Book Name:Aaina e Qayamat

کیاہے؟ ‘‘ عرض کی: ’’ابن زیاد کے پاس حضورکالے چلنا۔‘‘فرمایا: ’’توخداکی قسم!میں تیرے ساتھ نہ چلوں گا ۔‘‘ کہا :’’توخداکی قسم !آپ کو نہ چھوڑوں گا ۔‘‘

          جب بات بڑھی اورحرنے دیکھا امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) یوں راضی نہ ہوں گے اور کسی گستاخی کی نسبت ان کے ایمان نے اجازت نہ دی تویہ عرض کی کہ ’’میں دن بھر تو حضور سے علیحدہ ہونہیں سکتا ،ہاں جب شام ہوتوآپ مجھ سے عورتوں کی ہمراہی کا عذرفرما کرعلیحدہ ٹھہرئیے اوررات میں کسی وقت موقع پا کر تشریف لے جائیے، میں ابن زیاد کوکچھ لکھ بھیجوں گا ۔شاید اللہ تعالٰی وہ صورت کرے کہ میں کسی بے جا معاملہ میں مبتلا ہونے کی جرأ ت نہ کرسکوں۔‘‘      (الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۰۷ملخصاً)

{ کوفیوں کی بے وفائی اور قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر}

          جب عذیب الہجانات پہنچے ،کوفے سے چارشخص آتے ملے ،حال پوچھا ،مجمع بن عبید اللہ عامری نے عرض کی:’’ شہرکے رئیسوں کو بھاری رشوتوں سے توڑ لیا گیا اوران کی تھیلیوں کوروپیوں اشرفیوں سے بھر دیا گیا ہے وہ توایک زبان حضور کے مخالف ہو گئے ۔ رہے عوام ان کے دل حضور(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی جانب جھکتے ہیں اورکل انہیں کی تلواریں حضورپرکھنچیں گی۔‘‘فرمایا:’’میرے قاصد قیس کاکیاحال ہے؟‘‘  کہا: ’’قتل کئے گئے۔‘‘امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) بے اختیارروپڑے اور فرمایا: ’’کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی انتظار میں ہے، الٰہی! ہمیں اور انہیں جنت میں جمع فرما۔ ‘‘

          طرماح بن عدی نے عرض کی:’’آپ کے ساتھ گنتی کے آدمی ہیں اگر حرکی جماعت ہی آپ سے لڑے توکفایت کر سکتی ہے ،نہ کہ وہ جماعت جو چلنے سے ایک دن پہلے میں نے کوفے میں دیکھی تھی ،جوآپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف روانگی کے لئے تیارہے ۔میں نے اپنی عمرمیں اتنی بڑی فوج کبھی نہ دیکھی ،میں حضور کو قسم دیتا ہوں کہ اگران سے ایک بالشت بھر جدائی کی قدرت ہو تو اسی قدر کیجئے اوراگروہ جگہ منظورہو جہاں باذن اللہ تعالٰی آرام واطمینان سے قیام فرما کر تدبیر فرمائیے تومیرے ساتھ کوہ آجاء کی طرف چلیے، واللہ!اس پہاڑکے سبب سے ہم بادشاہان غسان وحمیر اورنعمان بن المنذر بلکہ عرب وعجم کے سب حملوں سے محفوظ رہے۔‘‘ حضور! وہاں ٹھہر کر آجاء اور سلمی کے رہنے والوں کو فرمائیے ،خداکی قسم! دس دن نہ گزریں گے کہ قومِ طیٔ کے سوارو پیادے حاضرخدمت ہوں گے ،پھر جب تک مرضی مبارک ہو ہم میں ٹھہرئیے اور اگر پیش قدمی کاقصد ہو تو بنی طیٔ سے بیس ہزارجوان حضور کے ہمراہ کردینے کامیراذمہ ہے ، جوحضورکے سامنے تلوار چلائیں گے اورجب تک ان میں کوئی آنکھ پلک مارتی باقی رہے گی حضور تک دشمن نہ پہنچ سکیں گے ۔ارشادہوا:’’اللہ تمہیں جزائے خیر دے، ہمارااور کوفیوں کا کچھ قول ہوگیا ہے جس سے ہم پھرنہیں سکتے۔‘‘یہ فرماکر انہیں رخصت کیا ۔

     (الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۰۹ملخصاً)

{امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ  کا خواب دیکھنا}

          امام نے راہ میں ایک خواب دیکھا ،جاگے تو ’’ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون والحمد للّٰہ رب العالمین‘‘ فرماتے ہوئے اٹھے ۔امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: ’’ اے میرے باپ! میں آپ پرقربان ،کیا بات ملاحظہ فرمائی ؟‘‘ فرمایا: ’’خواب میں ایک سوار دیکھا،کہہ رہا ہے، لوگ چلتے ہیں اور ان کی قضائیں ان کی طرف چل رہی ہیں میں سمجھاکہ ہمیں ہمارے قتل کی خبردی جاتی ہے۔‘‘حضرتِ عابد (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) نے کہا: ’’اللہ آپ کوکوئی برائی نہ دکھائے کیا ہم حق پر نہیں۔‘‘ فرمایا: ’’ضرورہیں۔‘‘ عرض کی: ’’جب ہم حق پر جان دیتے اور قربا ن ہوتے ہیں ،توکیا پرواہ ہے۔‘‘فرمایا: ’’اللہ تم کو ان سب جزاؤں سے بہتر جزادے جو کسی بیٹے کوکسی باپ کی طرف سے ملے۔‘‘(الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ احدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۱۱ملخصاً)

{ ابن زیاد کی طرف سے امامِ عرش مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ پر سختی کا حکم}

          جب نینویٰ پہنچے ایک سوارکوفے سے آتا ملا ،اس نے حرکو ابن زیاد کا خط دیا، لکھاتھا: ’’حسین پرسختی کر جہاں اتریں ، میدان میں اتریں ،پانی سے دور ٹھہریں یہ قاصد برابرتیرے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ مجھے خبردے کہ تونے میرے حکم کی کیا تعمیل کی ۔‘‘ حر نے خط پڑھ کر امام سے گزارش کی کہ ’’مجھے یہ حکم آیا ہے میں اس کے خلاف نہیں کرسکتا کہ یہ قاصد مجھ پر جاسوس بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ ‘‘

          زہیر بن قین نے عرض کی:’’خداکی قسم! اس کے بعد جو کچھ آئے گا وہ اس سےسخت تر ہوگا اس گروہ کا قتال ہمیں آئندہ آنے والوں کے قتال سے آسان ہے ۔‘‘ ارشاد  ہوا: ’’ہم ابتدا نہ فرمائیں گے ۔‘‘یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ آفتاب غروب ہو گیا اورمحرم کی دوسری رات کا چانداپنی ہلکی ہلکی روشنی



Total Pages: 42

Go To