Book Name:Aaina e Qayamat

یوں کہا کرتے ہیں سنی داستان اہل بیت

          اے کوثر! اپنے ٹھنڈے اورخوشگوار پانی کی سبیل تیاررکھ کہ تین دن کے پیاسے تیرے کنارے جلوہ فرمائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

          اے طوبیٰ !اپنے سائے کے دامن اور درازکر،کربلا کی دھوپ کے لیٹنے والے تیرے نیچے آرام لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

          آج میدانِ کربلا میں جنتوں سے حوریں سنگارکئے ،ٹھنڈے پانی کے پیالے لئے حاضر ہیں …آسمان سے ملائکہ کی لگاتارآمد نے سطح ہوا کو بالکل بھر دیا ہے اورپاک روحوں نے بہشت کے مکانوں کو سونا کر دیا …خود حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم مدینہ طیبہ سے اپنے بیٹے لاڈلے حسین کی قتل گاہ میں تشریف لائے ہوئے ہیں … ریشِ مبارک اورسرِاطہر کے بال گرد میں اَٹے ہوئے اور آنکھوں سے آنسوؤں کا تار بندھا ہواہے … دستِ مبارک میں ایک شیشہ ہے، جس میں شہیدوں کا خون جمع کیا گیاہے …اور اب مقدس دل کے چین پیارے حسین کے خون بھرنے کی باری ہے۔

بچہ([1])ناز رفتہ باشد زجہاں نیاز مندے

کہ بوقتِ جان سپردن بسرش رسیدہ باشی

          غرض آج کربلامیں حسینی میلا لگا ہوا ہے …حوروں سے کہوکہ اپنی خوشبودار چوٹیاں کھول کر کربلا کا میدان صاف کریں کہ تمہاری شہزادی ،تمہاری آقائے نعمت فاطمہ زہرا(رضی اللہ تعالٰی عنہا) کے لال کے شہید کرنے اورخاک پر لٹائے جانے کا وقت قریب آگیا ہے …رضوان کو خبردوکہ جنتوں کوبھینی بھینی خوشبوؤں سے بسا کر دلکش آرائشوں سے آراستہ کر کے دلہن بنارکھے کہ بزمِ شہادت کادولھا بہتے خون کا سہرا باندھے زخموں کے ہار گلے میں ڈالے عنقریب تشریف لانے والا ہے ۔

ساعت آہ و بکا و بے قراری آگئی

سیدِ مظلوم کی رَن میں سواری آگئی

ساتھ والے بھائی بیٹے ہو چکے ہیں سب شہید

اب امامِ بے کس و تنہا کی باری آگئی

             امام نے شمر خبیث کو خیمۂ اطہر کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کرفرمایا:’’ خرابی ہو تمہارے لئے اگردین نہیں رکھتے اور قیامت سے نہیں ڈرتے توشرافت سے تو نہ گزرو،میرے اہل بیت  سے اپنے جاہل سرکشوں کو روکو،دشمن ادھر سے بازرہے ۔‘‘ اب چارطرف سے امام مظلوم ، جنہیں شوقِ شہادت ہزاروں دشمنوں کے مقابلے میں اکیلا کر کے لایا ہے، نرغہ ہوا ۔امام د ہنی طرف حملہ فرماتے تودورتک سواروں اور پیادوں کا نشان نہ رہتا ،بائیں جانب تشریف لے جاتے تودشمنوں کو میدان چھوڑ کربھاگنا پڑتا ۔

خداکی قسم!وہ فوج اس طرح ان کے حملوں سے پریشان ہوتی جیسے بکریوں کے گلہ پرشیر آپڑتا ہے ،لڑائی نے طول کھینچا ہے ،دشمنوں کے چھکے چھوٹے ہوئے ہیں ، ناگاہ امام کا گھوڑابھی کام آگیا ،پیادہ ایسا قتال فرمایا کہ سواروں سے ممکن نہیں۔

          تین دن کے پیاسے تھے ایک بدبخت نے فرات کی طرف اشارہ کر کے کہا:’’وہ دیکھئے کیساچمک رہا ہے ،مگرتم اس میں سے ایک بوند نہ پاؤگے یہاں تک کہ پیاسے ہی مارے جاؤ گے ۔‘‘فرمایا:’’اللہ!تجھ کو پیاسا قتل کرے ۔‘‘فوراً پیاس میں مبتلا ہوا، پانی پیتا اور پیاس نہ بجھتی یہاں تک کہ پیاساہی مرگیا ۔حملہ کرتے اور فرماتے:’’ کیا میرے قتل پر جمع ہوئے ہو ؟ہاں ہاں ،خداکی قسم !میرے بعدکسی کو قتل نہ کروگے ،جس کا قتل میرے قتل سے زیادہ خداکی ناخوشی کا سبب ہو ،خداکی قسم !مجھے امید ہے کہ اللہ تعالٰی تمہاری ذلت سے مجھے عزت بخشے اورتم سے وہ بدلہ لے جوتمہارے خواب و خیال میں بھی نہ ہو،خداکی قسم !تم مجھے قتل کرو گے تو اللہ تم میں پھوٹ ڈالے گا اور تمہارے خون بہائے گا اور اس پرراضی نہ ہو گا یہاں تک کہ تمہارے لئے دکھ دینے والا عذاب چند درچند بڑھائے گا۔‘‘ (الکامل فی التاریخ،المعرکۃ،ج۳،ص۴۳۱)

 



[1]    تیرے نیاز مند نے جہان سے کس نازوانداز سے کوچ کیا ہوگا جب جاں سپاری کے وقت تو اس کے سرہانے موجود ہوگا۔



Total Pages: 42

Go To