Book Name:Aaina e Qayamat

          خدا جانے ان اچھی صورت والوں کی اداؤں میں کس قیامت کی کشش رکھی گئی ہے ،یہ جسے ایک نظردیکھ لیتے ہیں ، وہ ہر طرف سے ٹوٹ کرانہیں کا ہو رہتا ہے۔ پھر یاروں سے یاری رہتی ہے نہ زن وفرزندکی پاسداری ۔آخریہ وہی زہیرتوہیں جو مولیٰ علی(رضی اللہ تعالٰی عنہ )  سے کدورت رکھتے اوررات کو امام سے علیحدہ ٹھہرتے تھے، یہ انہیں کیا ہوگیا اورکس کی ادانے بازرکھاجوعزیزوں کاساتھ چھوڑ،عورت کو طلاق دینے پر مجبور ہوکر بے کسی سے جان دینے اور مصیبتیں جھیل کر شہید ہونے کو آمادہ ہو گئے۔

{ امام مسلمرضی اللہ تعالٰی عنہ  کی شہادت کی خبر}

          اب یہ قافلہ اوربڑھا توابن اشعث کا بھیجا ہواآدمی ملا ،جوحضرت مسلم (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی وصیت پر عمل کرنے کی غرض سے بھیجا گیاتھا ،اس سے حضرت مسلم (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی شہادت کی خبر معلوم ہونے پر بعض ساتھیوں نے امام کوقسم دی کہ یہیں سے پلٹ چلئے ۔ مسلم شہید(رضی اللہ تعالٰی عنہ )  کے عزیزوں نے کہا :’’ہم کسی طرح نہیں پلٹ سکتے ،یاخونِ نا حق کابدلہ لیں گے یامسلم مرحوم (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) سے جاملیں گے ۔‘‘ امام نے فرمایا:’’تمہارے بعدزندگی بے کارہے ۔‘‘پھرجولوگ راہ میں ساتھ ہولئے تھے ان سے ارشادکیا :’’کوفیوں نے ہمیں چھوڑدیا، اب جس کے جی میں آئے پلٹ جائے ،ہمیں کچھ ناگوارنہ ہوگا۔‘‘ یہ اس غرض سے فرمادیا کہ لوگ یہ سمجھ کر ہمراہ ہوئے تھے کہ امام ایسی جگہ تشریف لیے جاتے ہیں جہاں کے لوگ داخلِ بیعت ہو چکے ہیں ، یہ سن کر سواان چند بزرگانِ خداکے جومکہ معظمہ سے ہم راہ رکاب سعادت مآب تھے، سب اپنی اپنی راہ گئے ۔پھر ایک اور عربی ملے،عرض کی کہ ’’اب تیغ وسناں پرجاناہے آپ کو قسم ہے واپس جائیے ۔‘‘ فرمایا:’’جو خدا چاہتا ہے ہوکررہتاہے ۔‘‘      (الکامل فی التاریخ،ذکر مسیر الحسین الی الکوفۃ،ج۳،ص۴۰۳ملخصاً )

 حضرتِ حُر رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی آمَد

          اب امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ  موضع شراف سے آگے بڑھے ہیں۔یہ دوپہرکا وقت ہے،یکایک ایک صاحب نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ،فرمایا:’’کیاہے؟‘‘ کہا:’’کھجورکے درخت نظر آتے ہیں۔‘‘ قبیلہ بنی اسد کے دوشخصوں نے کہا: ’’اس زمین میں کھجورکبھی نہ تھے۔‘‘ فرمایا:’’پھر کیا ہے ؟‘‘ عرض کی:’’ سوارمعلوم ہوتے ہیں۔‘‘ فرمایا: ’’میرا بھی یہی خیا ل ہے، اچھا تویہاں کوئی پناہ کی جگہ ہے کہ اسے ہم اپنی پشت پر لے کر اطمینان کے ساتھ دشمن سے مقابلہ کرسکیں۔‘‘ کہا:’’ہاں ! کوہ ذوحسم ،اگرحضور ان سے پہلے اس تک پہنچ گئے۔‘‘  

          یہ باتیں ہورہی تھیں کہ سوار نظرآئے اورامام رضی اللہ تعالٰی عنہ  سبقت فرما کرپہاڑ  کے پاس ہو لئے ،جب وہ اورقریب آئے تومعلوم ہواکہ حُرہیں جوایک ہزارسواروں پر افسر بناکر امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کوابن زیادبدنہادکے پاس لے جانے کے لئے بھیجے گئے ہیں ،اس ٹھیک دوپہرمیں اصحابِ امام کے سامنے اترے۔ مالکِ کوثر کے بیٹے نے حکم دیا کہ’’ انہیں اور ان کے گھوڑوں کو پانی پلاؤ۔‘‘ ہمراہیانِ امام (رضی اللہ تعالٰی عنہم) نے پانی پلایا۔

          جب ظہرکاوقت ہوا ،امام نے مؤذن کواذان کا حکم دیا،پھران لوگوں سے فرمایا: ’’تمہاری طرف میراآنااپنی مرضی سے نہ ہوا،تم نے خط اور قاصدبھیج بھیج کربلایا، اب اگر اطمینان کا اقرار کرو،تومیں تمہارے شہرکوچلوں ورنہ واپس جاؤں۔‘‘ کسی نے جواب نہ دیا اورمؤذن سے کہا :تکبیر کہو ۔امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) نے حرسے فرمایا:’’اپنے ساتھیوں کو تم نمازپڑھاؤگے؟‘‘کہا:’’نہیں ،آپ پڑھائیں اورہم سب مقتدی ہوں۔ بعدِنماز حر،اپنے مقام پر گئے۔امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ )  نے اللہ تعالٰی کی تعریف کے بعد ان لوگوں سے ارشاد کیا:’’اگرتم اللہ(عزوجل) سے ڈرو اور حق کو اس کے اہل کے لئے پہچانو تو خدا کی رضامندی اسی میں ہے کہ ہم اہلِ بیت ان ظالموں کے مقابلہ میں اُولی الامر ہونے کے مستحق ہیں ، بایں ہمہ اگرتم ہمیں ناپسند کرواورہمارا حق نہ پہچانو اوراپنے خطوں اور قاصدوں کے خلاف ہمارے بارے میں رائے رکھنا چاہو تومیں واپس جاؤں۔ ‘‘

           حرنے عرض کی:’’ واللہ! ہم نہیں جانتے کیسے خط اورکیسے قاصد؟ امام نے دو خورجیاں بھرے ہوئے خط نکال کرسامنے ڈال دئیے۔حرنے کہا:’’میں خط بھیجنے والوں میں نہیں ، مجھے تویہ حکم دیا گیا ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کو پاؤں توکوفہ ،ابن زیاد  کے پاس پہنچاؤں۔‘‘ فرمایا: ’’تیری موت نزدیک ہے اور یہ ارادہ دور۔‘‘ پھر ہمراہیوں کوحکم دیاکہ’’واپس چلیں۔‘‘حرنے روکا۔فرمایا:’’تیری ماں تجھے روئے کیا چاہتا ہے؟ ‘‘  کہا: ’’سنئے !خداکی قسم! آپ کے سواتمام عرب میں کوئی اور یہ بات کہتا تومیں اس کی ماں کو برابرسے کہتاکسے باشد،مگرواللہ!آپ کی ماں کانامِ پاک تو میں ایسے موقع پرلے ہی نہیں سکتا۔‘‘فرمایا:’’آخرمطلب



Total Pages: 42

Go To