Book Name:Aaina e Qayamat

                             رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

          پیش لفظ

        اس مادرِ گیتی پر بلا شبہ کروڑہاانسانوں نے جنم لیااور بالآخر موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے کر ان کا نام ونشان تک مٹادیالیکن جنہوں نے دین اسلام کی بقا و سربلندی کے لیے اپنی جان، مال اور اولاد کی قربانیاں دیں اورجن کے دلی جذبات اسلام کے نام پر مر مٹنے کے لیے ہمہ وقت پختہ تھے، تاریخ کے اوراق پر انکے تذکرے سنہری حروف سے کندہ ہیں۔ ان اکابرین کے کارناموں کا جب جب ذکر کیا جاتاہے، دلوں پر رقت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔انکے پرسوز واقعات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ، بالخصوص واقعہ کربلا نہایت رقت وسوز کے ساتھ جذبۂ ایثار وقربانی کواُبھارتاہے ۔ حضرت امام حسین اور انکے رفقاء رضی اللہ تعالٰی عنہم نے جس شان کے ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، تاریخ اسکی مثال بیان کرنے سے قاصر ہے۔ان نفوس قدسیہ نے اپنا سب کچھ لٹا دیا لیکن باطل کے آگے سر نہ جھکایا۔ جان دینا گوارا فرمالیا، لیکن شوکت اسلام پر حرف نہ آنے دیا۔   ؎

گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے

جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اہل بیت

          ماہِ محرم الحرام جب بھی تشریف لاتا ہے کربلا والوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، شہداءے کربلابالخصوص نواسۂ رسول،جگر گوشۂ بتول،امام عالی مقام، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی بارگاہ میں ایصال ثواب کے لیے جگہ بہ جگہ محافل منعقد کی جاتی ہیں جن میں مقررین و واعظین اپنے اپنے انداز میں کربلا کے پرسوز واقعات بیان کرکے نہ صرف ان سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے بلکہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام کی سر بلندی کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کا جذبہ بیدار کرتے ہیں۔ گو کہ اس واقعہ سے متعلق محررین وعلمائے کرام نے متعدد کتابیں لکھیں ،جن میں سے بعض نے بہت پذیرائی حاصل کی لیکن’’آئینۂ قیامت ‘‘ کی بات ہی الگ ہے۔ یہ شہنشاہ سخن، استاذِ زمن، برادرِ اعلی حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ المنان کی تصنیف ہے اور اسکے بارے میں شہزادۂ اعلی حضرت، تاجدارِ ا ہلسنت، امامُ الفقہاء حضور مفتی اعظم ہندابو البرکات محمد مصطفی رضا خان  علیہ رحمۃ الرحمن ’’ الفتاوی المصطفویۃ ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں : ’’ آ ئینۂ  قیامت‘‘ تصنیف حضرت عمی جناب استادزمن مولانا حسن رضا خاں صاحب حسنؔ رحمہ اللہ تعالٰی ،یہ کتاب اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی دیکھی اور مجالس میں کتنی ہی بار سنی ہوئی ہے۔ (الفتاویٰ المصطفویۃ،ص۴۶۳)

          خود اعلیٰ حضرت،عظیم البرکت،عظیم المرتبت، مولانا امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الحنان سے جب ذکرِ شہادت سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا:  ’’مولاناشاہ عبدالعزیز صاحب کی کتاب([1])جو عربی میں ہے وہ یا حسن میاں مرحوم میرے بھائی کی کتاب ’’ آئینۂ قیامت‘‘میں صحیح روایات ہیں انہیں سننا چاہیے، باقی غلط روایات کے پڑھنے سے نہ پڑھنا اور نہ سننا بہت بہتر ہے۔‘‘ (ملفوظات اعلی حضرت،حصہ دوم،ص۲۹۳)

               الحمد للّٰہعزوجل! تبلیغ ِقرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کی مجلس ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘ اَکابرین وبزرگانِ اہل ِسنت کی مایہ نازکتب کو حتی المقدور جدید  انداز میں شائع کرنے کا عزم رکھتی ہے جس کے تحت متعدد کتب منظر عام پر آچکی ہیں انہی میں ’’ آئینہ قیامت‘‘  بھی شامل ہے جو محرم الحرام،۱۴۲۹ھ مطابق جنوری 2007 میں طبع ہوئی جس میں تقابل کی کچھ اغلاط نادانستہ رہ گئی تھیں لہٰذا اب دوبارہ تقابل اور جہاں کمی محسوس ہوئی اسے دور کرتے ہوئے بہتر انداز میں شائع کی جارہی ہے نیز تخریج کے دوران بعض مقامات پر اعلام میں جو اختلاف سامنے آیا اس کی تصحیح اور وضاحت بھی کی گئی ہے۔

             کتاب پر ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘ کے کام کی تفصیل درج ذیل ہے:

٭’’ آئینہ قیامت       ‘‘ کے متعدد نسخے پیش نظر رکھے گئے جن میں رضوی کتب خانہ بریلی شریف سے طبع شدہ ایک قدیم نسخہ بھی شامل ہے۔ ٭اسی سے کمپیوٹر کمپوزنگ کا تقابل   کیا گیا،نیز دیگر نسخوں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے  ٭مصنف کے قائم کردہ عنوانات کے علاوہ مضمون کی مناسبت سے مزید عنوانات (Headings) بھی علمیہ کی طرف سے قائم کئے گئے ہیں اورانہیں بین القوسین (اس انداز میں {میدانِ کربلا میں آمَد}) لکھا گیا ہے ٭اَحادیث وروایات وغیرہا کی حتی المقدور تخریج کی گئی ہے ٭کنزالایمان کا ذوق رکھنے والوں کے لیے حواشی میں آیات کے تر اجم کنزالایمان سے دئیے گئے ہیں ٭مصنف اور علمیہ کے حواشی میں تفریق کے لیے علمیہ کے حواشی کے آگے ’’علمیہ‘‘لکھا گیا ہے  ٭  تخریج کے دوران جن مقامات میں اختلاف تھا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ان کی تصحیح کردی گئی ہے ، تفصیل اسطرح ہے:متن میں سلیمان بن مروجز خزاعی تھا اس کے بجائے سلیمان بن صرد خزاعی لکھا ہے اسی طرح منجز کے بجائے بلنجر، کوہِ ذوحشم کے بجائے کوہِ ذوحسم، طراح بن عدی کے بجائے طرماح بن عدی،عبداللہ بن ابی المحلی بن خرام کے بجائے عبداللہ بن ابی المحل



[1]    سِرُّالشَّھادَتین۔علمی



Total Pages: 42

Go To