Book Name:Sunnatain aur Adaab

اگر پہنچا نے والی عورت ہو اور بھیجنے والا مرد ہوعَلَیْکِ وَ علیہ السلام ۔ (ان سب کا ترجمہ یہی ہے ’’ تجھ پر بھی سلام ہو او ر اس پر بھی‘‘)

        (۳۲)جب آپ مسجد میں داخل ہوں اور اسلامی بھائی تلاوتِ قرآن، ذکرودرود میں مشغول ہوں یاا نتظارِ نماز میں بیٹھے ہوں ان کو سلام نہ کریں ۔ یہ سلام کا موقع نہیں نہ ان پر جواب واجب ہے ۔  (الفتاویٰ الہندیہ ، کتاب الکراہیۃ، باب السابع فی السلام وتشمیت العاطس، ج۵، ص۲۲۵)

         امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت شاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ جلد 23صفحہ 399 پر لکھتے ہیں : ذاکر پر سلام کرنا مطلقًا منع ہے اور اگر کوئی کرے تو ذاکر کواختیار ہے کہ جواب دے یا نہ دے۔ ہاں اگر کسی کے سلام یا جائز کلام کا جواب نہ دینا اس کی دل شکنی کا موجب(یعنی سبب) ہو تو جواب دے کہ مسلمان کی دلداری وظیفہ میں بات نہ کرنے سے اہم واعظم ہے۔

        (۳۳) کوئی اسلامی بھائی در س وتدریس یا علمی گفتگویا سبق کی تکرار میں ہے اس کو سلام نہ کریں ۔(بہار شریعت، سلام کا بیان، حصہ ۱۶، ص۹۱)

        (۳۴)اجتماع میں بیان ہو رہا ہے، اسلامی بھائی سن رہے ہیں آنے والاسلام نہ کرے۔

        (۳۵)جوپیشاب، پاخانہ کر رہاہے ، یاپیشاب کرنے کے بعد ڈھیلا لئے جائے پیشاب سکھانے کے لئے ٹہل رہا ہے ، غسل خانے میں برہنہ نہا رہا ہے ، گانا گار ہا ہے ، کبوتراڑارہا  ہے یاکھانا کھارہا ہے ان سب کو سلام نہ کریں ۔(بہار شریعت، سلام کا بیان، حصہ ۱۶، ص۹۱)

        (۳۶) جن صورتوں میں سلام کرنا منع ہے اگر کسی نے کر بھی دیاتو ان پر جواب واجب نہیں ۔(بہار شریعت، سلام کا بیان، حصہ ۱۶، ص۹۱)

        (۳۷)کھانا کھانے والے کو سلام کردیا تو منہ میں اس وقت لقمہ نہیں توجواب دے دے ۔

        (۳۸)سائل(بھکاری) کے سلام کاجواب واجب نہیں ( جبکہ بھیک مانگنے کی غر ض سے آیا ہو)۔(بہار شریعت، سلام کا بیان، حصہ ۱۶، ص۹۰)

اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں سلام کی بر کتو ں سے مالا مال فرما ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭٭   

مصافحہ اور معانقہ کی سنتیں اور آداب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        جب د و اسلامی بھائی آپس میں ملیں تو پہلے سلام کریں اور پھر دونوں ہاتھ  ملائیں کہ بوقت ملاقات مصافحہ کرنا سنّتِ صحابہ علیہم الرضوانبلکہ سنّتِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ج۶، ص۳۵۵) حضرت ابوا لخطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کیا ، کہ مصافحہ (ہاتھ ملانا) حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحا بہ کرام علیہم الرضوان میں مروج تھا ؟آپ رضی  اللہ  عنہ نے فرمایا ، ’’ہاں ۔‘‘(صحیح البخاری ، کتاب الاستیذان، باب المصافحہ،  الحدیث ۶۲۶۳، ج۴، ص۱۷۷)

         (۱)آپس میں ہاتھ ملانے سے کینہ ختم ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو تحفہ دینے سے محبت بڑھتی  اور عداوت دور ہوتی ہے جیسا کہ حضرت عطا ء خراسانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرو، اس سے کینہ جاتا رہتا ہے اور ہدیہ بھیجو آپس میں محبت ہوگی اور دشمنی جاتی رہے گی۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الادب ، باب ماجآء فی المصافحہ ،  الحدیث  ۴۶۹۳، ج۲، ص۱۷۱)

        (۲)ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے والوں کے لئے دعا کی قبولیت اور ہاتھ جداہونے سے قبل ہی مغفرت کی بشارت ہے ۔ چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکار مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : ’’ جب دو مسلمانوں نے ملاقات کی او رایک دو سرے کا ہاتھ پکڑلیا (یعنی مصافحہ کیا) تو  اللہ   تَعَالٰی کے ذمہ کرم پر ہے کہ ان کی دعا کوحاضر کردے (یعنی قبول فرمالے) اور ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں گے کہ ان کی مغفرت ہوجائے گی ۔ اور جو لوگ جمع ہو کر  اللہ   تَعَالٰی کا ذکرکرتے ہیں اور سوائے رضائے الٰہی  عَزَّ وَجَلَّ  کے ان کا کوئی مقصد نہیں تو آسمان سے منادی ندا دیتاہے کہ کھڑے ہوجاؤ! تمہاری مغفرت ہوگئی، تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا۔‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند انس بن مالک ،  الحدیث  ۱۲۴۵۴، ج۴، ص۲۸۶)

        (۳)اسلامی بھائیوں کے آپس میں مصافحہ کرنے کی برکت سے دونوں کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔تا جدار مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے ملے اور ’’ہاتھ پکڑے‘‘ (یعنی مصافحہ کرے ) تو ان دو نوں کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے تیز آندھی کے دن میں خشک درخت کے پتے ۔ اور ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگر چہ سمند ر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین ، فصل فی المصافحۃ والمعانقۃ،  الحدیث  ۸۹۵۰، ج۶، ص۴۷۳ )

        رحمت ِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جب دودو ست آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں اور نبی( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پردرود پاک پڑھتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین ، فصل فی المصافحۃ والمعانقۃ ،  الحدیث  ۸۹۴۴، ج۶، ص۴۷۱ )

             (۴)سب سے پہلے یمنی اسلامی بھائیوں نے سر کارِ پُرْوقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مصافحہ کرنے (ہاتھ ملانے )کا شرف حاصل کیا ۔چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب اہل یمن مدنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں اور وہ پہلے آدمی ہیں ، جنہوں نے آکر مصافحہ کیا ۔‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب فی المصافحہ،  الحدیث  ۵۲۱۳، ج۴، ص۴۵۳ )

        (۵)سلام کے ساتھ ساتھ مصافحہ کرنے سے سلام کی تکمیل ہوتی ہے ۔ حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، سرکار مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے ؟ اور پوری تحیت (سلام کرنا ) یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیاجائے ۔

 



Total Pages: 33

Go To