Book Name:Aaina e Qayamat

    ایک راہب نصرانی نے دیکھا تو پوچھا ،بتایا ،کہا: ''تم برے لوگ ہو ،کیا دس ہزار اشرفیاں لے کر اس پر راضی ہو سکتے ہو کہ ایک رات یہ سر میرے پاس رہے۔''دنیا کے کتوں نے قبول کر لیا۔راہب نے سر مبارک لےکر دھویا ،خوشبو لگائی ،رات بھر اپنی ران پر رکھے دیکھتا رہا ایک نور بلند ہوتا پایا ۔راہب نے وہ رات رو کر کاٹی ،صبح اسلام لایا اور گرجا اور اس کا مال متاع چھوڑ کر اہلِ بيت کی خدمت میں عمر گزار دی۔

    صبح ان خبیثوں نے اشرفیوں کے توڑے آپس میں حصے کرنے کو کھولے ، سب اشرفیاں ٹھیکریاں ہو گئی تھیں ،ان کے ایک طرف لکھاتھا :

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ  ۱۳،ابراھیم:۴۲)

ترجمہ کنز الایمان: اور ہرگز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کاموں سے ۔([1])

اور دوسری طرف لکھا تھا:

وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷) ۱۹،الشعرآء:۲۲۷)

ترجمہ کنز الایمان:اور جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔([2])

{مزید واقعات }

          جب سرِ مبارک امام مظلوم (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کا، اس ظالم اظلم یزید پلیدکے پاس پہنچا، بید سے چھونے لگا ، نصرانی بادشاہ روم کا سفیر موجود تھا ،حیران ہو کر بولاکہ’’ ہمارے یہاں ایک جزیرے کے گرجا میں عیسیٰ علیہ السلام کے گدھے کاسم ہے ،ہم ہرسال دور دور سے اس کی طرف حج کی طرح جاتے اور منتیں مانتے ہیں اور اس کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جیسے تم اپنے کعبہ کی ،تم نے اپنے نبی کے بیٹے کے ساتھ یہ سلوک کیا،میں گواہی دیتا ہوں کہ تم لوگ باطل پرہو۔‘‘

          ایک یہودی نے کہا:’’ مجھ میں اور داؤد علیہ السلام میں سترپشت کا فاصلہ ہے یہود میری تعظیم کرتے ہیں اورتم نے خود اپنے نبی کے بیٹے کوقتل کیا!

          پھرشام سے یہ قافلہ مدینہ طیبہ کو روانہ کیا گیا ،مدینہ میں پہنچنے کی تاریخ قیامت کا سامان اپنے ساتھ لائی ۔گھر گھر میں کہرام تھا ،درودیوار سے دل دکھانے اورکلیجے میں گھاؤڈالنے والی مصیبت ٹپکی پڑتی تھی ۔

بعد کے واقعات

          بعدِشہادت آسمان سے خون برسا ۔نصرہ ازدیہ کہتی ہیں ’’ ہم صبح کو اٹھے توتمام برتن خون سے بھرے پائے۔۔۔آسمان اس قدر تاریک ہوا کہ دن کو ستارے نظر آئے ۔۔۔ ملک ِشام میں جو پتھر اٹھاتے، اس کے نیچے تازہ خون پاتے ۔‘‘

          ایک روایت میں ہے سات دن آسمان اس قدر تاریک ہوا کہ دیواریں شہاب کی رنگی ہوئی چادریں معلوم ہوتیں ستاروں میں تلاطم نظر آتا ایک ستارہ دوسرے سے ٹکراتا ۔

          ابو سعید فرماتے ہیں :’’ دنیا بھر میں جو پتھر اٹھایا اس کے نیچے تازہ خون پایا ۔۔۔۔آسمان سے خون برسا۔۔۔۔کپڑے پھٹتے پھٹ گئے ،مگر اس کا اثرنہ جانا تھا نہ گیا ۔۔۔۔ خراسان وشام وکوفہ میں گھروں اوردیواروں پر خون ہی خون تھا ۔‘‘

          علماء فرماتے ہیں ’’ یہ تیز سرخی جوشفق کے ساتھ دیکھی جاتی ہے، شہادت مبارک سے پہلے نہ تھی ،چھ مہینے تک آسمان کے کنارے سرخ رہے پھر یہ سرخی نمودارہوئی ۔‘‘

 {قتل امام حسین میں شریک بدبختوں کا عبرت ناک انجام}

          ابو الشیخ نے روایت کی: ’’کچھ لوگ بیٹھے ذکر کر رہے تھے کہ جس نے امامِ مظلوم (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کے قتل میں کچھ اعانت کی کسی نہ کسی بلا میں ضرور مبتلا ہوا ۔‘‘ایک بڈھے نے اپنے نفسِ ناپاک کی نسبت کہا کہ ’’اسے توکچھ نہ ہوا ۔‘‘چراغ کی بتی سنبھالی، آگ نے اس شقی کو لیا ،آگ آگ چلاتا فرات میں کود



[1]    ترجمہ کنز الایمان: اور ہر گز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں  کے کاموں سے۔(پ۱۳،ابراہیم:۴۲)

[2]    ترجمہ کنز الایمان: اور جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(پ۱۹،الشعرآء:۲۲۷)



Total Pages: 42

Go To