Book Name:Aaina e Qayamat

بن حزام،زیادہ کا غلام یسار کے بجائے زیاد کا غلام یسار، مشروق بن وائل کے بجائے مسروق بن وائل اور مزاحم بن حرث کے بجائے مزاحم بن حریث لکھا ہے، اس کے علاوہ آخری صفحات میں ٭شیخِ طریقت ،امیرِ  اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کی مایہ ناز تألیف فیضانِ سنت جلد اوّل سے فضائل ِ عاشورہ بھی شامل کئے گئے ہیں اور ٭کتاب کے آخر میں مآخذ و مراجع کی فہرست بھی دی گئی ہے ۔

      ان تمام امور کو ممکن بنانے کے لیے ’’مجلس المدینۃ العلمیۃ ‘‘ کے مَدَنی علماء دامت فیوضہم نے بڑی محنت ولگن سے کام کیا اور حتی المقدور اس کتاب کو احسن انداز میں پیش کرنے کی سعی کی ۔اللہ عزوجل انہیں جزائے جزیل عطا فرمائے اور اخلاص و استقامت کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق مرحمت فرمائے اور دعوت ِاسلامی کی مجلس ’’المدینۃ العلمیۃ ‘‘ اور دیگر مجالس کو دن گیارھویں رات بارھویں ترقی عطافرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

                                       شعبۂ تخریج مجلس المدینۃ العلمیۃ 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد للّٰہ رب العالمین و الصلٰوۃ و السلام علی سیدنا و مولانا محمد و الہ و اصحابہ اجمعین ۔

{ حبیب خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں فضل شہادت کی حاضری }

              ہمارے حضورپرنور سرورِعالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کواللہ تعالٰی نے تمام کمالات

وصفات کامجمعِ خلق فرمایا۔حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے سے اوصافِ حمیدہ وخصائلِ پسندیدہ کسی مَلک ، کسی بشر،کسی رسول،کسی پیغمبرمیں ممکن نہیں۔ بنظرِظاہر،صرف فضلِ شہادت ،اس بارگاہِ عرش اشتباہ کی حاضری سے محروم رہا ۔اس کی نسبت علمائے کرام کا خیال ہے اور کتنانفیس خیال ہے کہ جنگِ اُحُدشریف میں اس روحِ مصور، جانِ مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کادندانِ مبارک شہید ہونا سب شہیدوں کی شہادت سے افضل ہے۔ اورجس وقت حضور پرنور  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کاتعلقِ خاطرشہزادوں کے ساتھ خیال میں آتا ہے تو اس امر کے اظہارمیں کچھ بھی تامل نہیں رہتا کہ ان حضرات کی شہادت حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمہی کی شہادت ہے اورانہوں نے نیابۃً اس شرف کوسرسبزی و سرخروئی عطا فرمائی۔

{فضائل امام حسن و حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما}

          ایک بارحضرتِ امامِ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ  حاضرِخدمتِ اقدس ہوکر حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکے شانۂ مبارک پرسوارہوگئے،ایک صاحب نے عرض کی :صاحبزاد ے آپکی سواری کیسی اچھی سواری ہے۔حضورِ اقدسصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا:’’اور سوار کیسا اچھا سوار ہے۔ (سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمدالحسن...الخ،الحدیث ۳۸۰۹، ج۵،ص۴۳۲)

          حضورپرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم سجدے میں تھے کہ امامِ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ  پشت مبارک سے لپٹ گئے ،حضورعلیہ الصلوۃ و السلام نے سجدے کوطول دیاکہ سراٹھانے سے کہیں گرنہ جائیں۔  (مسند ابی یعلی،مسند انس بن مالک،الحدیث۳۴۱۵،ج۳،ص۲۱)

          امامِ حسن اورامامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما کی نسبت ارشاد ہوتاہے:

          ’’ہمارے یہ دونوں بیٹے جوانانِ جنت کے سردارہیں۔‘‘ (سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ،الحدیث۳۷۹۳، ج۵،ص۴۲۶)

          اورفرمایاجاتاہے :

          ’’ان کا دوست ہمارادوست ،ان کادشمن ہمارادشمن ہے ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فضل الحسن والحسین،الحدیث۱۴۳، ج۱،ص۹۶)

          اورفرماتے ہیں :   ’’یہ دونوں عرش کی تلواریں ہیں ‘‘۔

          اور فرماتے ہیں :’’حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ،اللہ دوست رکھے اسے جوحسین کودوست رکھے، حسین سبط ہے اسباط سے ۔‘‘ 

(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ،الحدیث۳۸۰۰، ج۵،ص۴۲۹)

          ایک روز حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے دہنے زانوپرامامِ حسینرضی اللہ تعالٰی عنہ اوربائیں پر حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے صاحبزادے حضرتِ ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ  بیٹھے تھے،حضرت جبریلعلیہ السلام نے حاضرہوکر عرض کی کہ’’ان دونوں کوخدا حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ



Total Pages: 42

Go To