Book Name:Aaina e Qayamat

          حضرتِ سری سقطیرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے بذریعہ الہام فرمایا گیا ’’اے سری! مَیں نے مخلوق پیدا فرماکراس سے پوچھا:’’کیاتم مجھ کودوست رکھتے ہو؟‘‘ سب نے بالاتفاق عرض کی کہ ’’تیرے سوا اورکون ہے جسے ہم دوست رکھیں گے؟‘‘ پھرمیں نے دنیا بنائی نوحصے اس کی طرف ہوگئے ،ایک حصہ نے کہا:’’ہم اس کی خاطر تجھ سے جدائی نہ کریں گے۔‘‘پھرآخرت خلق فرمائی ،اس ایک حصہ سے نوحصے اس کے خریدار ہوگئے،باقیوں نے عرض کی:’’ ہم دنیا کے سائل نہ آخرت پرمائل،ہم تو تیرے چاہنے والے ہیں۔‘‘پھربلائیں پیش کیں ان میں سے بھی نوحصے گھبراکرپریشان ہوگئے، ایک حصہ نے عرض کی: ’’تُوزمین اورآسمان کے چودہ طبق کوبلاکاایک طوق بناکر ہمارے گلے میں ڈال دے، مگرہم تیری طرف سے منہ پھیرنے والے نہیں۔‘‘ ان کی نسبت ارشاد ہوا:’’اُولٰٓئِکَ اولیائِی  حَقًّا‘‘یہ میرے سچے دوست ہیں۔ 

          اب اہلِ بیت کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی بلاپسندی حیرت کی آنکھوں سے دیکھنے کے قابل ہے ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ  سے بلاونعمت کے بارے میں سُوال ہوا،فرمایا: ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں۔

                                   انچہ([1]) ازدوست می رسدنیکوست

        امامِ حسن (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کوخبر ہوئی ، ارشاد ہوا: ’’اللہ ابوذر (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) پر رحم کرے مگرہم اہلبیت کے نزدیک بلا،نعمت سے افضل ہے کہ نعمت میں نفس کابھی حظ ہے اوربلامحض رضائے دوست ہے ۔ ‘‘

اللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

 یزیدپلیدکی تخت نشینی اورقیامت کے سامان

         ہجرت کاساٹھواں سال اوررجب کامہینہ کچھ ایسا دل دکھانے والاسامان اپنے

ساتھ لایا،جس کانظارہ اسلامی دنیاکی آنکھوں کو ناچاراُس طرف کھینچتا ہے،جہاں کلیجا نوچنے والی آفتوں ،بے چین کردینے والی تکلیفوں نے دینداردِلوں کے بے قرارکرنے اورخداپرست طبیعتوں کوبے تاب بنانے کے لئے حسرت وبے کسی کاسامان جمع کیا ہے۔ یزیدپلیدکاتختِ سلطنت کواپنے ناپاک قدم سے گندہ کرنا اُن ناقابلِ برداشت مصیبتوں کی تمہیدہے جن کوبیان کرتے کلیجا منہ کوآتااوردل ایک غیرمعمولی بے قراری کے ساتھ پہلومیں پھڑک جاتاہے ۔اس مردودنے اپنی حکومت کی مضبوطی ، اپنی ذلیل عزت کی ترقی اس امرمیں منحصرسمجھی کہ اہلِ بیتِ کرام کے مقدس وبے گناہ خون سے اپنی ناپاک تلوار رنگے ۔اس جہنمی کی نیت بدلتے ہی زمانے کی ہوانے پلٹے کھائے اورزہریلے جھونکے آئے کہ جاوداں بہاروں کے پاک گریباں ،بے خزاں پھولوں ، نوشگفتہ گلوں کے غم میں چاک ہوئے، مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہری بھری لہلہاتی پھلواڑی کے سہانے نازک پھول مرجھا مرجھا کرطرازِ دامنِ خاک ہوئے ۔

{امامِ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی شہادت اور بھائی کو نصیحت}

          اُس خبیث کاپہلا حملہ سیدنا امام حسن پر چلا۔ جعدہ زوجہ امام عالی مقام کو بہکایا کہ اگر تو زہر دے کر امام کا کام تمام کر دے گی تو میں تجھ سے نکاح کر لوں گا۔

وہ شقیہ بادشاہ بیگم بننے کے لالچ میں شاہان جنت کا ساتھ چھوڑ کر ،سلطنت عقبیٰ سے منہ موڑ کرجہنم کی راہ پر ہولی ۔کئی بار زہر دیاکچھ اثر نہ ہوا،پھرتو جی کھول کر اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرے اور امام جنت مقام کو سخت تیز زہر دیا یہاں تک کہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے جگرپارے کے اعضائے باطنی پارہ پارہ ہو کر نکلنے لگے۔

          یہ بے چین کر نے والی خبر سن کرحضرت امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ  اپنے پیارے بھائی کے پاس حاضرہوئے ۔سرہانے بیٹھ کرگزارش کی: ’’حضرت کوکس نے زہردیا؟  فرمایا ’’اگر وہ ہے جومیرے خیال میں ہے تواللہ بڑابدلہ لینے والا ہے،اور اگرنہیں ، تومیں بے گناہ سے عوض نہیں چاہتا۔‘‘(حلیۃ الاولیاء،الحسن بن علی،الحدیث۱۴۳۸،ج۲،ص۴۷ملخصاً)

 



[1]    دوست سے جو کچھ پہنچے اچھا ہوتا ہے۔



Total Pages: 42

Go To