیس کا وفد سرکار مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت اقد س میں حاضر ہوا، یہ بھی اس وقت وفد میں شریک تھے ۔آپ فرماتے ہیں کہ جب ہم اپنی منزلوں سے مدینہ شریف پہنچے تو جلدی جلدی سر کار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دست مبارک اور قدم شریف کو بو سہ دیا ۔(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب فی قبلۃ الرجل ،  الحدیث ۵۲۲۵، ج۴، ص۴۵۶)

              سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشو ا حضرت سیدنا با با فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : مشائخ وبزرگان دین رحمہم  اللہ  کی دست بو سی یقینادین ودنیا کی خیروبرکت کاباعث بنتی ہے ۔ ایک دفعہ کسی نے ایک بزرگ کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا ، ’’ مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی  اللہ  تبارک و تَعَالٰی نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ کہا ، دنیا کاہرمعاملہ اچھا اور برا میرے آگے رکھ دیا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ حکم ہوا ، اسے دو زخ میں لے جاؤ ! اس حکم پر عمل ہونے ہی والا تھا کہ فرمان ہوا ، ’’ ٹھہرو ! ایک دفعہ اس نے جامع دمشق میں خواجہ شریف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

   

کے دستِ مبارک کو چوماتھا ۔ اس دست بوسی کی برکت سے ہم نے اسے معاف کیا۔(اسرار اولیاء مع ہشت بہشت، ص۱۱۳)

  ؎  رحمت حق ’’بہا‘‘نہ می جوید          رحمت حق ’’بہانہ‘‘ می جوید

یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت بہا یعنی قیمت طلب نہیں کرتی ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت تو بہانہ ڈھونڈتی ہے ۔

        مزید شیخ المشائخ بابا فرید الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : قیامت کے دن بہت سارے گناہگار، بزرگان دین رحمہم  اللہ   تَعَالٰی کی دست بو سی کی برکت سے بخشے جائیں گے اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے۔  (اسرار اولیاء مع ہشت بہشت، ص۱۱۳)

        (۷)دو نوں ہاتھوں سے مصافحہ کریں ۔(بہارشریعت ، حصہ ۱۶، ص۹۸)

        (۸)جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے۔(بہارشریعت، حصہ ۱۶، ص۹۷)

         (۹) رخصت ہوتے وقت بھی مصافحہ کریں ۔صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ  اللہ  الغنی لکھتے ہیں :   ’’اس کے مسنون ہونے کی تصریح نظر فقیر سے نہیں گزری



Total Pages: 33

Go To