Book Name:Aaina e Qayamat

ہمیں دشمنوں سے ملنا ہے ،میں نے بخوشی تمام تم سب کواجازت دی ،ابھی رات باقی ہے جہاں جگہ پاؤچلے جاؤ اورایک ایک شخص میرے اہلِ بیت سے ایک ایک کو ساتھ لے جاؤ ،اللہ تم سب کو جزائے خیر دے،دیہات وبلادمیں متفرق ہوجاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی بلا ٹالے ،دشمن جب مجھے پائیں گے ،تمہاراپیچھا نہ کریں گے ۔‘‘یہ سن کرامام کے بھائیوں ،صاحبزادوں ، بھتیجوں اورعبداللہ ابن جعفر کے بیٹوں نے عرض کی: ’’یہ ہم کس لئے کریں اس لئے کہ آپ کے بعد زندہ رہیں ، اللہ ہمیں وہ منحوس دن نہ دکھائے کہ آپ نہ ہوں اور ہم باقی ہوں۔ ‘‘

          مسلم شہیدرضی اللہ تعالٰی عنہ کے بھائیوں سے فرمایاگیا:’’تمہیں مسلم رضی اللہ تعالٰی عنہ  ہی کا قتل ہوناکافی ہے۔ میں اجازت دیتا ہوں ،تم چلے جاؤ ۔‘‘عرض کی: اور ہم لوگوں سے جاکرکیا کہیں ؟یہ کہیں کہ’’ اپنے سردار،اپنے آقا،اپنے سب سے بہتر بھائی کو دشمنوں کے نرغے میں چھوڑآئے ہیں۔ نہ ان کے ساتھ تیر پھینکا ،نہ نیزہ مارا،نہ تلوارچلائی اور ہمیں خبر نہیں کہ ہمارے چلے آنے کے بعد ان پرکیا گزری ۔خداکی قسم! ہم ہرگز ایسا نہ کریں گے بلکہ اپنی جانیں ،اپنے بال بچے تمہارے قدموں پر فداکر دیں گے، تم پر قربان ہو کر مر جائیں گے اللہ اس زندگی کا براکرے جو تمہارے بعد ہو ۔ ‘‘   ؎

خوشا ([1]) حالے  کہ  گردم  گردِ  کویت

رخے بر خوں گریباں پارہ پارہ

          مسلم بن عوسجہ اسدی نے عرض کی:’’کیاہم حضور کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ابھی ہم نے حضور کا کوئی حق اداکرکے اللہ کے سامنے معذرت کی جگہ نہ پیداکی،خداکی قسم! میں تو آپ کاساتھ نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ اپنا نیزہ دشمنوں کے سینے میں توڑدوں اورجب تک تلوار میرے ہاتھ میں رہے ،وار کئے جاؤں ، خدا گواہ ہے اگرمیرے پاس ہتھیار بھی نہ ہوتے تومیں پتھر مارتا،یہاں تک کہ آپ کے ساتھ مارا جاتا۔‘‘ اسی طرح اورسب ساتھیوں نے بھی گزارش کی ۔اللہ عزوجل ان سب کو جزائے خیر دے۔(الکامل فی التاریخ، ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۴ملخصاً) اورجنات الفردوس میں امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ  کاساتھ اور ان کے جد کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا سایہ عطافرمائے اوردنیاوآخرت ،قبروحشر میں ہمیں ان کے برکات سے بہرہ مندی بخشے ۔ اٰمین اٰمین یا ارحم الراحمین  ۔

          اسی رات میں امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ )نے کچھ ایسے شعر پڑھے جن کا مضمون حسرت و بے کسی کی تصویرآنکھوں کے سامنے کھینچ دے ،زمانہ صبح وشام خدا جانے کتنے دوستوں اور عزیزوں کو قتل کرتاہے اورجسے قتل کرنا چاہتا ہے اس کے بدلے میں دوسرے پر راضی نہیں ہوتا ۔ہونے والے واقعے کی خبر دینے والی دل خراش آواز حضرت زینب (رضی اللہ تعالٰی عنہا) کے کان میں پہنچی،صبرنہ ہو سکا بے تاب ہو کر چلاتی ہوئی دوڑیں ، ’’ کاش! اس دن سے پہلے مجھے موت آگئی ہوتی ،آج میری ماں فاطمہ کاانتقال ہوتا ہے ،آج میرے با پ علی دنیا سے گزرتے ہیں ،آج میرے بھائی حسن کا جنازہ نکلتا ہے ،اے حسین ! اے گزرے ہوؤں کی نشانی اور پسماندوں کی جائے پناہ !‘‘پھر غش کھا کر گر پڑیں۔

          اللہ اکبر! آج مالک کوثرکے گھر میں اتنا پانی بھی نہیں کہ بے ہوش بہن کے منہ پر چھڑکا جائے۔جب ہوش آیا توفرمایا: ’’اے بہن!  اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ، جان لو سب زمین والوں کو مرنا اور سب آسمان والوں کوگزرنا ہے ،اللہ کے سوا سب کو فنا ہے ، میرے باپ،میری ماں ،میرے بھائی (رضی اللہ تعالٰی عنہم) مجھ سے بہترتھے۔ ہرمسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی راہ چلنی چاہیئے۔ ‘‘  (الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۶ملخصاً)

اب قیامت قائم ہوتی ہے

بہاروں پرہیں آج آرایشیں گلزارِ جنت کی

سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی

کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواڑی جراحت کی

 



[1]    وہ سماں بہت اچھا ہوگا جب میں تیرے کوچے کے ارد گرد پھروں گا اس حالت میں کہ میرا چہرہ خون آلودہ گریبان ٹکڑے ٹکڑے ہوگا۔



Total Pages: 42

Go To