Book Name:Aaina e Qayamat

          یزید بن ابی زیاد کندی (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) نے جو کوفے کے لشکر میں تھے اورنارسے نکل کرنورمیں آگئے تھے ،دشمنوں پر تیر مارنے شروع کئے ،ان کے ہرتیر پرامام نے دعافرمائی: ’’الٰہی! اس کا تیر خطانہ ہو اوراسے جنت عطافرما۔‘‘سوتیر مارے جن میں پانچ بھی خطانہ گئے ،آخر کارشہید ہوئے ۔اس واقعہ میں سب سے پہلے انہوں ہی نے شہادت پائی اورشہیدانِ کربلا کی ترتیب وار فہرست، انہیں کے نام سے شروع ہوئی ہے ،عمرو بن خالد مع سعد مولی وجباربن حارث ومجمع بن عبیداللہ (رضی اللہ تعالٰی عنہم) لڑتے لڑتے دشمنوں میں ڈوب گئے ۔اس وقت اشقیا نے سخت حملہ کیا ،حضرت عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) حملہ فرماکر چھڑا لائے ۔زخموں میں چُور تھے اسی حال میں دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔

{ چمنِ رسالت کے مہکتے پھولوں کی شہادت کی ابتدا}

          اب امام کے وفادار اور جاں نثار سپاہیوں میں چندرشتہ داروں کے سوا کوئی باقی نہ رہا ،ان حضرات میں سب سے پہلے جودشمنوں کے مقابلہ پرتشریف لائے امام کے صاحبزادے حضرت علی اکبر   ([1]) (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) ہیں۔شیروں کے حملے مشہورہیں ، پھر یہ شیرتو محمدی کچھارکا شیرہے ۔اسکے جھنجھلائے ہوئے حملہ سے خدا کی پناہ ،دشمنوں کو قہرِالٰہی  کانمونہ دکھا دیا ،جس نے سراٹھایانیچا دکھا یا ۔ صف شکن حملوں سے جدھر بڑھے، دشمن کائی کی طرح پھٹ گئے ،دیر تک قتال کرتے اور قتل فرماتے رہے،پیاس اور ترقی پکڑگئی، واپس تشریف لائے اوردم راست فرما کر پھر حملہ آور ہوئے اوردشمنوں کی جان پر وہی قیامت برپا کر دی ۔چند بار ایساہی ہوا، یہاں تک کہ مرہ بن منقذ عبدی شقی کا نیزہ لگا اور بد بختوں نے تلواروں پر رکھ لیا ۔ جنت علیا میں آرام فرمایا۔نوجوان بیٹے کی لاش پر امام نے فرمایا: ’’بیٹے! خداتیرے شہید کرنے والے کو قتل کرے ،تیرے بعد دنیا پر خاک ہے ،یہ قوم اللہ سے کتنی بے باک اور رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے حرمتی پر کس قدر جری ہے۔‘‘ پھر نعش مبارک اٹھاکر لے گئے اورخیمہ کے پاس رکھ لی پھر عبداللہ بن مسلم لڑائی پر گئے اور شہید ہوئے ۔ (الکامل فی التاریخ،وکان اول من قتل...الخ،ج۳،ص۴۲۸ملخصاً)

          اب اعدا نے چارطرف سے نرغہ کیا ۔اس نرغے میں عون بن عبداللہ بن حضرت جعفر طیاراور عبدالرحمن وجعفر ،پسرانِ عقیل نے شہادتیں پائیں۔ پھر حضرتِ قاسم، حضرت امام حسن(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کے صاحبزادے حملہ آورہوئے اورعمروبن سعد بن نفیل مردودکی تلوارکھاکر زمین پرگرے ،امام کوچچا!کہہ کرآوازدی،امام شیرِغضبناک کی طرح پہنچے، اور عمرومردودپرتلوار چھوڑی ،اس نے روکی،ہاتھ کہنی سے اڑ گیا ۔وہ چلایا ،کوفے کے سوار اس کی مدد کو دوڑے اور گردوغبارمیں اسی کے ناپاک سینے پر گھوڑوں کی ٹاپیں پڑگئیں۔

          جب گردچھٹی تو دیکھا ،امام حضرت قاسم کی لاش پر فرما رہے ہیں :’’قاسم! تیرے قاتل رحمتِ الٰہی سے دور ہیں ، خداکی قسم! تیرے چچا پرسخت شاق گزرا کہ تُو پکارے اور وہ تیری فریاد کو نہ پہنچ سکے۔‘‘ پھر انہیں بھی اپنے سینے پر اٹھا کر لے گئے اور حضرتِ علی اکبر کے برابر لٹادیا۔اسی طرح یکے بعد دیگرے حضرت عباس اوران کے تینوں بھائی  اور امام  کے دوسرے صاحبزادے حضرت ابو بکر اور سب بھائی بھتیجے (رضی اللہ تعالٰی عنہم) شہید ہو گئے۔ اللہ انہیں اپنی وسیع رحمتوں کے سائے میں جگہ دے اور ہمیں ان کی برکات سے بہرہ مند فرمائے ۔

          اب امام مظلوم تنہا رہ گئے ،خیمے میں تشریف لا کر اپنے چھوٹے صاحبزادے حضرت عبداللہ کو(جو عوام میں علی اصغر مشہور ہیں )گودمیں اٹھاکر میدان میں لائے، ایک شقی نے تیر مارا کہ گودہی میں ذبح ہوگئے ،امام نے ان کا خون زمین پرگرایا اوردعا کی: ’’ الٰہی! اگرتونے آسمانی مدد ہم سے روک لی ہے تو انجام بخیر فرما اور ان ظالموں سے بدلہ لے۔‘‘ (الکامل فی التاریخ،وکان اول من قتل...الخ،ج۳،ص۴۲۹ملخصاً)

پھول کھِل کھِل کربہاریں اپنی سب دکھلا گئے

حسرت ان غنچوں پر ہے جو بے کھلے مرجھا گئے

اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین

 



[1]    ان کی والدہ ماجدہ حضرت لیلیٰ بنت ابی مرہ ہیں نہ حضرت شہربانو  ۱ ؎ جیسا کہ عوام میں مشہور ہے۔۱۲منہ

 ۱ ؎  ایران کی فتوحات میں شاہ یزدگرد کی دو لڑکیاں باندیاں بن کر آئیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے ان میں سے ایک خاتون شہر بانو کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ  کے مشورے سے حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ  کے نکاح میں دے دیا جن کے بطن سے علی بن حسین (امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ )ہوئے۔



Total Pages: 42

Go To