Book Name:Aaina e Qayamat

{ امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید ہوتے ہیں }

          حسن وعشق کے باہمی تعلقات سے جو آگاہ ہیں ،جانتے ہیں کہ وصل ِدوست جسے چاہنے والے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ،بغیر مصیبتیں اٹھائے اور بلائیں جھیلے حاصل نہیں ہوتا ۔

رباعی

اے ([1]) دل بہوس برسر ِکارے نرسی

تاغم نہ خوری بغم گسارے نرسی

تاسودہ نہ گردی چوحنا در تہ سنگ

ہرگز بکفِ پائے نگارے نرسی

          دل میں نشتر چبھو کرتوڑدیتے اورکلیجے میں چھریاں مارکرچھوڑدیتے ہیں اورپھر تاکیدہوتی ہے کہ اُف کی توعاشقوں کے دفترسے نام کاٹ دیاجائے گا ۔غرض پہلے ہرطرح اطمینان کر لیتے اورامتحان فرما لیتے ہیں ،جب کہیں چلمن سے ایک جھلک دکھانے کی نوبت آتی ہے ۔

                                               

رباعی

خوباں([2]) دل وجاں بینوا می خواہند         زخمے کہ زنند مرحبا می خواہند

ایں([3]) قوم ایں قوم چشم بددُورایں قوم    خون می ریزند وخوں بہا می خواہند

    اوریہ امتحان کچھ حسینانِ زمانہ ہی کادستورنہیں،حسنِ ازل کی دلکش تجلیوں اور دلچسپ جلوؤں کا بھی معمول ہے کہ فرمایا جاتاہے :

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-([4]) (پ۲،البقرۃ:۱۵۵)

ترجمہ کنزالایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔([5])

    جب ان کَڑیوں کو جھیل لیا جاتا اور ان تکلیفوں کو برداشت کر لیا جاتا ہے توپھر کیاپوچھنا؟ سراپردۂ جمال ترسی ہوئی آنکھوں کے سامنے سے اٹھا دیا جاتا اور مدت کے بے قرار دل کوراحت وآرام کا پتلا بنا دیا جاتا ہے ۔اسی بنیاد پرتومیدانِ کربلا میں امامِ مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو وطن سے چھڑا کر پردیسی بنا کر لائے ہیں اورآج صبح سے ہمراہیوں اوررفیقوں بلکہ گود کے پالوں کو ایک ایک کر کے جدا کر لیا گیا ہے۔کلیجے کے ٹکڑے خون میں نہائے آنکھوں کے سامنے پڑے ہیں ،ہری بھری پھلواڑی کے سہانے اورنازک پھول پتی پتی ہو کر خاک میں ملے ہیں اور کچھ پرواہ نہیں ،پرواہ ہوتی توکیوں ہوتی؟ کہ راہ دوست میں گھر لٹانے والے اسی دن کے لیے مدینہ سے چلے تھے، جب توایک ایک کوبھیج کر قربان کرادیا اورجواپنے پاؤں نہ جاسکتے تھے ،ان کو ہاتھوں پر لے کر نذرکرآئے ۔ کہاں ہیں وہ ملائکہ جو حضرت انسان کی پیدائش پر چون وچرا کرتے تھے، اپنی جانمازوں اور تسبیح وتقدیس کے مصلوں سے اٹھ کر آج کربلا کے میدان کی سیر کریں اور  ’’اِنِّیْۤ ([6]) اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)([7]) ‘‘ ۱،البقرۃ:۳۰) کی شاندار تفصیل حیرت کی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں۔

 



[1]    اے دل ہوس سے تو کامیاب نہ ہوگا جب تک تو غم نہ کھائے گا غم گسار تک تیری رسائی نہ ہوگی،جب تک تو مہندی کی طرح پتھر کے نیچے پس نہ جائے گا محبوب کے تلوے تک تیری رسائی نہ ہو سکے گی۔
ع            رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد

[2]    محبوب عشاق سے ایسے دل و جان چاہتے ہیں جو بے نوا ہوں ۔زخم لگا کر انہی سے مرحبا کے طالب ہوتے ہیں۔یہ گروہ چشم بد دور عجیب گروہ ہے خود قتل کرتے ہیں اور پھر خون بہا طلب کرتے ہیں۔

[3]    یہ گر وہ،چشم  بددور عجیب گر وہ ہے خود قتل کرتے ہیں اور پھر  خون طلب کرتے ہیں۔

[4]    (القرآن الحکیم، سورۃ البقرۃ،۱۵۵)

[5]    اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں  گے کچھ ڈرا ور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے،علمیہ

[6]    فاضل  مؤلف  کا اشارہ تخلیق آدم  پر ملائکہ کے اعتراض کے جواب میں اللہ تعالٰی کے ارشاد ’’مجھے  معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ‘‘(۱/۳۰) کی جانب ہے۔

[7]     ترجمہ کنزالایمان: مجھے  معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔(۱، البقرۃ:۳۰)۔ علمیہ



Total Pages: 42

Go To