Book Name:Aaina e Qayamat

کوئی خاص نِعمت عطا فرمائے اُس کی یادگار قائم کرنا دُرُست و محبوب ہے کہ اس طرح اُس نِعمتِ عُظمٰی کی یاد تازہ ہوگی اورا ُسکا شکر ادا کرنے کا سبب بھی ہوگا۔ خود قُراٰنِ عظیم میں ارشاد فرمایا :

وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِؕ- ۱۳،ابراھیم :۵)        ترجَمۂ کنزالایمان:اور انھیں اﷲ کے دن یاددلا۔

    صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی  اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ اَیّٰمِ اللہسے وہ دن مُراد ہیں جن میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ا پنے بندوں پر انعام کئے جیسے کہ بنی اسرائیل کے لئے مَنّ و سَلْویٰ اتارنے کا دن، حضر ت سیِّدُنا موسیٰ علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن۔ ان اَیاّم میں سب سے بڑی نعمت کے دن سیِّدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی وِلادت ومِعراج کے دن ہیں ان کی یا د قائم کرنا بھی اِس آیت کے حکم میں داخِل ہے۔ (مُلخصاً خزائن العرفان، ص۴۰۹)

 عید میلا دالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم اور دعوت ِ اسلامی

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم مسلمانوں کیلئے سُلطانِ مدینۂ منوَّرہ ، شَہَنْشاہِ مکّۂ مکرّمہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے یومِ ولادت سے بڑھکرکون سادن’’ یومِ اِنعام‘‘ ہوگا؟ تمام نعمتیں اُنہیں کے طُفیل تو ہیں اور یہ دن عید سے بھی بہتر کہ اُنہیں کے َصدقہ میں عید بھی عید ہوئی۔ اِسی وجہ سے پِیر شریف کے دن روزہ رکھنے کا سبب ارشاد فرمایا: ’’ فِیْہِ وُلِدتُّ‘‘یعنی  اس دن میری ولادت ہوئی۔  (صحیح مسلم،ص۵۹۱،حدیث۱۱۶۲)

          اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی طرف سے دنیا کے بے شمار مُمالک کے لاتعداد مقامات پر ہر سال عید میلادالنبی  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمشاندارطریقے پر منائی جاتی ہے ۔ربیع النور شریف کی ۱۲ویں شب کو عظیم الشّان اجتماع میلاد کا انعقاد ہوتا ہے اور بالخصوص میرے حسن ظن کے مطابق اُس رات دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ِ میلاد بابُ المدینہ کراچی میں مُنعَقِد ہوتاہے ۔اور عید کے روز مرحبا یامصطفی  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی دُھومیں مچاتے ہوئے بے شمار جُلوس میلاد نکالے جاتے ہیں جن میں لاکھوں عاشقانِ رسول شریک ہوتے ہیں۔

عیدِ میلادُ النَّبی تو عید کی بھی عید ہے

با لیقیں ہے عیدِ عیداں عیدِ میلاد النَّبی

عاشُوراء کا روزہ

مدینہ۴        حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں ،’’میں نے سلطانِ دوجہان، شَہَنشاہِ کون ومکان، رحمتِ عالمیان صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کو کسی دن کے روز ہ کو اور دن پر فضیلت دیکر جُستُجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشوراء کا دن اور یہ کہ رَمَضان کا مہینہ۔‘‘ (صحیح البخاری،ج۱،ص۶۵۷،حدیث۲۰۰۶)

یہودیّوں کی مُخالَفَت کرو

مدینہ۵        نبیِّ رَحمت ،شفیعِ امّت،شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ یومِ عاشوراء کا روزہ رکھو اور اِس میں یہودیوں کی مخالَفَت کرو، اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔‘‘(مسند امام احمد،ج۱،ص۵۱۸، حدیث۲۱۵۴)

          عاشوراء کا روزہ جب بھی رکھیں تو ساتھ ہی نویں یا گیارہویں محرم الحرام کا روزہ بھی رکھ لینا بہتر ہے۔ 

مدینہ۶    حضرتِ سیِّدُنا ابوقَتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ  سے ر وایت ہے، رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں : ’’مجھے اللہ پر گُمان ہے کہ عاشورا ء کا روزہ ا یک سال قبل کے گُناہ مِٹادیتاہے۔‘‘(صحیح مسلم،ص۵۹۰،حدیث۱۱۶۲)

سارا سال آنکھیں دُکھیں نہ بیمار ہو

        مُفَسّرِشہیر حکیم الامت حضرت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں :’’مُحرم کی نویں اور دسویں کو روزہ رکھے تو بَہُت ثواب پائے گا ۔ بال بچّوں کیلئے دسویں محرم کو خوب اچّھے اچّھے کھانے پکائے تو اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  سال بھر تک گھر میں بَرکت رہے گی۔ بہتر ہے کہ کِھچڑا  پکا کر حضرِت شہید کربلا



Total Pages: 42

Go To