Book Name:Aaina e Qayamat

وسلمکے پاس نہ رکھے گاایک کواختیارفرمالیجئے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمنے امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جدائی گوارا نہ فرمائی ،تین دن کے بعد حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انتقال ہو گیا۔اس واقعے کے بعد جب حاضر ہوتے،آپصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم بوسے لیتے اورفرماتے: ’’مَرْحَبًا بِمَنْ فَدَیْتُہٗ بِاِبْنِیْ۔ ایسے کومرحباجس پر میں نے اپنا بیٹاقربان کیا۔ (تاریخ بغداد،ج۲،ص۲۰۰،بلفظ’’ فدیت من ‘‘)

          اورفرماتے ہیں  :  ’’یہ دونوں میرے بیٹے اورمیری بیٹی کے بیٹے ہیں ،الٰہی!میں ان کو دوست رکھتا ہوں توبھی انہیں دوست رکھ اوراسے دوست رکھ جوانہیں دوست رکھے ۔ ‘‘(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ،الحدیث۳۷۹۴، ج۵،ص۴۲۷)

          بتول زہرارضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتے:’’ میرے دونوں بیٹوں کولاؤپھردونوں کو سونگھتے اورسینۂ انورسے لگالیتے ۔ ‘‘(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ،الحدیث۳۷۹۷، ج۵،ص۴۲۸ )

{محبوبانِ بارگاہِ الٰہی عزوجل اور قانونِ قدرت}

      جب حضورپرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکے یہ ارشاداورشہزادوں کی ایسی پاسداریاں ، نازبرداریاں یادآتی ہیں اورواقعاتِ شہادت پرنظرجاتی ہے توحسرت کی آنکھوں سے آنسو نہیں ،لہو کی بوندیں ٹپکتی ہیں اورخداعزوجلکی بے نیازی کاعالم آنکھوں کے سامنے چھاجاتا ہے، یہ مقدس صورتیں خداعزوجلکی دوست ہیں اوراللہ جل جلالہ  کی عادتِ کریمہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں اپنے دوستوں کو بلاؤں میں گھرا رکھتا ہے ۔

          ایک صاحب نے عرض کی کہ’’ میں حضور سے محبت رکھتا ہوں۔ فرمایا: ’’فقرکے لئے مستعد ہوجا۔‘‘عرض کی: ’’اللہ تعالٰی کودوست رکھتا ہوں۔‘‘ ارشاد ہوا: ’’بلاکے لئے آمادہ ہو۔ ‘‘اورفرماتے ہیں :’’سخت ترین بلا انبیاء علیہم الصلاۃ والثنا پر ہے، پھر جوبہتر ہیں پھر جو بہترہیں۔ ‘‘(المسند للامام أحمد،الحدیث:۲۷۱۴۷،ج۱۰،ص۳۰۶)

       نزدیکاں رابیش بود حیرانی  ([1])

 جن کے رتبے ہیں سوا ان کو     سوا مشکل ہے

{سرکارصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم اور خاندانِ سرکار  کا     فقرِ اِختیاری}

      ہمارے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کوخداعزوجل نے اشرف تریں مخلوق بنایااور محبوبیتِ خاص کا خلعتِ فاخرہ عطا فرمایا ۔اسی وجہ سے دنیاکی جوبلائیں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمنے اٹھائیں اورجو مصیبتیں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمنے برداشت کیں کسی سے ان کا تحمل ممکن نہیں۔اللہ اللہ! محبوبیت کی تووہ ادائیں کہ فرمایاجاتاہے:’’ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الدُّنْیَا‘‘ اے محبوب([2]) !میں اگرتم کونہ پیداکرتاتودنیاہی کونہ بناتا ۔ (فردوس الأخبار،الحدیث:۸۰۹۵،ج۲،ص۴۵۸ ’’بلفظ ماخلقت‘‘)

                    علوِمرتبت کی وہ کیفیتیں کہ اپنے خزانے کی کنجیاں دے کرمختارکل بنادیاکہ جو چاہو کرو،سیاہ و سپیدکاتمہیں اختیارہے۔

          ایسے بادشاہ جن کے مقدس سرپردونوں عالم کی حکومت کا چمکتاتاج رکھا گیا، ایسے رفعت پناہ ،جن کے مبارک پاؤں کے نیچے تختِ الٰہی بچھایا گیا،شاہی لنگرکے فقیر، سلاطین ِعالم، سلطانی باڑے کے محتاج، شاہان معظم، دنیا کی نعمتیں بانٹنے والے، زمانے کی دولتیں دینے والے، بھکاریوں کی جھولیاں بھریں ،منہ مانگی مرادیں پوری کریں۔ اب کاشانۂ اقدس اور دولت سرائے مقدس کی طرف نگاہ جاتی ہے اللہ تعالٰی کی شان نظرآتی ہے۔ایسے جلیل القدربادشاہ جن کی قاہرحکومت مشرق مغرب کوگھیرچکی اورجن کاڈنکا  ہفت آسمان وتمام روئے زمین میں بج رہا ہے ،ان کے برگزیدہ گھر میں آسایش کی کوئی چیزنہیں ،آرام کے اسباب تودرکنار، خشک کھجوریں اورجَو کے بے چھنے آٹے کی روٹی بھی تمام عمرپیٹ بھرکرنہ کھائی ۔       ؎

 



[1]    مقربین کو حیرانی زیادہ ہوتی ہیں۔

[2]    دیگر احادیث قدسی میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی شان میں یوں فرمایا جارہا ہے:

(الف)    لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکیعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا۔

(ب)   لَوْلَاکَ لَمَا اَظْہَرْتُ الرَّبُوْبِیَّۃِ  پیارے اگر تو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا۔



Total Pages: 42

Go To