Book Name:Aaina e Qayamat

          جب شمر خبیث نے کام نکلتا نہ دیکھا ،لشکرکو للکارا:’’تمہاری مائیں تم کو پیٹیں کیا انتظار کر رہے ہو حسین کو قتل کرو ۔‘‘اب چارطرف سے ظلمت کے ابراور تاریکی کے بادل فاطمہ(رضی اللہ تعالٰی عنہا) کے چاندپر چھا گئے ۔زرعہ بن شریک تمیمی نے بائیں شانہ مبارک پر تلوار ماری ،امام تھک گئے ہیں۔۔۔۔زخموں سے چور ہیں۔۔۔۔ ۳۳زخم نیزے کے ۳۴ گھاؤ تلواروں کے لگے ہیں۔۔۔۔تیروں کا شمار نہیں۔۔۔۔ اٹھنا چاہتے ہیں اورگرپڑتے ہیں۔۔۔۔اسی حالت میں سنان بن انس نخعی شقی ناری جہنمی نے نیزہ مارا کہ وہ عرش کاتارا زمین پرٹوٹ کر گرا۔۔۔۔سنان مردودنے خولی بن یزید سے کہا:سرکاٹ لے۔

اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد ا   لشیطان بولا:’’تیراہاتھ بیکارہو‘‘ اور خود گھوڑے سے اترکر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے ،تین دن کے پیاسے کوذبح کیا اور سرمبارک جداکرلیا۔شہادت جو دلہن بنی ہوئی سرخ جوڑا،جنتی خوشبویوں سے بسائے اسی وقت کی منتظر بیٹھی تھی،گھونگھٹ اٹھا کربے تابانہ دوڑی اور اپنے دولھا حسین شہیدرضی اللہ تعالٰی عنہ کے گلے میں باہیں ڈال کر لپٹ گئی ۔۔۔۔۔

فَصَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلاَنَا مُحَمَّدٍوَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ

وَلَعْنَۃُ اللہِ عَلٰی اَعْدَائِہٖ وَاَعْدَائِھِمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔

          اس پربھی صبر نہ آیا ،امام کا لباس مبارک اتارکر آپس میں بانٹ لیا۔ عداوت کی آگ اب بھی نہ بجھی ،اہل بیت  کے خیموں کو لوٹا ،تمام مال اسباب اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی صاحبزادیوں کا زیور اتارلیا ،کسی بی بی کے کان میں ایک بالی بھی نہ چھوڑی۔

          اللہ  واحد قہارکی ہزارہزار لعنتیں ان بے دینوں کی شقاوت پر ،زیوردرکنار اہل بیت کے سروں سے ڈوپٹے تک ۔۔۔۔۔۔۔۔،اب بھی مردودوں کے چین نہ پڑا ،ایک شقی ناری جہنمی پکارا:’’کوئی ہے کہ حسین کے جسم کو گھوڑوں سے پامال کردے ؟‘‘ ۔۔۔۔۔ دس مردودگھوڑے کداتے دوڑے اورفاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی گودکے پالے ،مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے سینے پرکھیلنے والے ،کے تن ِمبارک کو سموں سے روندھا کہ سینہ و پشت ِنازنین کی تمام ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو گئیں۔۔۔۔۔

صَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلاَنَا مُحَمَّدٍوَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ

وَلَعْنَۃُ اللہِ عَلٰی اَعْدَائِہٖ وَاَعْدَائِھِمِ الظّٰلِمِیْنَ۔

                                                 (الکامل فی التاریخ،المعرکۃ،ج۳،ص۴۳۲)

{شہادت کے بعد کے واقعات}

          کبڑے کتے شمر خبیث نے چاہا کہ امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ کوبھی شہید کرے، حمید بن مسلم بولا: ’’سبحان اللہ! کیا بچے بھی قتل کئے جائیں گے ؟‘‘ظالم باز رہا۔ (الکامل فی التاریخ،المعرکۃ،ج۳،ص۴۳۳ وغیرہ)

          پھر سرِمبارک امام مظلوم وشہداءے مرحوم خولی بن یزید اور حمید بن مسلم کے ساتھ ابن زیاد کے پاس بھیجے گئے ۔جب کوفے آئے مکان بند پایا۔خولی سر مبارک لیکر گھر آیا اور اپنی عورت نوارسے کہا:’’ میں تیرے لئے وہ چیز لایا ہوں جو عمر بھر کو غنی کردے۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’کیا ہے؟‘‘کہا ’’حسین کاسر‘‘ بولی: ’’خرابی ہو تیرے لئے ،لوگ چاندی سونا لے کر آتے ہیں اور تُورسول اللہ(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم )کے بیٹے کا سرلایا۔ خداکی قسم !میں تیرے ساتھ کبھی نہ رہوں گی ۔‘‘ یہ بی بی کہتی ہے :’’ میں نے رات بھر دیکھا کہ ایک نورِ عظیم سرِمبارک سے آسمان تک بلند ہے اور سپید پرند سرِ اقدس پر قربان ہو رہے ہیں۔‘‘(الکامل فی التاریخ،المعرکۃ،ج۳،ص۴۳۴ وغیرہ)

            جب سر مبارک ابن زیاد خبیث کے پاس لایا گیا ،اس کے گھر کے درودیوار سے خون بہنے لگا ۔وہ شقی چَھڑی سے دندانِ مبارک چھو کر بولا:’’ میں نے ایسا خوبصورت نہ دیکھا ،دانت کیسے اچھے ہیں۔‘‘زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ  تشریف رکھتے تھے، فرمایا: ’’اپنی چھڑی ہٹا ،میں نے مدتوں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کو ان ہونٹوں کو چومتے اورپیار کرتے دیکھا ہے ۔‘‘یہ کہہ کر رونے لگے۔وہ خبیث بولا: ’’تمہیں رونا نصیب ہو، اگر سٹھ نہ گئے ہوتے توگردن ما



Total Pages: 42

Go To