Book Name:Aaina e Qayamat

رہو گے اورتمہاری امان کام نہ دے گی ، اگرہوسکے تو اتنا کرو کہ اپنے پاس سے کوئی آدمی امام حسین کے پاس بھیج کرمیرے حال کی اطلاع دے دو کہ وہ واپس جائیں اورکوفیوں کے فریب میں نہ آئیں۔ ‘‘

          جب مسلمرضی اللہ تعالٰی عنہ  ابن زیاد بدنہاد کے پاس لائے گئے ،ابن اشعث نے کہا: میں انہیں امان دے چکا ہوں۔وہ خبیث بولا:’’تجھے امان دینے سے کیا تعلق ؟ہم نے تجھے ان کے لانے کو بھیجا تھا نہ کہ امان دینے کو۔‘‘ ابن اشعث چپ رہے ،مسلم اس شدتِ محنت اور زخموں کی کثرت میں پیاسے تھے ۔ٹھنڈے پانی کا ایک گھڑا دیکھا، فرمایا:’’مجھے اس میں سے پلا دو ۔‘‘ ابن عمروباہلی بولا:’’دیکھتے ہو کیسا ٹھنڈاہے ،تم اس میں سے ایک بوند نہ چکھنے پاؤ گے ،یہاں تک کہ( معاذاللہ )جہنم میں آب ِگرم پیو۔ ‘‘

          امام مسلمرضی اللہ تعالٰی عنہ  نے فرمایا:’’اوسنگ دل! درشت خو!آب حمیم ونارِجحیم کاتو مستحق ہے۔ ‘‘ پھرعمارہ بن عقبہ کو ترس آیا ،ٹھنڈاپانی منگا کرپیش کیا، امام رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے پینا چاہا ،پیالہ خون سے بھر گیا،تین بارایسا ہی ہوا،فرمایا: ’’خداکوہی منظورنہیں۔ ‘‘

          جب ابن زیاد بدنہاد کے سامنے گئے،اسے سلام نہ کیا وہ بھڑکا اور کہا: تم ضرورقتل کئے جاؤ گے ۔ فرمایا:’’ تو مجھے وصیت کر لینے دے۔‘‘ اس نے اجازت دی ۔ مسلم مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے عمروبن سعدسے فرمایا:’’ مجھ میں تجھ میں قرا بت ہے اور مجھے تجھ سے ایک پوشیدہ حاجت ہے۔اس سنگدل نے کہا میں سننا نہیں چاہتا۔ابن زیاد بولا ’’ سن لے کہ یہ تیرے چچا کی اولاد ہیں۔‘‘ وہ الگ لے گیا،فرمایا: ’’ کوفہ میں ،میں نے سات سوروپے قرض لئے ہیں وہ اداکردینا،اوربعدقتل میراجنازہ ابن زیاد سے لیکر دفن کرادینا اورامام حسین (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کے پاس کسی کوبھیج کرمنع کرابھیجنا ۔‘‘ ابن سعد نے ابنِ زیاد سے یہ سب باتیں بیان کردیں۔وہ بولا:’’کبھی خیانت کرنے والے کو بھی امانت سپردکی جاتی ہے‘‘یعنی انہوں نے پوشیدہ رکھنے کوفرمایا،تونے ظاہر کردیں ، اپنے مال کاتجھے اختیار ہے جوچاہے کراور حسین  اگرہماراقصد نہ کریں گے ،ہم ان کانہ کریں گے، ورنہ ہم ان سے باز نہ رہیں گے ،رہامسلم کاجنازہ ،اس میں ہم تیری سفارش سننے والے نہیں ،  پھر حکم پاکرجلادظالم انہیں بالائے قصرلے گیا ،امام مسلم (رضی اللہ تعالٰی عنہ )برابرتسبیح و استغفارمیں مشغول تھے یہاں تک کہ شہید کئے گئے اوران کاسرمبارک یزیدکے پاس بھیجا گیا ۔ (الکامل فی التاریخ،دعوۃ اھل الکوفۃ...الخ،ج۳،ص۳۹۵۔۳۹۷)

امامِ جنت مقام مکہ سے جاتے ہیں

پائی نہ تیغِ عشق سے ہم نے کہیں پناہ

قرب ِحرم میں بھی تو ہیں قربانیوں میں ہم

      ۶۰ھ کا پچھلا مہینہ ہے اورحج کازمانہ،دنیا کے دوردراز حصوں سے لاکھوں مسلمان  وطن چھوڑ کر عزیزوں سے منہ موڑ کر اپنے رب جل جلالہ کے مقدس اور برگزیدہ گھر کی زیارت سے مشرف ہونے حاضرآئے ہیں ،دلوں میں فرحت نے ایک جوش پیدا کردیا ہے ،اور سینوں میں سرور لہریں لے رہا ہے کہ یہی ایک رات بیچ میں ہے صبح نویں تاریخ ہے اور مہینوں کی محنت وصول ہونے ،مدتوں کے ارمان نکلنے کا مبارک دن ہے۔مسلمان خانہ کعبہ کے گرد پھرپھر کر نثار ہورہے ہیں ،مکہ معظمہ میں ہر وقت کی چہل پہل نے دن کوروزِ عید اوررات کو شبِ برأ ت کا آئینہ بنا دیا ہے۔کعبہ کا دلکش بناؤ، کچھ ایسی دل آویز اداؤں کا سامان اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے کہ لاکھوں کے جمگھٹ میں جسے دیکھئے شوق بھری نگاہوں سے اسی کی طرف دیکھ رہا ہے ۔معلوم ہوتا ہے کہ سیاہ پردے کی چلمن سے کسی محبوب دلنواز کی پیاری پیاری تجلیاں چھن چھن کر نکل رہی ہیں ،جن کی ہوش ربا تاثیروں ،دلکش کیفیتوں نے یہ مجلس آرائیاں کی ہیں۔عاشقانِ ِدلدادہ فرقت کی مصیبتیں ،جدائی کی تکلیفیں جھیل کرجب خوش قسمتی سے اپنے پیارے معشوق کے آستانہ پر حاضری کاموقعہ پاتے ہیں ،ادب وشوق کی الجھن ،مسرت آمیز بے قراری کی خوش آئند تصویر ان کی آنکھوں کے سامنے کھینچ دیتی ہے اور وہ اپنی چمکتی ہوئی تقدیرپر طرح طرح سے نازکرتے اور بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں :    

مقامِ وجد ہے اے دل کہ کوئے یارمیں آئے                          بڑے دربار میں پہنچے بڑی سرکارمیں آئے

          غرض آج کا یہ دھوم دھامی جلسہ جو ایک غرض مشترک کے ساتھ اپنے محبوب کے دردولت پرحاضر ہے ،اپنی بھرپور کامیابی پرانتہا سے زیادہ مسرت ظاہر کر رہاہے۔مگر امامِ مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مقدس چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص وجہ سے اس مجمع میں شریک نہیں رہ سکتے یاان کے



Total Pages: 42

Go To