Book Name:Aaina e Qayamat

سامنے سے کسی نے پردہ اٹھا کر کچھ ایسا عالم دکھادیا ہے کہ ان کی مقدس نگاہ کواس مبارک منظرکی طرف دیکھنے اورادھر متوجہ ہونے کی فرصت ہی نہیں۔ اوراگر کسی وقت حاجیوں کے جماؤکی طرف حسرت سے دیکھتے اورحجِ نفل کے فوت ہونے پراظہارافسوس بھی کرتے ہیں، توتقدیر،زبانِ حال سے کہہ اٹھتی ہے کہ ''حسین!رضی اللہ تعالٰی عنہ تم غمگین نہ ہواگر اس سال حج نہ کرنے کاافسوس ہے تو میں نے تمہارے لئے حجِ اکبرکاسامان مہیاکیا ہے اورکمر شوق پردامنِ ہمت کا مبارک احرام چست باندھو، اگر حاجیوں کی سعی کے لئے مکہ کاایک نالہ مقرر کیا گیا ہے توتمہارے لئے مکے سے کربلا تک وسیع میدان موجود ہے ۔حاجی اگر زمزم کاپانی پئیں توتمہیں تین دن پیاسارکھ کر شربتِ دیدار پلایا جائے گا کہ پیو تو خوب سیراب ہو کر پیو،حاجی بقرہ عید کی دسویں کو مکہ میں جانوروں کی قربانیاں کریں گے، تو تم محرم کی دسویں کوکربلا کے میدان میں اپنی گودکے پالوں کو خاک وخون میں تڑپتادیکھو گے ، حاجیوں نے مکہ کی راہ میں مال صرف کیا ہے ،تم کربلا کے میدان میں اپنی جان اورعمر بھر کی کمائی لُٹادوگے ،حاجیوں کے لئے مکہ میں تاجروں نے بازارکھولا ہے ،تم فرات کے کنارے دوست کی خاطراپنی دکانیں کھولو گے ۔یہاں تاجرمال فروخت کرتے ہیں، وہاں تم جانیں بیچوگے ،یہاں حاجی خرید وفروخت کوآتے ہیں ،تمہاری دکانوں پرتمہارا دوست جلوہ فرمائے گا،جوپہلے ہی ارشاد کرچکا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-

ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ تعالٰی نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ (پ11،التوبۃ:111)

          غرض ان کیفیتوں نے کچھ ایسا ازخودرفتہ بنا دیا ہے کہ امام عالی مقام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) نے بقر عید کی آٹھویں تاریخ کوفے کاقصد فرما لیا،جب یہ خبر مشہور ہوئی تو عمر بن عبدالرحمن(رضی اللہ تعالٰی عنہ )  نے اس ارادے کا خلاف کیا اور جانے سے مانع آئے،  فرمایا: ’’جوہونی ہے، ہوکررہے گی۔‘‘ عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہما) نے نہایت عاجزی سے روکنا چاہا ،اور عرض کی:’’کچھ دنوں تأ مل فرمائیے اورانتظارکیجئے ،اگرکوفی ابنِ زیاد کو قتل کردیں اوردشمنوں کونکال باہر کر یں توجانئے کہ نیک نیتی سے بلاتے ہیں اوراگروہ ان پرقابض اوردشمن موجود ہیں ہرگزوہ حضور کوبھلائی کی طرف نہیں بلاتے ہیں ، میں اندیشہ کرتاہوں کہ یہ بلانے والے ہی مقابل آئیں گے۔‘‘ فرمایا: ’’میں استخارہ کروں گا۔‘‘عبد اللہ ابن عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہما) پھر آئے اورکہا: ’’بھائی صبر کرنا چاہتا ہوں مگرصبرنہیں آتا،مجھے اس روانگی میں آپ کے شہید ہونے کا اندیشہ ہے، عراقی بدعہد ہیں ،انہوں نے آپ  کے باپ  کو شہید کیا ،آپ کے بھائی کا ساتھ نہ دیا، آپ  اہلِ عرب کے سردار ہیں ،عرب ہی میں قیام رکھئے یاعراقیوں کو لکھئے کہ وہ ابنِ زیاد کو نکال دیں ، اگرایسا ہوجائے تشریف لے جائیے اوراگر تشریف ہی لے جانا ہے تو یمن کا قصد فرمائیے کہ وہاں قلعے ہیں ،گھاٹیاں ہیں وہ ملک وسیع زمین رکھتاہے۔‘‘ فرمایا:’’بھائی خداکی قسم!میں آپ کوناصح مشفق جانتاہوں ،مگرمیں تو ارادۂ مصمم کرچکا۔‘‘ عرض کی:’’ توبیبیوں اور بچوں کوتوساتھ نہ لے جائیے ۔‘‘ یہ بھی منظور نہ ہوا۔

          عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماہائے پیارے!ہائے پیارے!کہہ کررونے لگے۔ اسی طرح عبد اللہ ابن عمرنے منع کیا،نہ مانا،انہوں نے پیشانی مبارک پر بوسہ دے کرکہا:’’اے شہیدہونے والے!میں تمہیں خداعزوجلکوسونپتاہوں۔ ‘‘

          یوہیں عبداللہ ابن زبیر (رضی اللہ تعالٰی عنہما) نے روکا ،فرمایا:’’میں نے اپنے والد ماجد  سے سنا ہے کہ ایک مینڈھے کے سبب سے مکے کی بے حرمتی کی جائے گی، میں پسند نہیں کرتاکہ وہ مینڈھا میں بنوں۔‘‘جب روانہ ہولئے ،راہ میں آپ کے چچازادبھائی حضرت عبداللہ ابن حضرت جعفرطیار(رضی اللہ تعالٰی عنہما)  کاخط ملا، لکھا تھا،’’ذرا ٹھہرئیے میں بھی آتاہوں۔ ‘‘

          حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے عمروبن سعید حاکم مکہ سے امامِ مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے ایک خط ’’امان اور واپس بلانے کا‘‘ مانگا ،انہوں نے لکھ دیا اور اپنے بھائی یحییٰ بن سعید کوواپس لانے کے لئے ساتھ کر دیا ۔دونوں حاضر آئے اور سرسے پاؤں تک گئے کہ واپس تشریف لے چلیں ،مقبول نہ ہوا۔فرمایا:’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کوخواب میں دیکھا ہے اورمجھے ایک حکم دیا گیا ہے ،اس کی تعمیل کروں گا، سرجائے خواہ رہے۔‘‘پوچھا:وہ خواب کیا ہے ؟ فرمایا:’’جب تک زندہ ہوں کسی سے نہ کہوں گا ۔‘‘ یہ فرما کر روانہ ہوگئے ۔ (الکامل فی التاریخ،ذکرمسیرالحسین الی الکوفۃ...الخ،ج۳،ص۳۹۹ ملخصا)

نظم

سب نے عرض کی کہ شہزادۂ حیدر مت جا                              اے حسین ،ابن علی، سبط پیمبر مت جا

 



Total Pages: 42

Go To