Book Name:Sunnatain aur Adaab

        حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا بیان ہے ، تاجدار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’ سنت یہ ہے کہ آدمی مہمان کو دروازے تک رخصت کرنے جائے۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ ، باب الضیافۃ،  الحدیث ۳۳۵۸، ج۴، ص۵۲)

        اے ہمارے پیارے  اللہ  !  عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں مہمانوں کی خوش دلی کے ساتھ مہمان نوازی کی توفیق عطا فرما اوربار بار ہمیں میٹھے میٹھے مدینے کی مہکی مہکی فضاؤں میں میٹھے میٹھے مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مہمان بننے کی سعادت نصیب فرما۔ (اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)

٭٭٭٭٭٭   

عمامہ کے فضائل

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !

        عمامہ شریف ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بہت ہی پیاری سنت ہے۔ ہمارے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیشہ سرِ اقدس پر اپنی مبارک ٹوپی پر عمامہ مبارکہ کوسجاکر رکھا۔ امام اہلسنّت ، مجدددین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن  فرماتے ہیں عمامہ سنتِ متواترہ دائمہ ہے ۔(فتاویٰ رضویہ جدید، ج ۶، ص۲۰۸، ۲۰۹)

 تاجدار مدینہ  صلی  اللہ   تَعَالٰی  علیہ واٰلہ وسلم کے آٹھ ۸ ارشادات

(۱) عمامہ کے ساتھ دو رکعتیں بغیر عمامہ کی ستر (۷۰) رکعتوں سے افضل ہیں ۔(فردوس الاخبار ، باب الرا ء، فصل رکعتان،  الحدیث  ۳۰۵۴، ج ۱، ص۴۱۰)

 (۲) عمامہ کے ساتھ نماز دس ۱۰ہزار نیکیوں کے برابر ہے ۔(فردوس الاخبار، باب الصاد ،  الحدیث  ۳۶۲۱، ج۲، ص۳۱)

(۳) بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں جمعہ کے دن عمامہ والوں پر۔(الجامع الصغیر ، حرف الھمزۃ،  الحدیث  ۱۸۱۷، ص۱۱۳)

(۴) ٹوپی پر عمامہ ہمارا اور مشرکین کا فرق ہے ہر پیچ پر کہ مسلمان اپنے سر پر دیگا اس پر روزقیامت ایک نور عطا کیا جائیگا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح ، کتاب اللباس ،  الحدیث  ۴۳۴۰، ج ۸، ص۱۴۷)   

(۵) عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھے گا۔ (المستدرک ، کتاب اللباس ، باب اعتمو اتزدادوا حلماً،  الحدیث  ۷۴۸۸، ج۵ ، ص۲۷۲)

(۶) عمامہ مسلمانوں کا وقاراور عرب کی عزت ہے تو جب عرب عمامہ اتاردینگے اپنی

عزت اتار دینگے۔( فردوس الاخبار ، باب العین ،  الحدیث  ۴۱۱۱، ج۲، ص۹۱)

 (۷) تاجدار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عمامہ کی طرف ا شارہ کرکے فرمایا :  ’’فرشتوں کے تاج ایسے ہی ہوتے ہیں ۔‘‘(کنزالعمال ، کتاب المعیشۃوالعادات، باب آداب التعمم ،  الحدیث  ۴۱۹۰۶ج۱۵، ص۲۰۵)

(۸) عمامہ کیساتھ ایک جمعہ بغیر عمامہ کے ستر(۷۰) جمعہ کے برابر ہے ۔(فردوس الاخبار ، باب الجیم ،  الحدیث  ۲۳۹۳، ج۱، ص۳۲۸)

حکایت :  

        حضرت سالم بن عبد اللہ  بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمفرماتے ہیں کہ میں اپنے والدماجد حضرت عبد اللہ  بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے حضور حاضر ہوا وہ عمامہ باندھ رہے تھے جب باندھ چکے تو میری طرف التفات کرکے فرمایا :  تم عمامہ کو دوست رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی :  کیوں نہیں ! فرمایا :  اسے دوست رکھو عزت پاؤگے اور جب شیطان تمہیں دیکھے گا تم سے پیٹھ پھیر لے گا، اے فرزند عمامہ باندھ کہ فرشتے جمعہ کے دن عمامہ باندھے آ تے ہیں اور سورج ڈوبنے تک عمامہ باندھنے والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں ۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ جدید ، ج۶، ص۲۱۵ )

      عمامہ مبارکہ کے پیچ سیدھی جانب ہونے چاہئیں چنانچہ امام اہلسنت اعلیٰحضرت مولیٰنا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن عمامہ شریف اس طرح باندھتے کہ شملہ مبارکہ سیدھے شانہ پر رہتا۔ نیز باندھتے وقت اسکی گردش بائیں (یعنی الٹے) ہاتھ سے فرماتے جبکہ سیدھا ہاتھ مبارک پیشانی پر رکھتے اور اسی سے ہر پیچ کی گرفت فرماتے۔(حیات اعلی حضرت علیہ الرحمۃ، ج۱، ص ۱۴۴)

عمامہ کے آداب :

(۱) عمامہ سات ۷ہاتھ(ساڑھے تین گز) سے چھوٹا نہ ہو اور بارہ ۱۲ہاتھ(چھ گز سے بڑا نہ ہو) (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب اللباس تحت  الحدیث  ۴۳۴۰، ج۸، ص۱۴۸)

(۲)عمامہ کے شملے کی مقدارکم از کم چار انگل اور زیادہ سے زیادہ اتنا ہو کہ بیٹھنے میں نہ دبے ۔(فتاویٰ رضویہ جدید ، ج ۲۲، ص۱۸۲، بہارشریعت، حصہ ۱۶عمامہ کابیان ، ج۳، ص۵۵)

(۳) عمامہ اتارتے وقت بھی ایک ایک کر کے پیچ کھولنا چاہئے۔ عمامہ قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے کھڑے باندھے۔(الفتاوی الھندیہ ، کتاب الکراھیۃ، باب التاسع فی اللباس۔۔۔ الخ، ج۵، ص۳۳۰)

        اے ہمارے پیارے  اللہ  !  عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں عمامہ کی سنت پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭٭   

 قر ض دینے کے فضائل

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        حضرت عبد اللہ  بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، ’’ ہر قر ض صدقہ ہے ۔‘‘

 (شعب الایمان ، باب فی الزکاۃ، فصل فی القرض ،  الحدیث  ۳۵۶۳، ج ۳ ، ص۲۸۴)

         سروردوعالم ، شاہِ بنی آدم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے : ’’معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پرلکھا ہوا دیکھا کہ صدقے کا ہر درہم ، دس درہم کے برابر ہے



Total Pages: 33

Go To