Book Name:Aaina e Qayamat

نرالے عطر میں ڈوبی ہوئی ہے روح نکہت کی

دل پرسوز کے سلگے اگر سوز ایسی کثرت سے

کہ پہنچی عرش و طیبہ تک لپٹ سوزِ محبت کی

ادھر چلمن اٹھی حسن ازل کے پاک جلوؤں سے

ادھر چمکی تجلی بدرِ تابانِ رسالت کی

زمینِ کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہے

کہ کھنچ کھنچ کر مٹی جاتی ہیں تصویریں قیامت کی

گھٹائیں مصطفی کے چاند پر گھِرگھِرکر آتی ہیں

سیہ کارانِ امت تیرہ بختانِ شقاوت کی

یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اس کے خون کے پیاسے

بجھے گی پیاس جس سے تشنہ کامانِ قیامت کی

اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وارچلتے ہیں

مٹادی دین کے ہمراہ عزت شرم و غیرت کی

مگر شیرِخدا کا شیر جب بپھرا غضب آیا

پرے ٹوٹے نظر آنے لگی صورت ہزیمت کی

کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوشِ دلیری نے

بہادر آج سے کھائیں گے قسمیں اس شجاعت کی

تصدق ہو گئی جانِ شجاعت سچے تیور کے

فدا شیرانہ حملوں کی ادا پر روح جرأت کی

نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے

نکل آتی زمینِ کربلا سے نہر جنت کی

مگرمقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا

کہ خواہش پیاس سے بڑھتی رہے رویت کے شربت کی

شہیدِ ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پر

جو موجیں باڑھ پر آجاتی ہیں دریائے الفت کی

یہ وقتِ زخم نکلا خون اچھل کرجسمِ اطہر سے

کہ روشن ہوگئی مشعل شبستانِ محبت کی

سرِ بے تن تن ِآسانی کو شہرِ طیبہ میں پہنچا

تن بے سر کو سرداری ملی ملکِ شہادت کی

حسنؔ سُنّی ہے پھر افراط وتفریط اس سے کیوں کر ہو

ادب کے ساتھ رہتی ہے روش اربابِ سنت کی

{دس محرم الحرام اور خاندانِ رسالت پر ظلم وستم کا آغاز}

          روزِعاشورا کی صبح جانگزا آتی اورجمعے کی سحر محشر زامنہ دکھاتی ہے ۔امام عرشمقام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) خیمہ اطہرسے برآمدہوکر اپنے بَہتّرساتھیوں ، بتیس



Total Pages: 42

Go To