Book Name:Aaina e Qayamat

          زہیر(رضی اللہ تعالٰی عنہ )نے فرمایا:’’ اوایڑیوں پرموتنے والے گنوارکے بچے ! میں تجھ سے بات نہیں کرتا،تُونراجانورہے ،میرے خیال میں تجھے قرآن کی دو آیتیں بھی نہیں آتیں ،تجھے قیامت کے دن دردناک عذاب اور رسوائی کا مژدہ ہو۔‘‘

          شمربولا:’’ کوئی گھڑی جاتی کہ تُواورتیراسردارقتل کیا جاتاہے۔‘‘

          فرمایا:’’کیا مجھے موت سے ڈراتاہے ؟خداکی قسم! ان کے قدموں پرمرناتم لوگوں کے ساتھ ہمیشہ جینے سے پسند ہے ۔‘‘پھربلند آوازسے کہنے لگے:’’اے لوگو!تم کو یہ بے ادب اجڈفریب دیتااوردین حق سے بے خبرکرناچاہتا ہے ،جولوگ اہلِ بیت یاان کے ساتھیوں کو قتل کریں گے،خداکی قسم!محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت انہیں نہ پہنچے گی۔‘‘ امامِ عالی مقام (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے واپس بلایا۔  (الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۷ملخصاً)

          اب شقی ابن سعد نے اپنے ناپاک لشکر کو امامِ مظلوم کی طرف حرکت دی۔ حرنے کہا: ’’تجھے اللہ کی مار، کیا تو ان سے لڑے گا ؟‘‘کہا: ’’لڑوں گا اورایسی لڑائی لڑوں گاجس کا ادنیٰ درجہ سروں کا اڑنا اور ہاتھوں کا گرنا ہے ۔‘‘کہا:’’وہ تین باتیں جو انہوں نے پیش کی تھیں تجھے منظور نہیں ؟‘‘کہا: ’’میرا اختیارہوتاتومان لیتا۔‘‘      (الکامل فی التاریخ،انضمام الحر...الخ،ج۳،ص۴۲۰ملخصاً)

{حضرت حُر کی امام عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ  سے معذرت}

           حر مجبورانہ لشکر کے ساتھ امام کی طرف بڑھے مگریوں کہ بدن کانپ رہا ہے اور پہلو میں دل کے پھڑکنے کی آوازبغل والے سن رہے ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر ان کے ایک ہم قوم نے کہا :’’تمہارا یہ کام شبہ میں ڈالتا ہے ،میں نے کسی لڑائی میں تمہاری یہ کیفیت نہ دیکھی، مجھ سے اگر کوئی پوچھتاہے کہ تمام اہلِ کوفہ میں بہادرکون ہے ؟تو میں تمہارا ہی نام لیتاہوں۔‘‘بولے: ’’میں سوچتاہوں کہ ایک طرف جنت کے خوش رنگ پھول کھلے ہیں اور ایک جانب جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے بلند ہورہے ہیں اور میں اگر پرزے پرزے کر کے جلا دیا جاؤں توجنت چھوڑنا گوارانہ کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر گھوڑے کو ایڑ دی اورامام عالی مقام (رضی اللہ تعالٰی عنہ )کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ پھر عرض کی:’’اللہ مجھے حضورپر قربان کرے ،میں حضور کا وہی ساتھی ہوں جس نے حضور کوواپس جانے سے روکا، جس نے حضور کو حراست میں لیا،خداکی قسم!مجھے یہ گمان نہ تھا کہ یہ بدبخت لوگ حضورکا ارشاد قبول نہ کریں گے اور یہاں تک نوبت پہنچائیں گے ، میں اپنے جی میں کہتاتھا خیر بعض باتیں ان کی کہی کر لوں کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہماری اطاعت سے نکل گیا اور انجام کارتووہ حضور کا ارشادکچھ نہ کچھ مان ہی لیں گے اورخداکی قسم! مجھے یہ گمان ہو کہ یہ کچھ نہ مانیں گے تو مجھ سے اتنا بھی ہرگزواقع نہ ہو، اب میں تائب ہو کر حاضرآیا ہوں اوراپنی جان حضور پر قربان کرنی چاہتا ہوں ، کیامیری توبہ حضور کے نزدیک مقبول ہو جائے گی ؟‘‘فرمایا: ’’ہاں !اللہ عزوجل توبہ قبول کرنے والااورگناہ بخش دینے والا ہے ۔‘‘

          حُریہ مژدہ سن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے اور فرمانے لگے: ’’کیا وہ باتیں جو امام نے پیش کی تھیں منظور نہیں ؟‘‘ابن سعد نے کہا: ’’ان کا ماننا میری قدرت سے باہر ہے۔‘‘فرمایا:’’ اے کوفیو! تمہاری مائیں بے اولادی ہوں … تمہاری ماؤں کوتمہارا رونانصیب ہو …کیا تم نے امام کو دشمنوں کے ہاتھ میں دینے کے لئے بلایا تھا؟… کیاتم نے وعدہ نہ کیا تھا کہ اپنی جانیں ان پر نثارکرو گے؟ …اوراب تمھیں ان کے قتل پرآمادہ ہو ؟یہ بھی منظورنہیں کہ وہ اللہ کے کسی شہر میں چلے جائیں جہاں وہ ، ان کے بال بچے امان پائیں …تم نے انہیں   قیدی بے دست وپا بنا رکھا ہے ،…فرات کا بہتا پانی جسے خداکے دشمن پی رہے ہیں اورگاؤں کے کتے سؤرجس میں لوٹ رہے ہیں …حسین  اور ان کے بچوں پربند کیا گیا ہے …پیاس کی تکلیف نے انہیں زمین سے لگادیاہے …تم نے کیابرامعاملہ کیا ذریتِ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم سے …اگرتم توبہ نہ کرو اور اپنی حرکتوں سے باز نہ آؤ تواللہ تمہیں قیامت کے دن پیاسا رکھے ۔‘‘ (الکامل فی التاریخ،انضمام الحر...الخ،ج۳،ص۴۲۱ملخصاً)

{مقابلے کا باقاعدہ آغاز}

          اس کے جواب میں ان خبیثوں نے حضرتِ حر پر پتھر پھینکنے شروع کئے، یہ واپس ہو کر امام کے آگے کھڑے ہوگئے ،لشکر اشقیا سے زیاد کاغلام یساراورابن زیاد کا غلام سالم میدان میں آئے اور اپنے مقابلہ کے لئے مبارز طلب کرنے لگے ۔حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) سامنے



Total Pages: 42

Go To