Book Name:Aaina e Qayamat

{ ابن سعدکاابن زیاد کو خط اور شمر کا امام کے خلاف ورغلانا}

       تین چاررات یہی باتیں رہیں ،جن کااثر اس قدر ہوا کہ ابن سعدنے ایک صلح آمیز خط ابن زیا د کو لکھاکہ’’ حسین چاہتے ہیں یاتومجھے واپس جانے دو یا یزید کے پاس لے چلو یا کسی اسلامی سرحد پر چلا جاؤں ،اس میں تمہاری مراد حاصل ہے۔‘‘  حالانکہ امام نے یزید پلید کے پاس جانے کو ہرگزنہ فرمایا تھا ،ابن زیاد نے خط پڑھ کر کہا:’’بہتر ہے۔‘‘شمر ذِی الْجَوْشَن خبیث بولا :’’کیا یہ باتیں مانے لیتا ہے ! خداکی قسم! اگر حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ بے تیری اطاعت کئے چلے گئے توان کے لئے عزت وقوت ہوگی اور تیرے واسطے ضعف وذلت،یوں نہیں بلکہ تیرے حکم سے جائیں ،اگرتُوسزا دے تو مالک ہے اور اگرمعاف کرے تو تیرا احسان ہے ،میں نے سنا ہے کہ حسین اور ابن سعد میں رات رات بھر باتیں ہوتی ہیں۔‘‘ ابن زیاد نے کہا:’’تیری رائے مناسب ہے تُومیرا خط ابن سعد کے پاس لے جا اگروہ مان لے تو اس کی اطاعت کرنا ورنہ تُوسردارِ لشکرہے اور ابن سعد کاسرکاٹ کر میرے پاس بھیج دینا۔‘‘ پھر ابن سعدکولکھا کہ ’’میں نے تجھے حسین کی طرف اس لئے بھیجا تھا کہ توان سے دست کش ہو یاامیددلائے اورڈھیل دے یا ان کا سفارشی بنے،دیکھ! حسین سے میری فرمانبرداری کے لئے کہہ،اگرمان لیں تومطیع بنا کر یہاں بھیج دے ورنہ انہیں اوران کے ساتھیوں کو قتل کر ،اگرتو ہمارا حکم مانے گا توتجھے فرماں برداری کا انعام ملے گا ورنہ ہمارالشکر شمر کے لئے چھوڑدے ۔ ‘‘

          جب شمر نے خط لیا توعبداللہ ابن ابی المحل بن حزام اس کے ساتھ ساتھ اس کی پھوپھی ام البنین بنت حزام مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ کی زوجہ اور پسرانِ مولیٰ علی، حضرت عباس وعثمان وعبداللہ وجعفر کی والدہ تھیں ،اس نے ابن زیاد سے اپنے ان پھوپھی زاد بھا ئیوں کے لئے امان مانگی، اس نے لکھ دی ۔وہ خط اس نے ان صاحبوں کے پاس بھیجا ،انہوں نے فرمایا: ’’ہمیں تمہاری امان کی حاجت نہیں ،ابن سمیہ کی امان سے اللہ تعالٰی کی امان بہتر ہے۔ ‘‘ (الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۴ملخصاً)

{شمر کی ابن سعد کے پاس آمد}

          جب شمر نے ابن سعدکو ابن زیاد بدنہاد کا خط دیا ،اس نے کہا: ’’تیرا برا ہو ، میرا  خیال ہے کہ تونے ابن زیاد کو میری تحریرپرعمل کرنے سے پھیر کرکام بگاڑدیا ،مجھے صلح ہوجانے کی پوری امیدتھی، حسین ہرگز تو اطاعت قبول کریں گے ہی نہیں خداکی قسم! ان کے باپ کادل ان کے پہلو میں رکھا ہواہے ۔‘‘ شمرنے کہا:’’اب توکیا کرنا چاہتا ہے ؟‘‘بولا:’’جو ابن زیاد نے لکھا ۔‘‘ شمر نے عباس اور ان کے حقیقی بھائیوں کو بلا کر کہا:’’اے بھانجو!تمہیں امان ہے ۔‘‘ وہ بولے: ’’اللہ کی لعنت تجھ پراور تیری امان  پر، ماموں بن کر ہمیں امان دیتا ہے اور رسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیٹے کوامان نہیں۔ ‘‘(الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۴ملخصاً)

{خواب میں جدِ کریمصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکی تشریف آوری}

          یہ پنجشنبہ کی شام اور محرم  ۶۱ ہجری کی نویں تاریخ ہے اس وقت سردارِجوانانِ جنت کے مقابلہ میں جہنمی لشکرکوجنبش دی گئی ہے اوروہ مے شہادت کا متوالا ،حیدری کچھار کا شیر ،خیمہ اطہر کے سامنے تیغ بکف جلوہ فرماہے۔آنکھ لگ گئی ہے ،خواب میں اپنے جدِکریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کودیکھا ہے کہ اپنے لختِ جگر کے سینہ پردستِ اقدس رکھے فرما رہے ہیں ’’اللھُمَّ اَعْطِ الْحُسَیْنَ صَبْراًوَّاَجْراً‘‘الٰہی!حسین کو صبرواجرعطا کر۔ اور ارشاد ہوتاہے کہ’’ اب عنقریب ہم سے ملاچاہتے ہو اور اپنا روزہ ہمارے پاس آکرافطارکیا چاہتے ہو ۔‘‘ جوشِ مسرت میں امام کی آنکھ کھل گئی، ملاحظہ فرمایاکہ دشمن حملہ آوری کا قصد کررہے ہیں ،جمعہ کے خیال اور پسماندوں کووصیت کرنے کی غرض سے امام نے ایک رات کی مہلت چاہی، ابن سعد نے مشورہ لیا عمروبن حجاج زبیدی نے کہا: ’’اگر دیلم کے کافر بھی تم سے ایک رات کی مہلت مانگتے تودینی چاہئے تھی ۔‘‘ غرض مہلت دی گئی ۔(الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۵ملخصاً)

{ لشکرامامِ عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف سے مقابلے کی تیاری}

           یہاں یہ کارروائی ہوئی کہ سب خیمے ایک دوسرے کے قریب کردئیے گئے، طنابوں سے طنابیں ملادیں ،خیموں کے پیچھے خندق کھود کر نرکل وغیرہ خشک لکڑیوں سے بھردی۔ اب مسلمان ان کاموں سے فارغ ہوکر امام کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اورامام اپنے اہل اور ساتھیوں سے فرما رہے ہیں :’’صبح



Total Pages: 42

Go To