Book Name:Aaina e Qayamat

اے([1]) تماشا گاہ عالم روئے تو

تو کجا بہر تماشا مے روی

            جس قدریہ برکت والاقافلہ نگاہ سے دورہوتاجاتاہے اسی قدرپیچھے رہ جانے والی پہاڑیاں اورمسجدِنبوی کے منارے سر اٹھااٹھا کردیکھنے کی خواہش زیادہ ظاہر کرتے ہیں ، یہاں تک کہ جانے والے نگاہوں سے غائب ہوگئے اورمدینہ کی آبادی پر حسرت بھرا سناٹا چھا گیا ۔

اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین

راستے میں عبد اللہ بن مطیع رضی اللہ تعالٰی عنہ  ملے ،عرض کی:’’کہاں کا قصد فرمادیا؟‘‘ ’’فی الحال مکہ کا۔‘‘عرض کی:’’کوفے کاعزم نہ فرمایا جائے وہ بڑابے ڈھنگاشہر ہے، وہاں آپ کے والدِماجدشہید ہوئے،آپ کے بھائی سے دغاکی گئی ،آپ مکے کے سوا کہیں کا ارادہ نہ فرمائیں ،اگرآپ شہیدہوجائیں گے توخداکی قسم!ہماراٹھکانانہ لگارہے گا،ہم سب غلام بنا لئے جائیں گے۔‘‘ با   لآخرحضورمکہ پہنچ کرساتویں ذی الحجہ تک امن وامان کے ساتھ قیام فرما رہے ۔  (الکامل فی التاریخ ، ذکر الخبر عن مراسلۃ الکوفیین...الخ،ج۳،ص۳۸۱)

کوفیوں کی شرارت اور امامِ مسلم کی شہادت

          جب اہلِ کوفہ کویزیدخبیث کی تخت نشینی اورامام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیعت طلب کئے جانے اورامام کے مدینہ چھوڑ کرمکے تشریف لے آنے کی خبرپہنچی، فریب دہی وعیاری کی پرانی روش یاد آئی۔ سلیمان بن صردخزاعی کے مکان پرجمع ہوئے، ہم مشورہ ہوکرعرضی لکھی کہ تشریف لائیے اورہم کویزید کے ظلم سے بچائیے۔ ڈیڑھ سو عرضیاں جمع ہوجانے پرامام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تحریر فرمایا کہ ’’اپنے معتمدچچازاد بھائی مسلم بن عقیل کوبھیجتا ہوں ،اگریہ تمہارامعاملہ ٹھیک دیکھ کراطلاع دیں گے توہم جلدتشریف لائیں گے ۔ ‘‘

         حضرت مسلمرضی اللہ تعالٰی عنہ  کوفہ پہنچے ،ادھرکوفیوں نے امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور امام کومدد دینے کا وعدہ کیا ،بلکہ اَٹھارہ ہزار داخلِ بیعت بھی ہو گئے اورحضرت مسلم کو یہاں تک باتوں میں لے کر اطمینان دلایا کہ انہوں نے امام کوتشریف لانے کی نسبت لکھا ۔

          ادھریزید پلید کوکوفیوں نے خبر دی کہ حسین نے مسلم  کوبھیجا ہے ۔کوفہ کے حاکم نعمان بن بشیر (رضی اللہ تعالٰی عنہما) ان کے ساتھ نرمی کابرتاؤ کرتے ہیں ، کوفہ کابھلا منظور ہے تواپنی طرح کوئی زبردست ظالم بھیج ۔

          اس نے عبد اللہ ابن زیادکوحاکم بناکرروانہ کیا اورکہاکہ ’’مسلم  کوشہید کر ے یا کوفہ سے نکال دے ۔‘‘جب یہ مردک کوفہ پہنچا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہمراہ اٹھارہ ہزارکی جماعت پائی ،امیروں کودھمکانے پرمقررکیا ،کسی کودھمکی دی، کسی کولالچ سے توڑا۔ یہاں تک کہ تھوڑی دیرمیں امام مسلم کے پاس صرف تیس آدمی رہ گئے۔ مسلم یہ دیکھ کرمسجدسے باہرنکلے کہ کہیں پناہ لیں۔ جب دروازہ سے باہرآئے ،ایک بھی ساتھ نہ تھا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۔ آخر ایک گھر میں پناہ لی۔ ابن زیاد نے یہ خبر پاکرفوج بھیجی،جب امام مسلم  کو آوازیں پہنچیں تلوارلے کراٹھے اوران روباہ منشوں کومکان سے باہرنکال دیا،کچھ دیربعدپھر جمع ہوکرآئے ،شیرِخدا کا بھتیجا پھر تیغ بکف اٹھا اور آن کی آن میں ان شغالوں کو پریشان کردیا،کئی بار ایساہی ہوا جب ان نامردوں کا اس اکیلے مردِ خدا پرکچھ بس نہ چلا، مجبورہوکرچھتوں پرچڑھ گئے پتھراور آگ کے لوکے پھینکنے شروع کئے۔ شیرِمظلوم کا تن ان ظالموں کے پتھروں سے خوناخون تھا،مگروہ تیغِ برکف و کف برلب حملہ فرماتا باہر نکلا،اورراہ میں جوگروہ کھڑے تھے ان پرعقاب ِعذاب کی طرح ٹوٹا۔جب یہ حالت دیکھی، ابن اشعث نے کہاکہ’’آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے لئے امان ہے نہ آپ قتل کئے جائیں نہ کوئی گستاخی ہو ۔‘‘مسلم مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ تھک کردیوارسے پیٹھ لگاکربیٹھ گئے ، خچرسواری کے لئے حاضرہوا، اس پرسوار کئے گئے ،ایک نے تلوار حضورکے ہاتھ سے لے لی ،فرمایا:یہ پہلا مکر ہے۔ ابن اشعث نے کہا:’’کچھ خوف نہ کیجئے ۔‘‘فرمایا: ’’وہ امان کدھر گئی ۔‘‘ پھررونے لگے ۔ ایک شخص بولا: ’’تم جیسا بہادراور روئے !۔ ‘‘فرمایا:’’اپنے لئے نہیں روتاہوں ، رونا حسین اورآلِ حسین کا ہے کہ وہ تمہارے اطمینان پرآتے ہوں گے اور انہیں اس مکرو بدعہدی کی خبر نہیں۔‘‘پھر ابن اشعث سے فرمایا:’’میں دیکھتا ہوں کہ تم مجھے پناہ دینے سے عاجز



[1]    یعنی آپ نظارہ کے لئے کہاں جارہے ہیں جبکہ دنیا کی نگاہیں آپ کے روئے انور پر مرتکز ہیں۔



Total Pages: 42

Go To