Book Name:Aaina e Qayamat

دکھانے لگا،دونوں لشکر علیحدہ علیحدہ ٹھہرے۔ (الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۱ملخصاً)

نواسۂ رسول کی شب میں روانگی

          اب مشرقی کنا روں سے اندھیرا بڑھتا آتا ہے اور بزمِ فلک کی شمعیں روشن ہوتی جاتی ہیں ، فضائے عالم کے سیاح اور خداکی آزاد مخلوق پرند چہچہا چہچہا کر خاموش ہوگئے ہیں ،زمانے کی رفتار بتانے والی گھڑی اور عمروں کا حسا ب سمجھانے والی جنتری اسلامی سن کی تقویم جسے قدرت کے زبردست ہاتھ نے عرجون قدیم کی حد تک پہنچادیا ہے ،کچھ اپنی دلکش ادائیں دکھا کرروپوش ہو گئی ،تاریکیوں کا رنگ اب اور بھی گہرا ہو گیا ہے ۔نگاہیں جو تقریباً دو گھنٹے پہلے دنیا کی وسیع آبادی میں دُور کی چیزوں کوباطمینان تمام دیکھتی اورپرکھ سکتی تھیں ،اب یہ تھوڑے فاصلہ پربھی کام دینے میں الجھتی بلکہ ناکام رہ جاتی ہیں اوراگرکچھ نظر بھی آجاتا ہے تو رات کی سیاہ چلمن اسے صاف معلوم ہونے سے روکتی ہے۔ وقت کے زیادہ گزرنے اور بول چال کے موقوف ہوجانے نے سناٹا پیداکر دیا ہے رات اور بھی بھیانک ہو گئی ہے۔شب بیدارستاروں کی آنکھیں جھکی پڑتی ہیں ، سونے والے لنبیاں تانے سورہے ہیں ،نیند کا جادوزمانے پرچل گیا ہے،حرکے لشکر سے نفیرِ خواب بلند ہوئی ہے ،امام جنت مقام جنہوں نے اتنی رات اسی موقع کے انتظار میں جاگ جاگ کر گزاری ہے ،کوچ کی تیاریاں فرما رہے ہیں اسباب جو شام سے بندھا رکھا تھا بار کیا گیا اور عورتوں بچوں کو سوار کرا یاگیاہے۔اب یہ مقدس قافلہ اس اندھیری رات میں فقط اس آسرے پر روانہ ہو گیا ہے کہ رات زیادہ ہے دشمن سوتے رہیں گے اورہم ان سے صبح ہونے تک بہت دور نکل جائیں گے ،باقی رات چلتے اور سواریوں کو تیز چلاتے گزری ۔

{میدانِ کربلا میں آمَد}

          اب تقدیر کی خوبیاں دیکھئے کہ مظلوموں کو صبح ہوتی ہے تو کہاں ،کربلا کے میدان میں ،جل جلالہ ،یہ محرم  ۶۱ھ کی دوسری تاریخ اور پنج شنبہ کا دن ہے ۔عمروبن سعد اپنا لشکر لے کر امام کے مقابلہ پر آگیا ہے ،اس بد بخت کو ابن زیاد بدنہادنے کفار دیلم کے جہاد پر مقرر کیا۔اورفتح کے صلے میں حکومت ’’رے ‘‘ کافرمان لکھ دیا تھا۔ امام مظلوم کی خبر پائی ،بد نصیب کی نیت بدی پر آئی ،بلا کر کہاکہ ’’ ادھر کا قصد ملتوی رکھ ،پہلے حسین سے مقابل ہو ،فارغ ہو کر ادھر جانا۔‘‘کہا: ’’مجھے معاف کرو ۔‘‘کہا :’’بہتر مگر اس شرط پرکہ ہمارا نوشتہ واپس دے ۔‘‘ اس نے ایک دن کی مہلت مانگ کر احباب سے مشورہ کیا،سب نے ممانعت کی اور اس کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے کہا : ’’اے ماموں ! میں تجھے خداکی قسم دیتاہوں کہ حسین سے مقابلہ کرکے گناہ گارنہ ہوگا! ، اللہ  کی قسم! اگرساری دنیا تیری سلطنت میں ہو تواسے چھوڑنا اس سے آسان ہے کہ تُو خداسے حسین کا قاتل ہو کر ملے۔‘‘ کہا: ’’نہ جاؤں گا ۔‘‘مگر ناپاک دل میں تردد رہا، رات کو آواز آئی ،کوئی کہتاہے:     ؎

اَ اَتْرُکُ مُلْکَ الرَّیّ وَالرَّیّ رَغْبَۃ                                                                          اَمْ اَرْجِعُ مَذْمُوْماً بِقَتْلِ حُسَیْنٖ

وَفِیْ قَتْلِہِ النَّارُ الَّتِیْ لَیْسَ دُوْنَہَا                                           حِجَاب  وَ مُلْکُ الرَّیّ قُرَّۃُ عین

           کہا: رے کی حکومت چھوڑدوں !اوروہ بڑی مرغوب چیز ہے یاقتل حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مذمت گوارا کروں اور ان کے قتل میں وہ آگ ہے جس کی روک نہیں اور رے کی سلطنت آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔(الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۲ملخصاً)

      { امامِ مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ  پر پانی بندہونا}

     آخر قتلِ امامِ مظلوم ہی پر رائے قرارپائی ،بے دین نے اَلدِّیْنُ([1])مَزْرَعَۃُ الدُّنْیَا کی ٹھہرائی۔        فرات کے گھاٹوں پر پانسو سواربھیج کر ،ساقی کوثر صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکے بیٹے پر پانی بند کیا۔ایک رات امام نے بُلا بھیجا، دونوں لشکروں کے بیچ میں حاضر آیا ۔دیر تک باتیں رہیں ،امام نے سمجھایا کہ’’ اہلِ باطل کا ساتھ چھوڑ۔‘‘ کہا’’ میراگھرڈھایا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’اس سے بہتر بنوا دوں گا ۔‘‘ کہا ’’میری جائیدادچھن جائے گی ۔‘‘ ارشاد ہوا: ’’اس سے اچھی عطا فرماؤں گا ۔‘‘ (الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۳ملخصاً)

 



[1]    دین دنیا کی کھیتی ہے۔سچ ہے:

                                                                               خدا جب عقل لیتا ہے حماقت آہی جاتی ہے ۔



Total Pages: 42

Go To